داعش کیمیائی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے: آسٹریلوی وزیر خارجہ

07 جون 2015

کینبرا (اے پی پی) آسٹریلیا نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش کیمیائی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی لیشپ نے کہا ہے کہ شدت پسند گروپ ’’اسلامک سٹیٹ‘‘ کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کیلئے تیار ہے اور ممکن ہے کہ اس گروہ کے فنی ماہرین ایسے ہتیھار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سڈنی سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے کہا ہے کہ آسٹریلوی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ شام و عراق میں متحرک انتہاء پسند گروپ ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ (داعش) کیمیاوی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ گزشتہ روز انٹرنیشنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر خارجہ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ گزشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران شام کی حکومت سارن اور کلورین جیسی مہلک زہریلی گیس استعمال کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کی طرف سے بھی ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی اِکا دُکا کوششوں کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ گروہ کیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری کی بڑی خواہش رکھتا ہے۔ جولی لیشپ نے کہا کہ داعش کی طرف سے کلورین گیس کے استعمال اور مغرب سمیت دیگر علاقوں سے اعلی ٹیکنیکل ماہرین کی بھرتیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ داعش کے ہزاروں انتہائی تربیت یافتہ رکن کیمیکل ہتھیار بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اس موقع پر زہریلے کیمیاوی مواد کے پھیلائو کے سدباب کیلئے عالمی ایکشن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسی حقیقت ہے جو عالمی برادری کی کیمیاوی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے خطرات سے چوکنا رہنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ جولی نے داعش سمیت عالمی دہشتگردوں کو دنیا کی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔