کلنٹن فائونڈیشن ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے دور میں تہران کی مالی معاونت میں ملوث رہی ہے: واشنگٹن پوسٹ

07 جون 2015
کلنٹن فائونڈیشن ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے دور میں تہران کی مالی معاونت میں ملوث رہی ہے: واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن (صباح نیوز) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن کی قائم کردہ فلاحی تنظیم "کلنٹن فانڈیشن" ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے دور میں تہران کی مالی معاونت میں ملوث رہی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا یہ دعویٰ ہے "کلنٹن فائونڈیشن" نے بھاری امدادی رقوم کے حصول کے لیے سویڈن کی ان فرموں کے ساتھ تعاون کیا جو ایران میں مختلف شعبوں میں کام کرتی رہی ہیں۔ اس میں سویڈش موبائل فون کمپنی"اریکسن" کا نام لیا جاتا ہے جس کا "کلنٹن فائونڈیشن" کے ساتھ لین دین رہا ہے۔ فائونڈیشن کی انتظامیہ کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ "اریکسن" کی ایران کی کمپنیوں کے ساتھ بھی شراکت داری موجود ہے۔ یوں اس کمپنی نے "کلنٹن فائونڈیشن" کو خاموش رکھنے کے لیے بھاری رقم رشوت میں دی تھی۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ ہیلری و بل کلنٹن فائونڈیشن" کی سویڈش شاخ نے "اریکسن" سے 200 ملین کرون کے عطیات صرف اس لیے حاصل کیے تھے تاکہ فائونڈیشن ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران پرعائد پابندیوں کو نرم کرنے میں مدد فراہم کرے۔ "رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر کی تنظیم کو یہ رقم افریقا میں "ایڈز" کی بیماری کی روک تھام اور ہیٹی میں وبائوں کے انسداد پروگرامات کے لیے دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق سابق صدر بل کلنٹن نے خود بھی چھ ملین کرون کی رقم سویڈش کمپنی سے وصول کی تھی۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم سات لاکھ 50 ہزار ڈالر بنتی ہے۔ "اریکسن" نے یہ رقم صدر کلنٹن کے ہانگ کانگ میں ایک لیکچر کے عوض ایران میں اپنے اقتصادی منصوبوں سے حاصل ہونے والے منافع میں سے ادا کی تھی۔ "وکی لیکس" کی خفیہ دستاویزات کے مطابق ایران اور "کلنٹن فائونڈیشن" کے درمیان بالواسطہ تعلق اور رقوم کی وصولی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری تھا جب ہیلری کلنٹن وزیرخارجہ تھیں لیکن وزارت خارجہ کو اس کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ دوسری جانب سویڈن کی مواصلاتی فرم"اریکسن" نے اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کی اسٹوری کو من گھڑت قرار دے کرمسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کی ترجمان کارین ہلسٹن کا کہنا ہے کہ کلنٹن سینٹر کو دی جانے والی امداد اور ایران پراقتصادی پابندیوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ خیال رہے کہ "اریکسن" ایران کو مواصلات کے شعبے میں انفرااسٹرکچر کے قیام بالخصوص "ایرانسل" اور "رایٹل" نامی کمپنیوں کو موبائل فون کے آلات فراہم کرنے والی بڑی کمپنی شمار کیا جاتا ہے۔ سویڈن کی "فولفو" کمپنی ایران کو کاریں فروخت کرتی رہی ہے۔"اریکسن" پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے سنہ 2009 میں اصلاح پسندوں کی سبز انقلاب تحریک کو ناکام بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے فون کالز اور "ایس ایم ایس" کی مانیٹرنگ کا ایک سافٹ ویئر بھی دیا تھا۔ موبائل سافٹ ویئر کی مدد سے ایرانی پولیس اصلاح پسندوں کے درمیان ہونے والے رابطوں کی نشاندہی کرتی رہی ہے۔