بلا ول کی واپسی، پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ اپنا سکتی ہے

07 جون 2015
بلا ول کی واپسی، پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ اپنا سکتی ہے

اسلام آباد (ابرار سعید/ نیشن رپورٹ) بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی کے بعد پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مفاہمانہ اور دوستانہ برتائو میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے اور آنے والے دنوں میں ملک میں سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہورہی ہے، پارلیمانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کیلئے کڑا وقت لانے کی تیاری کررہی ہے خاص طور پر حالیہ بجٹ اور اقتصادی راہداری جس پر مسلم لیگ ن کو اپنا مؤقف ماننے پر مجبور کیا گیا تھا پیپلزپارٹی حکمران پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتی ہے، ذرائع کے مطابق بلاول پارٹی کے ان رہنمائوں کے زیراثر ہیں جو پارٹی معاملات کو جارحانہ انداز میں چلانے کے حامی ہیں اور پارٹی کو اسی بنا پر مقبول بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، ان کے مطابق مفاہمت کی پالیسی سے پارٹی کو بالخصوص پنجاب میں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، پیپلزپارٹی کو حکمران جماعت سے کراچی آپریشن پر بھی شدید اختلافات ہیں اور متعدد بار شکایات کے باوجود مسلم لیگ ن کی حکومت نے پی پی کے تحفظات دور نہیں کئے، پارٹی ذرائع کے مطابق قائم علی شاہ سندھ کے علامتی وزیراعلیٰ کے طور پر کام کررہے ہیں اور کراچی آپریشن سے متعلق امور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں بعض اوقات قائم علی شاہ کو بھی میڈیا کے ذریعے ہی کسی پیش رفت کا علم ہوتا ہے، مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنما اس تمام صورتحال سے آگاہ ہیں اور انہوں نے بلاول بھٹو کو پنجاب میں خوش آمدید کہنے اور سیاسی مہم چلانے کیلئے سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق امکان ہے نواز شریف نے گورنر سندھ عشرت العباد کو ہٹانے کے حوالے سے شہباز شریف کو خصوصی طور پر سندھ بھیجا تھا جس کا مقصد قائم علی شاہ کو اعتماد میں لینا تھا اور نواز شریف اس حوالے سے آصف علی زرداری کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

اپنا اپنا سچ

بے حد جھوٹے شخص سے خلق خدا تنگ آگئی، تو گائوں بدر کر دیا ۔ دوچار مہینے اِدھر ...