بجٹ کی آڑ میں چیزیں مہنگی نہیں کرنے دینگے : اسحاق ڈار ....سیاستدان چارٹر آف اکانومی کیلئے آگے آئیں امیروں پر ٹیکس لگائے‘ غریب پر بوجھ نہیں ڈالا

07 جون 2015

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس ملک کی محض 200 کمپنیوں یا افراد پر لگا ہے جس سے 20 سے22, ارب روپے حاصل ہوں گے جو آئی ڈی پیز کیلئے ہیں۔ وفاقی بجٹ غریب دوست ہے۔ بجلی کا سرکلر ڈیٹ بجٹ کا حصہ نہیں ہوتا۔ بجٹ کی آڑ میں اشیاءضروریہ کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ منرل واٹر‘ گھی‘ ہائی سپیڈ ڈیزل‘ سیمنٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا اور نہ کم سے کم پنشن 13 ہزار روپے کی ہے۔ بجٹ میں بہتری لانے کی تمام تجاویز کا خیرمقدم کیا جائیگا۔ وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کی تقریر کے بعد باہر نکلا تو اطلاع ملی کہ ایک ٹی وی چینل نے گلگت بلتستان کیلئے گندم پر سبسڈی ختم کرنے کی خبر دی ہے جو افسوسناک ہے۔ گلگت بلتستان میں انتخابات ہورہے ہیں‘ گندم پر یہاں بجٹ میں 6.5 بلین کی سبسڈی دی ہے۔ کھاد کی قیمتوں کے حوالے سے بھی کنفیوژن پیدا کیا گیا۔ صنعت کی تجویز پر ہول سیل 0.7 ٹیکس کیا گیا جس کا مجموعی اثر ویسے ہی ہے جیسے پہلے تھا۔ ہائی سپیڈ ڈیزل آئل اور فرنس آئل پر پہلے ہی آر ڈی ٹیکس ہے جس کو باقاعدہ بنایا گیا ہے۔ نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ پورٹ لینڈ سیمنٹ پر کسٹمز ڈیوٹی لگی کیونکہ پاکستان کی صنعت سیمنٹ بنا رہی ہے۔ کچھ لوگ ملک میں سیمنٹ کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔ مقامی سیمنٹ کی قیمت پر کوئی فرق نہیں پڑیگا‘ ملکی صنعت کو تحفظ دیا گیا۔ دودھ کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا‘ صرف پیکٹ میں دہی، پنیر پر ٹیکس لگایا۔ موبائل فون پر ساڑھے تین سو روپے کی ریگولیٹری ڈیوٹی تھی جس کو کم کر کے 300 روپے کیا گیا ہے۔ اس طرح 50 روپے ڈیوٹی میں کمی کی گئی۔ کم سے کم تنخواہ کو بڑھایا ہے‘ جو 13 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ کم سے کم پنشن کو 13 ہزار روپے نہیں کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کے دو ایڈہاک کے الا¶نس بنیادی تنخواہ میں شامل کئے ہیں۔ اس سے ملازمین کو 11 سے 14 فیصد تک اضافہ ملے گا۔ انہوں نے کہا سیاسی رہنما¶ں نے سوالات اٹھائے ہیں کہ غریبوں کیلئے کچھ نہیں ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو 102 ارب روپے تک لے گئے ہیں۔ بیت المال‘ پی ایم یوتھ سکیم غریبوں کے لئے ہے‘ تنخواہ دار طبقہ کیلئے ٹیکس کم کیا ہے۔ شہداءکی بیوا¶ں کو سہولت دی ہے۔ سولر ٹیوب ویل لگانے سے بچت ہو گی۔ سولر ٹیوب ویل لگانے کیلئے ایک لاکھ خریدار اور باقی بنک دیں گے۔جس کا سود حکومت دیگی۔ لائیو سٹاک انشورنس کی سکیم بھی بڑے لوگوں کیلئے نہیں۔ روزگار بڑھانے اور جی ڈی پی گروتھ بڑھانے کیلئے بھی کوششیں کی گئی ہیں۔ تعمیراتی صنعت کو سہولت دی ہے۔ اس سے 16 منسلک صنعتیں چلتی ہیں۔ خیبر پی کے کیلئے پیکیجز دیئے ہیں جس کا فائدہ عوام تک آئے گا۔ 20 سے 25 لاکھ کے قریب روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ امیر آدمی کا بجٹ نہیں ہے‘ بجٹ میں صاحب ثروت اور امیر لوگوں پر بوجھ ڈالا گیا۔ غریب پر ٹیکس لاگو نہیں کئے۔ کیپٹل گین ٹیکس بھی امراءکیلئے ہے۔ ”سپر ٹیک“ کے دائرے میں بمشکل 200 ٹیکس گزار آتے ہیں۔ ہمیں آئی ڈی پیز کیلئے 80 ارب روپے چاہئیں‘ اس ٹیکس سے 20 سے 22 ارب روپے ملیں گے۔ بجٹ غریب دوست ہے۔ خیبر پی کے کے وفود ملے تھے اور صوبے کے مسائل پیش کئے۔ وزیراعظم کی منظوری سے بجٹ میں پیکیج کو شامل کیا گیا‘ ہمیں سیاست سے بالا ہوکر فیصلے کرنا چاہئیں۔ خیبر پی کے کے لوگ ہمارے بھائی ہیں‘ ہمیں فائلرز اور نان فائلرز میں امتیاز کرنا ہو گا۔ نان فائلرز کیلئے ہر طرح کی ٹرانزیکشن پر ٹیکس لگایا ہے۔ ان کو اب ٹیکس نیٹ میں آنا پڑے گا۔ بجلی میں نیپرا نے نیا ٹیرف بنایا ہے۔ ان کے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق سبسڈی کی رقم رکھی ہے‘ ہم نے ٹیرف نہیں بڑھایا۔ حکومت براہ راست ٹیکسوں میں 3 فیصد کی بہتری لائی ہے۔ بجٹ کے بیشتر اقدامات براہ راست ٹیکسوں کے زمرے میں آتے ہیں‘ میڈیا ماحول بنائے‘ ہم ساری ایگزامشنز ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے شیڈو بجٹ کی بات کی ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ معاشی میثاق یا روڈ میپ بنا لیا جائے تو یہ بہتر ہو گا۔ ہم سب کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر میں سب بڑے ہیں ‘ جہانگیر ترین بھی ان میں شامل ہیں۔ حکومت سندھ کو چاہئے کہ بس مافیا کو شکست دے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ 2605 کا ہدف پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔ سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مردم شماری مارچ 2016ءمیں ہو گی۔ بجٹ کی آڑ میں چیزوں کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سرکلر ڈیٹ 270 بلین روپے ہے۔ سپر ٹیکس 500 ملین سے زائد کی آمدن پرہے۔ آمدن کے ذریعہ کوئی بھی ہو اس پر یہ ٹیکس لگے گا۔ بجٹ میں بجلی، گھی، چینی، دودھ مہنگے نہیں کئے، چھوٹے کسانوں کو سولر ٹیوب ویلز کے لئے خصوصی قرضے دیں گے۔ ساڑھے 12ایکڑ سے کم زمین والوں کو سولر پینل دئیے ہیں۔ صباح نیوز کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کشکول پر یقین نہیںرکھتے، اپنے وسائل سے سکیورٹی کی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ میڈیا ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے ، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں 20سے 25لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بھی خبریں بے بنیاد ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کسی نے دودھ کی قیمت بڑھائی تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔ عام صارفین کے زیر استعمال موبائل فونز مہنگے نہیں ہوں گے ۔ صرف مہنگے ترین موبائل فونز پر 300 روپے اضافی وصول کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا۔ وفاقی سیکرٹریوں کی تنخواہیں نہیں بڑھیں۔ انہوںنے کہا کہ بجلی کے لئے سبسڈی نیپرا کی ڈیمانڈ کے مطابق بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ اگر پیسے نہیں ہوں گے تو ادھارلینا پڑے گا۔ ہم ادھار نہیں لیںگے۔ اس سال قرض کو مزید کم کریں گے۔ کراچی میں گرین لائن بس سروس کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں مشکلات سے نہیں گھبرانا چاہئے اس منصوبے میں تین لائنیں ہوں گی۔ ایک حکومت سندھ ، ایک پرائیویٹ شعبہ اور ایک کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی ۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی فلاح کے لئے رکاوٹوں کو دور کرے وفاقی حکومت نے کراچی میں پانی کے لئے 4ارب رکھے ہیں جبکہ کچھ پیسے سندھ حکومت کودیئے بھی جاچکے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 11فی صد ا ضافہ بھی کرسکتی تھی لیکن ایسی صورت میں میڈیکل الاﺅنس میں اضافہ نہ ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ دفاعی بجٹ متعلقہ اداروں کی مشاورت سے بنایا گیا نیکٹا کی ضروریات کے حوالے سے رقم وزارت داخلہ کے بجٹ میں رکھی گئی ۔ این این آئی کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے مختلف طبقات کی جانب سے بجٹ دستاویزات پر تنقید مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی بجٹ امیروں کا نہیں غیریبوں کا بجٹ ہے ¾ غریبوں کے استعمال کی کوئی چیز مہنگی نہیں کی گئی۔ انہوںنے پنشن کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کے بعض حصوں میں کم از کم اجرت کے ساتھ پنشن کی کم از کم حد بھی 13000 روپے رکھ دی گئی ہے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ فوری طورپر 6000 سے 13000 روپے کرنے ممکن نہیں پنشن میں ساڑھے فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار