غلط کوریج، میڈیا کو ذمہ دار قرار دینے پر اسحاق ڈار اور صحافی میں تلخ کلامی

07 جون 2015

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بجٹ کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر غلط کوریج کے حوالے سے بار بار صحافیوں کو ذمہ دار قرار دینے پر پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مقامی اردو روزنامہ کے صحافی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ حسب معمول تاخیر سے آئے اور اسکا جواز دیا کہ گورنر اور دوسرے مہمان آئے ہوئے تھے۔ اسکے بعد انہوں نے بعض اخبارات اور نیوز چینلز کا نام لئے بغیر غلط کوریج کی نشاندہی شروع کر دی۔ اس پر صحافی نے کہاکہ بجٹ کی وضاحت دینے والا کوئی نہیں ہوتا تو گلہ کیوں کر رہے ہیں۔ اس دوران وزیر خزانہ اور صحافی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیر خزانہ نے حکم دیا کہ صحافی کو باہر نکال دیں، اس پر صحافیوں میں شدید ردعمل ہو گیا اور تمام صحافی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور بائیکاٹ کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تاہم وزیر خزانہ نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپ لیا اور کہا کہ دوستوں میں غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے صحافی نے اسحاق ڈار سے الفاظ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ایک نیوز چینل کے جرنلسٹ نے وزیر خزانہ سے کہا کہ بجٹ کی غلط کوریج کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہوتی ہے جس نے گزشتہ دو سال سے بریفنگ بند کر رکھی ہے جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ سال سے دوبارہ بریفنگ شروع کر دی جائیگی۔ وزیر خزانہ کی برہم مزاجی کے باعث اقتصادی سروے کی لانچنگ کے دوران بھی بائیکاٹ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔