مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 3 کشمیریوں کو شہید کر دیا‘ علی گیلانی پھر نظربند‘ حامیوں نے پاکستانی پرچم لہرا دیئے

07 جون 2015

سرینگر (آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بارہمولہ میں 3 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ کشمیر سے آمدہ اطلا عا ت کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے تو تمار گلی میں ایک آپریشن کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی۔ دوسری جانب کٹھ پتلی انتظامیہ نے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو محض چند گھنٹوں کے لیے رہا کرنے کے بعد دوبارہ سے سرینگر میں اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا ہے۔ سری نگر میں ایک بار پھر پاکستان پرچم لہرایا گیا۔ پاکستانی پرچم لہرانے کا یہ نیا واقعہ اس وقت پیش آیا جب حریت رہنما سید علی گیلانی پاسپورٹ بنوانے کے لئے درخواست جمع کرانے سری نگر میں پاسپورٹ آفس گئے۔ اس موقع پر ریلی کے شرکا نے پاکستان پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور وہ کشمیر کو آزاد کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔ علی گیلانی پاسپورٹ آفس گئے جہاں ان کی تصویر اور فنگر پرنٹ لئے گئے۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سکھ نوجوان کی ہلاکت کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے دعویدار طاقت کا سہارا نہ لیں۔ جس بیدردی کے ساتھ عوامی جذبات اور احساسات کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے قابل افسوس ہے ۔ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے سکھ نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوںنے مذکورہ سکھ نوجوان کے اہل خانہ اور پوری سکھ برادری کے ساتھ اس واقعے پر یکجہتی کا اظہار کیا۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ اور نیشنل فرنٹ کے چیئرمین نعیم احمد خان نے بھی سکھ نوجوان کی ہلاکت پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اقلیتوں کے حقوق پر شب خون مارتے ہوئے انہیںزندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کررہی ہے۔ سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن اور دائمی حل ناگزیر ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پہلی بار تحریک طالبان کے پوسٹرچسپاں کردئیے گئے، جن پر ٹیلیکام کمپنیوں، پٹرول پمپوں، کیبل آپریٹروں اور شراب فروخت کرنے والی دکانوں پر حملوں کیلئے خبردار کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور میں تحریک طالبان کے نام سے چسپاں کئے گئے پوسٹرز میں کہا گیا ہے کہ پٹرول پمپ کے مالکان فوجی اور پولیس گاڑیوں کو دوبارہ ایندھن فراہم نہ کریں، پوسٹرز میں بھارتی شوز ٹیلی کاسٹ کرنیوالے کیبل آپریٹرز اور شراب فروخت کرنے والی دکانوں کو بھی فوری بند کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان پر حملے کئے جائیں گے۔ پوسٹرز میں غیر کشمیری مزدوروں کو ملازمت دینے والی کمپنیوں کو اور رہائشیوں کو بھی حملے بارے خبردار کیا گیا ہے۔این این آئی کے مطابق بھارتی فوج نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر عسکریت پسند پاکستان سے داخل ہوئے ادھر پاکستان نے بھارت کی جانب سے دراندازی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری عوام کی صرف اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے۔