3 جون اور پاکستان زندہ باد

07 جون 2015

پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی تاریخ میں 3 جون کی تاریخ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بابائے قوم حضرت محمد علی جناحؒ نے ریڈیو سے تقریر نشر کی تھی۔ قوم کو تقسیم ہند کا مژدہ سنایا تھا اور بتایا تھا کہ دنیا کے گلوب پر ایک نیا ملک ابھرا ہے جس کا نام ہے پاکستان اور تقریر کے آخرمیں پہلی بار انہوں نے جوش اور ولولے کے ساتھ، جو ان کا خاصا تھا، کہا تھا پاکستان زندہ باد!
اسی دن ہوائوں اور فضائوں میں نقش ہو گیا تھا پاکستان زندہ باد۔ زمین نے بھی سنا تھا، آسمان نے بھی سنا تھا۔ یہ دن 3 جون 1947ء کا تھا جبکہ 14 اور 15 اگست کو باقاعدہ پاکستان وجود میں آ گیا تھا۔ گو کہ تقسیم کہ وقت ہنود اور فرنگی نے انصاف کے ترازو کو جھوک دیا تھا۔ تقسیم میں ڈنڈی ماری تھی۔ ہمارے حصے کے سرمائے کے علاوہ ہمارے حصے کے بہت سے علاقے بھی ہتھیا لئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب بہت سے لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ سر! آپ کے ساتھ دھوکا ہو رہا ہے۔ رک جائیے، شور مچائیے… مگر پاکستان زندہ باد کہنے کے بعد قائداعظمؒ کی بصیرت نے رکنا بالکل مناسب نہیں سمجھا۔ اسی نقشے پر پاکستان زندہ باد کا نشان بنا لیا۔ وہی نقشہ اپنا لیا۔
اس روز پہلی بار جب بابائے قوم اپنی زندہ قوم سے خطاب کرنے لگے تو رفقائے کار نے کہا تھا… نوزائیدہ مملکت کی زبوں حالی اور غیرمنصفانہ تقسیم سے پیدا ہونے والے مسائل پر کوئی بات نہ کیجئے گا کہ خزانہ بھی خالی ہے اور اناج بھی کم ہے۔ لوگوں کا مورال ڈائون ہو گا۔ مگر بابائے قوم نے صاف کہہ دیا کہ پہلی بار میں اپنی قوم سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے خطاب کر رہا ہوں۔ میں اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ غلط بیانی سے کام نہیں لوں گا مبالغہ آمیز گفتگو کے ریشمی لچھوں میں نہیں الجھائوں گا۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ خزانہ خالی ہے اور کام بہت کرنے والے ہیں۔ تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ جب قائداعظم کی تقریر ختم ہوئی تو لوگ جھولیاں بھر بھر کے اپنے اثاثے لے آئے۔ عورتیں زیور لے آئیں کہ خزانہ خالی ہے تو کیا ہوا۔ ہمارے گھر تو بھرے ہوئے ہیں اور ہم اپنی مدد آپ کے تحت خزانہ بھر دیں گے۔ آپ ملک چلائیں۔
ملک چل پڑا تھا۔
کیونکہ سربراہ سچا، باعمل اور باکردار تھا۔
3 جون کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ان نامساعد حالات میں پاکستان بنانے والوں کی بدنیتی نے یہ سوچا تھا کہ ایسا کٹا پھٹا اور لولا لنگڑا پاکستان کب تک چل سکے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا۔ ملک جذبوں سے چلتے ہیں۔ محض بڑھکوں اور نعروں سے نہیں۔
قائداعظم نے ملک کے علاوہ سیاست دانوں کو سیاسی کردار ادا کرنے کا ایک مکمل ایجنڈا دیا۔ قائداعظم کو اس بات کا علم تھا کہ لیڈی ماؤنٹ بیٹن کے پنڈت جواہر لعل نہرو سے روابط ہیں۔ قائداعظم کے رفقائے کار نے انہیں کئی مرتبہ ترغیب دلائی کہ وہ انہیں بدنام کر کے سیاسی فائدہ اٹھائیں۔ مگر قائداعظم نے صاف کہہ دیا میں یہاں سیاست کرنے آیا ہوں کردار کشی نہیں… یہ کہنا کسی عالی ظرف انسان کے اعلیٰ کردار کی نمائندگی کرتا ہے۔ جو عظیم لیڈر وقت کی کتاب میں اپنا نام درج کرواتے ہیں یہ ان کا کام ہوتا ہے۔ مگر آپ دیکھ لیں آج کے لیڈروں کو دائیں کے ہوں یا بائیں گے، آنے والی حکومت اور جانے والی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کرتے کیونکہ پالیسیاں انہوں نے بنائی نہیں ہوتیں۔ وہ کسی بھی روسٹرم پر کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی کردار کشی کرتے ہیں مگر آج کے سیاسی لیڈر اپنے لئے ٹھنڈے اور گرم کمرے تیار رکھتے ہیں۔ چین کی نیند سوتے ہیں۔ جبکہ عام آدمی نہ صرف آرام اور چین سے محروم ہو گیا ہے بلکہ اندریں حالات نفسیاتی مریض بھی بن گیا ہے۔ یہ جو ملک میں آئے دن قتل و غارت، چوری ڈکیتیاں پرس چھینے اور آبرو ریزی کے واقعات تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ یہ لوڈ شیڈنگ، گیس کی کمی، بے محابہ مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں کا نفسیاتی اثر ہے۔ اس ردعمل کو آپ خوشنما تقریروں اور ٹی وی پروگرام سے سہارا نہیں دے سکتے۔ جب تک لیڈر اپنا آرام غارت نہیں کرتا وہ عوام کو آرام نہیں پہنچا سکتا۔ جس سے بات کیجئے وہی برہم ہے۔اس مشق سے لوگوں میں حسد اور بغض پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی بات برداشت ہی نہیں کرتے۔ فوراً خنجر یا گولی نکال لیتے ہیں۔ ذاتی رنجش روسٹرم پر لے آتے ہیں اور ایک دوسرے کے گندے کپڑے سٹیج پر دھونے لگتے ہیں۔
3 جون قائداعظم کے نعرہ مستانہ پاکستان زندہ باد کی وجہ سے زندہ و پائندہ دن ہے۔ اس سال اسی دن یعنی 3 جون 2015 کو اتنے ہی مضبوط لہجے کی یقین و ایمان سے لدی ہوئی ایک اور آواز بھی گونجی تھی جس نے درودیوار کو گہری نیند سے جگا دیا تھا۔ گویا یہ آواز جناب جنرل راحیل شریف کی تھی۔ جنہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے فرما دیا کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان کوکشمیر سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی رائے شماری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ہو گا۔ پاکستان میں کسی کو پراکسی وار لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دشمن کے مذموم ارادوں کو شکست دینا اور دہشت گردی کو جڑ س اکھیڑ پھینکنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ گویا عسکری لیڈر نے اپنے الفاظ اور اپنے لہجے میں پاکستان زندہ باد کہہ دیا۔ ساری قوم ان کی ہم آواز ہو گئی اور کہنے لگی ؎
ہوا ہے تند مگر اپنا دل نہ میلا کر
ہم اس ہوا میں تجھے دور تک صدا دیں گے
اور دعا دیں گے۔
اور دعائیں تو ہم جناب ڈاکٹر ایم اے صوفی صاحب کوبھی دے رہے ہیں جو پاکستان کے خادم صادق اور جناب قائداعظم کے عاشق صادق ہیں۔ یہ ہماری اس بابرکت نسل میں سے ہیں جنہوں نے قائداعظم کا یہ نعرہ اپنے کانوں سے سنا تھا اور اپنے ادراک کی کتاب میں اس لہجے اور اس موسیقی کو سنبھال کر رکھ لیا تھا۔ اب کئی سالوں سے اپنے قائداعظم فورم سے جناب ڈاکٹر ایم اے صوفی ہر سال 3 جون کو کسی خوبصورت مقام پر یہ محفل سجاتے ہیں۔ احباب کے علاوہ نئی نسل کے لوگوں کو جمع کر کے اس خوبصورت دن کے لافانی لمحوں کی تسبیح کرتے ہیں اور سب اہل محفل کو دعوت اظہار خیال دیتے ہیں کہ اپنے پیارے قائداعظم کی یادوں کے موتی پروئیں… اب تو دوسری نسل کے بعد انہوں نے تیسری نسل بھی تیار کرنی شروع کر دی ہے جو قائداعظم کی امانتوں کی امین بن کے سامنے آ رہی ہے۔
اس مرتبہ اس محفل میں جناب جسٹس رفیق تارڑ اور جناب جسٹس منظور حسین بھی شامل ہو گئے اور قائداعظم کی یادوں کو دہرانے والے لمحات جاوداں ہو گئے…
اللہ تبارک و تعالیٰ ڈاکٹر صوفی کو دیر تک سلامت رکھے اور وہ اسی کر و فر سے 3 جون مناتے رہیں۔ آمین!
ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد درویش حق نے جس کو دیے ہیں انداز خسروانہ