’’یار کو ہم نے جا بجا دیکھا ‘‘

07 جون 2015
 ’’یار کو ہم نے جا بجا دیکھا ‘‘

سیاست پر اس قدر لکھا جا تا ہے کہ کبھی لکھتے لکھتے اور پڑھتے پڑھتے دل اکتا ساجاتاہے۔ افسانے ،ڈرامے،ناول لکھنے والے سیاست پر لکھنے والوں سے زیادہ خوش نصیب ہیں۔خود ہی کردار تخلیق کرتے ہیں ،کہانی جوڑتے ہیں ،ان میں رنگ بھرتے ہیں اور اپنی بنائی ہوئی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں ۔ خاص طور پرصنف نازک کی تخیلا تی دنیا سیاست کی خوفناک دنیا سے الگ تھلگ ہوتی ہے۔ ہم نے نہ کبھی افسانے پڑھے ،نہ لکھے اور نہ ناول پڑھنے کا شوق پیدا ہو سکالہذا صنف نازک کی تخیلاتی محسوسات سے صحیح معنوں میں مستفید نہ ہو سکے ۔ کاش ہم بھی کسی محبوبہ کو اس کے محبوب سے ملانے کے لیے لفظوں کا ہنر سیکھ سکتے ۔ہمیں نہ تو صنم کی سمجھ آ سکی اور نہ ہی رضائے یار کا ادراک ہو سکا۔تاریک راہوں میں منزل کو تلاش کرتے کرتے حضرت علی ہجویری کے صحن سے بیت اللہ شریف کے صحن تک پہنچ تو گئے مگر سفر بہت کٹھن تھا۔وہاں سے اٹھے تو نیویارک کے قبرستان میں آ پناہ لی۔شبِ برأ ت آئی اور چلی گئی۔ غروب آفتاب کے بعد ہمیں قبرستان لے گئی۔نیویارک کے قبرستان کی کمیٹی کی جانب سے مسلمانوں کے لیئے شب براء ت پر رات بارہ بجے تک جانے کی اجازت ہے ورنہ غروب آفتاب کے بعد قبرستان جانے کی اجازت نہیں ۔گھن گھور گھٹائوں نے آسمان دنیا کو ڈھانپ رکھا تھا جس کی وجہ سے پندھرویں کا چمکتا چاند سیاہ بدلیوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا۔ ہر طرف تاریکی چھائی ہو ئی تھی۔موسم کی وجہ سے مسلمان مختلف اوقات میں آتے رہے اور اپنی اپنی مرادیںمانگتے رہے۔اس شب ایسا لگ رہا تھا جیسے انعامات کی سیل لگی ہوئی ہے۔رات کی تاریکی کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اپنی گاڑیوں کی لائٹس آن کر لیں تا کہ تلاوت قرآن میں آسانی ہو سکے اور کچھ بارش اور ٹھنڈ میںکھلے آسمان تلے کھڑے ہاتھ اٹھائے آسمان دنیا پر خدا کو تلاش کر رہے تھے۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’ایک رات میں حضور ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پاکر حضور کی تلاش میں نکلی تو میں نے آپ ؐ کو جنت البقیع میں پایا ،آسمان کی طرف حضور ؐ نے سر اٹھایا ہوا تھا ،مجھے دیکھ کر حضور ؐ نے فرمایا ’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے جس قدر بال ہیں ان سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے ‘‘۔(ترمذی) ہم بھی حضور ؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شعبان کی پندھرویں کو قبرستان چلے جاتے ہیں اور حضرت عائشہ ؐ کا قبرستان جانا اور حضور کا ارشاد فرمانا ،ہم جیسے گناہگاروں کو بھی فیضیاب کر گیا۔بھیگی بھیگی رات میں آسمان دنیا کی جانب چہرہ اٹھائے شاہ نیاز بے نیاز کا کلام لبوں پر مچلنے لگا ؎
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا
ان قیمتی گھڑیوں میںٹی وی کے سامنے گھنٹوں لائیو نشریات دیکھنے کی بجائے اگر چند لمحے تنہائی میںگزارلیے جائیں تو تزکیہ روح اور تعلق باللہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔زندگی کی کچھ راتیں اور لمحے ایسے تو ہوںکہ بندے اور مالک کے بیچ کوئی تیسرا حائل نہ ہو۔روبرو معاملات تنہائی میں ہی ہو پاتے ہیں ؎
دید اپنی کی تھی اسے خواہش
آپ کو ہر طرح بنا دیکھا
کسی نے کہا کہ شب برأ ت میںعبادت جائز نہیں تو ہم نے کہا عبادت تو نیک لوگوں کی ہوتی ہے ،گناہگاروں کی تو بندگی ہوتی ہے۔بندگی کے لیئے کوئی وقت مقرر نہیں ،نہ مہینہ، نہ سال،جب دل چاہے بندگی میں سر جھکا دو،مالک کو سامنے پائو گے ؎
دیکھتا آپ ہے سنے ہے آپ
نا کوئی اس کا ماسوا دیکھا
وہ ذات کُن ہے اور بندہ بے بس و لاچار ہے۔ایک کُن کے سامنے بندے کی ساری اکڑ ،جاہ و جلال،شان و شوکت لمحے میں ڈھیر ہو جاتی ہے اور اگر چاہے تو ایک کُن سے بندے کو فرش تا عرش پہنچا دے؎
کہیں ہے بادشاہ تخت نشیں
کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا