’’آپریشن بلیو سٹار کی برسی ‘‘ دربار صاحب امرتسر میں خالصتان زندہ باد کے نعرے، تصادم،45 افراد گرفتار

07 جون 2015

لاہور+ امرتسر (سپیشل رپورٹر+ نیوز ڈیسک) 6 جون 1984ء کو بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی ایما پر امرتسر میں دربار صاحب گولڈن ٹمپل پر بھارتی فوج کی چڑھائی اور سکھ رہنما سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ سمیت ہزاروں سکھوں کے قتل عام کی 31 ویں برسی پر گزشتہ روز امرتسر اور لاہور سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں سکھ برادری نے بھارتی سامراج کیخلاف مظاہرے کئے۔ لاہور میں پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا اور الحمرا ہال کے سامنے آپریشن بلیو سٹار میں سکھوں کے قتل عام کے خلاف مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بھارتی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرے میں خواتین بچوں سمیت سکھ برادری کی بڑی تعداد شریک تھی اور ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ احتجاج کے دوران سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے عہدیداروں نے صوبائی وزیر انسانی حقوق طاہر خلیل سندھو کو مذمتی یادداشت پیش کی۔ صوبائی وزیر نے سکھ برادری کو یقین دہانی کرائی کہ ان پر ہونیوالے ظلم کے خلاف حکومت اقوام متحدہ میں آواز اٹھائے گی۔ مال روڈ پر مظاہرہ کے دوران ٹریفک بند رہی جبکہ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ کمیٹی کے پردھان سردار شام سنگھ نے کہا کہ 31 سال پہلے اسوقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے حکم پر بھارتی فوج نے سکھ مذہب کے مقدس ترین مقام سری دربار صاحب امرتسر پر دھاوا بول دیا۔ دنیا بھر میں سکھ برادری ریاستی دہشت گردی کی اسطرح کی کارروائی کو کبھی بھی بھلا نہیں سکتی۔ سردار میش سنگھ ممبر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بھارتی فوج نے گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں موجود معصوم بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا۔ سردار پال سنگھ چاولہ جنرل سیکرٹری پی ایس جی پی سی نے کہا کہ سنت بھنڈرانوالہ ہی ہمارے لیڈر ہیں۔ سردار جنم سنگھ نے کہا کہ جون اور نومبر 1984ء کے قتل عام کا سکھ قوم کو کبھی انصاف نہیں ملا۔ سردار مندر سنگھ کا کہنا تھا کہ آج بھارت میں سکھ قوم کو مٹانے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف دربار صاحب گولڈن ٹمپل امرتسر کے احاطے میں سینکڑوں سکھ نوجوان کرپانیں لہراتے ہوئے اکائی تخت کے گرد جمع ہوئے اور خالصتان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ واضح رہے کہ اکال تخت کے گولڈن ٹمپل میں سانحہ 84ء کی 31 ویں برسی کے حوالے سے صبح تقریب ہوئی جس میں سینکڑوں سکھ مرد و خواتین شریک ہوئے۔ تقریب کے بعد دوپہر کو غصے میں بپھرے نوجوان کرپانیں لہراتے ہوئے صحن میں جمع ہو گئے اور خالصتان زندہ باد کے نعرے لگانے لگے جس پر شرومنی گودروارہ پربندھک کمیٹی کے حکام نے انہیں روکا تو انکا احتجاج کرنیوالے سکھ نوجوانوں سے تصادم ہو گیا جس میں 2 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے 45 نوجوانوں کو گرفتار کرکے تھانے میں منتقل کردیا۔ پولیس نے گرفتاری سے پہلے گولڈن ٹمپل سے باہر آنیوالے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ لوگ دربار صاحب کے گرد دکانیں زبردستی بند کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ ’’دلی خالصہ‘‘ نامی تنظمی نے ہفتہ کے روز سانحہ گولڈن ٹمپل کی برسی پر پنجاب بھر میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ امرتسر میں مکمل شٹرڈائون ہڑتال رہی اس سے قبل امرتسر پولیس نے شیوسینا کے 10 کارکنوں کو بھی گرفتار کیا تھا جو جلیانوالہ باغ کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے اور انکا دل خالصہ کے کارکنوں سے تصادم کا خطرہ تھا اکالی تخت کے سربراہ گیانی گوریچن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم آپریشن بلیوسٹار میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دئیے گئے زخم کبھی نہیں بھولیں گے۔