’’فروغِ ملامتی صُوفی اِزم‘‘ کا

07 جون 2015
’’فروغِ ملامتی صُوفی اِزم‘‘ کا

جناب سراج اُلحق جماعتِ اسلامی کے پہلے امیر ہیں جِن کا عوامی انداز مجھے بہت اچھا لگا۔ حالانکہ موصوف نے مرزا غالبؔ کی طرح …
’’ کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور؟‘‘
کا دعویٰ (فی الحال) نہیں کِیا۔
سراج اُلحق اور بڑے حرام خور؟
اپنے تازہ ترین بیان میں جناب سراج اُلحق نے کہا کہ ’’اقتدار میں آ کر بڑے حرام خوروں کو گردنوں سے پکڑ کر اُن سے غریبوں کے غصب شدہ حقوق دلوائیں گے اور لُوٹی ہوئی قومی دولت اُن کے پیٹ پھاڑ کر نکلوائیں گے۔‘‘ امیر جماعتِ اسلامی کے ارادے تو نیک ہیں لیکن کیا غریبوں کے حقوق صِرف بڑے حرام خوروں نے ہی غصب کئے ہیں؟ چھوٹے حرام خوروں نے نہیں ؟۔ اِس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کیا بڑے حرام خوروں نے ابھی تک اپنی لُوٹی ہوئی قومی دولت اپنے اپنے پیٹ میں چُھپا رکھّی ہے؟۔ جناب سراج اُلحق کی خدمت میں استاد جلالؔ کا ایک شعر عرض ہے…
’’ حرام موت نہ مرنے دِیا جُدائی میں
حلال کر چلے تُم کو بڑا ثواب ہُوا‘‘
جناب سراج اُلحق کے انداز خطابت/ سیاست کا فائدہ جماعتِ اسلامی کے ارکان کو یہ ہوتا ہے کہ انہیں لہو گرام رکھنے کا بہانہ مِل جاتا ہے لیکن حرام خوروں کو مکمل اطمینان ہے کہ انتخابی سیاست سے جماعتِ اسلامی آئندہ 2 ہزار سال تک اقتدار میں نہیں آسکے گی لیکن جِن اصحاب کو جناب سراج اُلحق سے عقیدت ہے وہ تو اسی کیفیت میں ہیں کہ؎
’’ میں انتظار کروں گا ، ترا قیامت تک!
خدا کرے کہ قیامت ہو، اور تُو آئے؟‘‘
’’فروغِ ملامتی صُوفی اِزم‘‘ کا بجٹ؟
میاں نواز شریف کی وزارتِ عُظمیٰ کے تیسرے دَور کے وفاقی وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے جناب محمد اسحاق ڈار نے 12 جون 2013ء کو قومی اسمبلی کے ایوان میں نئے مالی سال کا پہلا بجٹ پیش کِیا تو ’’ شاعرِ سیاست‘‘ نے کہا تھا؎
’’ ہے مہنگائی کا ڈر، چُونکہ چُنانچہ
چلے گا کیسے گھر ، چُونکہ چُنانچہ
جنابِ ڈار کی تقریر، واہ واہ
بجٹ اچھا ہے ، پر ، چُونکہ چُنانچہ ‘‘
وزیراعظم نواز شریف کے پہلے دَور کے وفاقی وزیر خزانہ جناب سرتاج عزیز تھے۔ جب انہوں نے 2 جون 1991ء کو قومی بجٹ تحت اُللفظ پڑھا تو حَاضرین و ناظرین بہت بور ہُوئے تھے ۔ اُن کی "Reading" بہت ہی ناگوار تھی۔ مَیں نے تجویز پیش کی تھی کہ آئندہ سال کا ناخوشگوار بجٹ پڑھنے کے لئے جنابِ وزیراعظم کسی خُوش گُلو، گُلوکار کو وفاقی وزیر خزانہ مقرر کردیں‘‘۔ لیکن میری تجویز نہیں مانی گئی۔ 3 جون 2014ء کو جنابِ ڈار نے نون لیگ کی حکومت کا دوسرا بجٹ پڑھا تو مَیں نے اپنی تجویز میں ترمیم کرتے ہُوئے وزیراعظم صاحب سے درخواست کی کہ ’’خواہ عارضی طور پر ہی سہی، قومی بجٹ گلوکاروں سے پڑھا لِیا کریں‘‘۔
5 جون 2015ء کو جناب ڈار نے اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پڑھنا شروع کِیا تو ابتدائی طور پر مجھے مایوسی ہُوئی لیکن جب مسلم لیگ اور اُس کے اتحادی ارکانِ قومی اسمبلی نے ڈار صاحب کو داد دینے کے لئے ’’ڈیسک نوازی‘‘۔ کا شاندار مظاہرہ کِیا تو میری حِسّ موسیقی کو بہت تسکین ہُوئی۔ پروٹوکول کا خول اُتار کر جب جناب وزیراعظم ڈیسک نوازی کا مظاہرہ کرتے ہُوئے دکھائی دئیے تو بہت اچھے لگے۔ وزیر خزانہ جناب ڈار نے جب بے نظیر انکم سپورٹ کا بجٹ بڑھا کر 102 ارب روپے کرنے کا اعلان کِیا تو قائدِ اختلاف سیّد خورشید شاہ اور پیپلز پارٹی کے دوسرے ارکان سے درخواست کی کہ ’’آپ بھی تو ڈیسک بجائیں‘‘۔ انہوں نے ایسا ہی کِیا۔ دراصل ستار نوازی، طبلہ نوازی اور نَے نوازی کی طرح ڈیسک نوازی‘‘۔ سیکھنے کے لئے کسی ماہر موسیقی اُستاد سے تربیت حاصل نہیں کرنا پڑتی۔
ایک حکومتی رُکن قومی اسمبلی کے لڑکپن کے دوست نے پوچھا ’’یارا!۔ تُم ایوان میں اپنے لیڈروں کی تقریروں پر داد دینے کے سِوا کچھ نہیں کرتے؟‘‘ تو اُس نے جواب دِیا کہ ’’کیا کروں کہ ایوان میں بِین اور بانسری لے جانے اور وہاں بجانے کی اجازت ہی نہیں ہے؟‘‘۔ کئی ارکان اسمبلی کی پوری "Term"۔ ڈیسک نوازی میں گُزر جاتی ہے لیکن اُن کے لیڈر کی نظرِ التفات اُس پر پڑتی ہی نہیں۔ جنابِ ڈار کہتے ہیں کہ ’’ہم نے ملکی مُعیشت کی ڈولتی ہوئی کشتی محفوظ کنارے پر پہنچا دی‘‘۔ اگر دو سال کے عرصے میں واقعی ایسا ہُوا ہے تو کمال کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب یہ کشتی کِس کام کی؟ کیا اسے دوبارہ مُعیشت کے سمندر میں ڈالنا ہے۔ محفوظ کنارے پر رکھ کر یادگار کے طور پر اپنے پاس رکھنا ہے یا کسی دوست مُلک کو کرائے پر دینے کا ارادہ ہے؟
44 کھرب اور 51 ارب روپے کے بجٹ میں مزدور کی کم از کم تنخواہ 13 ہزار روپے ماہوار مقرر کردی گئی ہے۔ اگر کوئی نیک دِل آجر اپنی خوشی سے مزدور کی تنخواہ ایک لاکھ 13 ہزار روپے ماہوار مقرر کردے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ دودھ، دہی، منرل واٹر، مشروبات، مکھن، دیسی گھی اور فلیورڈ ملک کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں کہ 13 ہزار روپے ماہوار کمانے والا مزدور تو اِس طرح کی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ حکمرانوں اور حکومت سے باہر وی آئی پِیز کی قیمتی جانوں کی حفاظت کے لئے بلٹ پروف گاڑیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات مُلک اور قوم کے مفادات میں ہے اور بیرون ملک سرکاری خرچ پر اُن کا اور اُن کے اہلِ خانہ اور ملازمین کا علاج بھی۔
9 جون 2014ء کو راولپنڈی میں انٹرنیشنل میلاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے جناب محمد اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ’’مجھے حضرت داتا گنج بخشؒ نے "On Deputation" وزیر خزانہ بنا کر اسلام آباد بھیجا ہے۔‘‘ اگرچہ ڈار صاحب اپنا یہ دعویٰ سچ ثابت نہیں کر سکے کیونکہ لاہور میں دربار حضرت داتا صاحبؒ سے تو ہر وقت بھوکوں کو کھانا کِھلایا جاتا ہے لیکن ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بعد حالات ’’صُوفی اِزم‘‘ کے فروغ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک فارسی ضرب اُلمِثل ہے کہ ’’خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است‘‘۔ یعنی ’’کھانا زندہ رہنے اور عبادت کرنے کے لئے ہے ‘‘۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’کم کھانے، کم بولنے اور کم سونے والا شخص ولی ہوتا ہے‘‘۔ اگر مہنگائی اِسی طرح بڑھتی رہی تو لوگ کم کھائیں گے۔ کم کھائیں گے تو کمزور ہونگے۔ کمزوری کی وجہ سے کم بولیں گے اور انہیں نیند بھی کم آئے گی۔ تو کیا انہیں ’’ولایت‘‘ گھر بیٹھے بٹھائے نہیں مِل جائے گی؟۔
صوفیوں کا ایک طبقہ جو دینی اور دنیاوی تعلقات سے آزاد ہوتا ہے اور عبادت کو چھپانے کی کوشش کرتا اور اسرارِ الٰہی ظاہر کرتا ہے۔ ’’ملامتی صوفی‘‘ کہلاتا ہے‘‘۔ قصور کے بابا سیّد بُلّھے شاہ کو ملامتی صوفی کہا جاتا ہے۔ جنابِ اسحق ڈار، ’’دِینی اور دُنیاوی معاملات‘‘ میں چاق و چوبند ہیں۔ شکل و صورت سے بھی اپنی طرز کے ’’ملامتی صُوفی‘‘ ہی لگتے ہیں اِس لئے کہ غریب غُربا کی طرف سے اُن کے پیش کردہ تیسرے بجٹ پر اُن کی پہلے سے زیادہ ملامت کی جا رہی ہے ۔ اِس لحاظ سے اُن کے بجٹ کو ’’ملامتی صُوفی کا بجٹ‘‘ ہی کہا جائے گا جو ’’ملامتی صُوفی اِزم‘‘ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔