نیٹو کیلئے خطرہ ہیںنہ مغرب کو روس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے: پیوٹن

07 جون 2015
نیٹو کیلئے خطرہ ہیںنہ مغرب کو روس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے: پیوٹن

ماسکو ( بی بی سی )روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ان کا ملک نیٹو کے لیے خطرہ نہیں ہے اور کوئی دیوانہ ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ روس اچانک نیٹو پر حملہ کر دے گا۔ اٹلی کے اخبار کوریرہ ڈیلا سرا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ چند ملک لوگوں میں روس کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ’چند ممالک لوگوں میں روس کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جس میں ضمنی فوجی، معاشی، مالی اور دیگر امداد حاصل کرنا شامل ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ روس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے:’ دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور جن لوگوں کے پاس سوج بوجھ ہے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ آج کی دنیا میں وسیع پیمانے پر فوجی تنازع شروع ہو سکتا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے پاس سوچنے کے لیے اور بہت ساری چیزیں ہیں۔ یوکرین کے تنازع میں مداخلت کے بعد مشرقی یورپ کے ممالک کے خدشات کے بعد مغربی اتحاد نے فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔نیٹو روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ یہ مشرقی یوکرین میں حکومت سے برسرپیکار باغیوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ روس اس الزام کی ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔ دو دن پہلے ہی مشرقی یوکرین میں تشدد میں اضافے کے بعد یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا تھا کہ فوج کو روس کی طرف سے ملک پر مکمل طور پر چڑھائی کی صورت میں دفاع کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ صدر پیٹرو پوروشینکو کے مطابق اس وقت مشرقی یوکرین میں نو ہزار روسی فوجی وہاں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے دفاع کے لیے یوکرین کے 50 ہزار فوجی موجود ہیں۔ گذشتہ بدھ کو دونیتسک کے مغربی علاقے میں جھڑپیں ہوئیں جن میں ٹینکوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ اپریل 2014 سے لے کر اب تک مشرقی یوکرین میں 6,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گذشتہ ماہ روسی فوج نے وسیع فوجی مشقیں شروع کیں تھیں جن میں تقریباً 250 جنگی طیارے اور 12 ہزار فوجیوں نے شرکت کی۔ خیال رہے کہ یہ فوجی مشق اسی دن شروع ہوئی جب نیٹو اور اس کے اتحادیوں نے قطب شمالی میں تربیتی مشق کا آغاز کیا۔ یوکرین میں روس کی سرگرمیوں اور مغربی ممالک کے فضائی حدود میں روسی دخل کی وجہ سے مغربی ممالک اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔