برما کے مظلوم مسلمانوں کیلئے بے بسی اور بے حسی

07 جون 2015

برما کے بے گناہ اور بے خبر مسلمانوں پر کیا قیامتیں توڑی گئیں، میں نے سنا ہے تو مجھے سماعت اور قیامت میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔ جنہوں نے دیکھا ہے انہوں نے کیسے دیکھا ہے؟ میں سوشل میڈیا کی جھلک تک آج تک نہیں دیکھ پایا۔ سنا ہے یہ کوئی اور جہان ہے مگر جہان دیگر نہیں ہے۔ مجھے کئی فون آئے۔ کئی دوستوں نے روتے ہوئے کہا کہ آپ مظلوم مسلمانوں کیلئے کیوں نہیں لکھتے۔ میں انہیں کیسے بتائوں کہ میں یہ سب کچھ نہیں لکھ سکتا۔ آج کیسے میں اپنی سب کانپتی ہوئی آرزوئوں اور لرزتے ہوئے ارادوں کو جوڑ کر یہ لفظ کاغذ پر انڈیل رہا ہوں۔ اپنے خون سے لکھنے والی یہ کہانی ہے جو برما کے مظلوم مسلمانوں کا خون ہے۔ اس میں قلم ڈبو کے لکھوں؟ خواتین اور ان کے ننھے منے بچوں کو جس درندگی سے پھانسیاں دی گئیں قیامت سے پہلے یہ منظر قیامت سے بڑھ کے ہیں، تو کب آئے گی قیامت؟ منو بھائی نے ایک لازوال مرتبے کی نظم لکھی تھی، اس میں وہ ظلم و ستم کی باتیں بیان کرتے ہیں اور ہر دو تین اشعار کے بعد یہ مصرعہ آ جاتا ہے اور پوری نظم میں چلتا ہے…
پر اجے قیامت نہیں آئی
تو قیامت کب آئے گی مگر ہم خود بھی تو قیامتوں کے لانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک کردار اپنی کمزوریوں اور جرم ضعیفی کا بھی ہوتا ہے۔ ہم مسلمان بہت زیادہ ہیں جو پچاس سے زیادہ چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں، ہمارے بزدل مفاد پرست حکمرانوں میں کچھ جرات ہوتی، کچھ طاقت ہوتی تو ہمارا یہ حال کیوں ہوتا؟ حکام تو غلام ابن غلام ہیں اور عوام مظلوم، محروم، محکوم اور ہڈحرام ہیں۔ عالم اسلام کا کیا ہو رہا ہے۔ عراق، بحرین، لیبیا، مصر، شام، یمن اور اب سعودی عرب؟ جو حال پاکستان کا ہے بے حال اور بدحال۔ دہشت گردی اور سیاسی غنڈہ گردی نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے۔
عالم اسلام میں پاکستان عشق رسولؐ کے حوالے سے نمبر ون ہے۔ میں اسے خطۂ عشق محمد کہتا ہوں۔ باہر سے کوئی دھمکی ہم پر نہیں چلتی مگر اندر جو دھماکے ہو رہے ہیں وہ کیا ہیں؟ قیامت کا سامنا ہے۔ آج ہر کوئی سپہ سالار اعلیٰ جنرل راحیل شریف کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کے پاس مسلمانوں کو زیروزبر کرنے اور زیر کرنے کے دو ہتھیار ہیں… ایک قرض اور دوسرا جمہوریت۔ یورپ اور امریکہ کی جمہوریت اور ہماری جمہوریت کا کوئی موازنہ ہے…؟ سب سے زیادہ قابل اعتماد دوست چین ہے، کیا وہاں مغربی جمہوریت ہے؟ اپنی جمہوریت جب تک الجھن بنی رہے گی اور نافذ نہیں ہو گی تو یہی حال رہے گا۔ قیامت ہی قیامت؟
برما کے مسلمان اب دربدر ہیں اور کہیں جائے پناہ نہیں ہے۔ کسی اسلامی ملک نے ان کی دستگیری نہیں کی۔ مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے، صرف ترکی نے عملی طور پر کچھ نہ کچھ کیا ہے۔ احتجاج تو کیا جا سکتا تھا، کوئی مظاہرہ… کوئی ریلی! لوگ کوئی جلوس نکالیں، حکمران بھی شامل ہوں، بے شک سکیورٹی سخت کر لیں،ایک معرکہ آرائی ہو گی، اتنے لوگ برما کے مظلوم مسلمانوں کیلئے اکٹھا ہو جائیں۔ مولانا فضل الرحمن نے دعا کروائی۔ وہ برما کے مظلوم مسلمانوں کیلئے دعا ہی کر دیں مگر انداز ایسا ہو کہ یہ آواز مظلوم مسلمانوں تک جائے… اس کے علاوہ ظالم بدھسٹ تک بھی جائے، عالمی ضمیر تک بھی جائے، یہ بھی قیامت ہے جن کے پاس اختیار ہے وہ خرگوشوں کی طرح ڈرے ہوئے ہیں اور سانس بھی آہستہ لے رہے ہیں۔ ہم احتجاج کس کے خلاف کریں۔ اپنوں کے خلاف احتجاج کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس بے بسی اور بے حسی کے امتزاج سے اپنا حکومتی مزاج بنانے والے لوگوں کیلئے احتجاج؟ میرے قبیلے کے سردار، شاعری کے خان اعظم کا شعر عرض ہے جو وزیراعظم کیلئے ہے، ہر ملک کے وزیراعظم کیلئے ہے اور ان کے ووٹرز کیلئے؎
یہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھیں امانتیں کئی سال کی
اپنے شاندار ماضی کی مثالیں دینے والے حال کی یہ مثالیں بھی دیکھیں۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں تو ابھی بچا ہوا ہوں۔ کچھ تو سوچیں کہ برما کے مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور میں ابھی بچا ہوا ہوں، ابھی کو کبھی نہ بنائیں۔ تمام کی باری آئے گی۔ یہ وہ باری نہیں ہے جس کی طرف عمران اشارہ کرتا ہے اور خواجہ آصف ناراض ہو جاتا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو یہ باری تو ضرور آئے گی۔ کوئی لاکھ کہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں مگر وہ مارا جائے گا کہ دشمن انہیں مسلمان سمجھے گا…
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
کمزوری اور بزدلی کی سزا تو ملے گی۔
یہ جو بدھسٹ ہیں عدم تشدد ان کے ایمان میں شامل ہے بلکہ ان کا مکمل ایمان یہی ہے مگر مسلمانوں پر ظلم و تشدد ان کیلئے بھی عین ایمان ہے جن کو پائوں تلے چیونٹی آنے کا بھی ڈر رہتا ہے انہوں نے پائوں تلے مسلمان مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو مسل کر رکھ دیا۔ ایسی ایسی تصویریں سوشل میڈیا پر آئیں کہ دیکھنے والوں کی نیند اڑ گئیں۔ مجھے ایک معروف شاعرہ فاطمہ غزل نے کچھ باتیں بتائیں۔ ہم دونوں رو دیئے مگر ہمارے آنسو نہ نکل سکے۔ ہمیں اب روتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے اور شرم آتی ہے۔
کدھر گیا عالمی ضمیر؟ ذرا سی سختی کسی پر ہو تو پھر سارے جہان پر سختی شروع ہو جاتی ہے… مگر مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ زیادہ بڑا ظلم ہے کہ خبر ہونے کے بعد بھی بے شرموں جیسی بے خبری؟ مسلمان ہونا ایک جرم بن گیا ہے۔ مسلمان انسان تو ہوتا ہے تو کیا انسان ہونا بھی جرم ہے۔ اب جرم اور ظلم میں کوئی فرق نہیں رہا۔ مسلمانوں میں جو مسلمانوں کے خلاف ہیں وہ گریبان میں جھانکیں!
ترکی کا میں نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کچھ غیرت مسلمانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ترکی کی عظیم الشان حکومت عثمانیہ کے آخری دور میں جب ان کی طاقت زوال کے کنارے پر تھی تو بہت ظلم کیا گیا۔ وہ بھی ایک قیامت تھی مگر ایک امید قائم رہی۔ اب ترکی ایک طاقتور ملک ہے، امید اب بھی قائم ہے مگر کیا امید رکھنے کا حق بھی ہمیں ہے؟ حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا…
اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
ہم تو کب سے سحر کے انتظار میں ہیں! یہ بھی اقبال نے کہا ہے مگر اس پر کون غور کرے…
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے وہ بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا