اکائونٹنٹ کا بنایا بجٹ مسترد، غریبوں کو مخض دعائوں پر چھوڑ دیا گیا : زرداری

07 جون 2015

کراچی (آن لائن) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے نئے مالی سال کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اُسے غریب دشمن، کسان دشمن اور سرکاری ملازمین دشمن بجٹ قرار دیا ہے جو وسائل اور مواقع کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کی جانب ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے میں بھی ناکام ہے۔ سابق صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا تیسرا بجٹ ایک اکائونٹنٹ کا بنایا ہوا ہے جس میں امیروں کیلئے مراعات دی گئی ہیں جبکہ غریبوں کو دعائوں پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین خاص طور پر کم تنخواہ دار ملازمین اس بجٹ سے بہت مایوس ہوئے ہیں، کسان بھی پریشان ہوئے ہیں اور مزدور طبقہ حکومت کی جانب سے انکی مشکلات نہ سمجھنے پر مایوس ہے۔ حکومت بین الاقوامی طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کو غربت کے خاتمے کیلئے اور کسانوں کو سہولتیں مہیا کرنے میں ناکا م ہوگئی ہے۔ سابق صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سابق صدر نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ 28 مئی 2015ء کو آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان چین معاشی راہداری کو ترجیحی بنیادوں پر بنایا جائیگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنے اس وعدے سے مُکر گئی ہے۔ حکومت نے پاک چین راہداری کے مغربی روٹ کیلئے جوکہ کے پی کے، بلوچستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں سے گزرتی ہے کیلئے پی ایس ڈی پی میں بہت کم رقم مختص کی ہے جو کہ ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ سابق صدر نے حکومت سے کہا کہ وہ اس بارے وضاحت کرے اور اس راہداری کو متنازعہ ہونے سے بچایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی خاموشی سے بے نظیر پروگرام کے وسیلہ روزگار اور وسیلہ حق پروگراموں کو بند اور غریب لوگوں کو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرکے اپنے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے مواقع سے محروم کردیا گیا ہے۔دریں اثنا آصف زرداری نے روہنگیاں مسلمانوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر فوری توجہ دے۔ حکومت سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے۔