سیاسی جماعتیں لکھ کر دیں، خیبر پی کے میں دوبارہ الیکشن کرانے کو تیار ہیں مگر وہ ایسا نہیں کریں گی: عمران خان

07 جون 2015

منڈی بہائو الدین (آن لائن+ آئی این پی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر سیاسی جماعتوں سے کہاکہ وہ لکھ کردیں دوبارہ انتخابات کیلئے تیارہیں، تاہم چیلنج کرتا ہوں کہ یہ لوگ ایسا نہیں کریں گے۔ خیبر پی کے میں پولیس کو ٹھیک کرکے 70 فیصد جرائم ختم کئے، تحریک انصاف ہرجگہ موجود ہے، پیپلز پارٹی سندھ، مسلم لیگ (ن) پنجاب تک محدود ہوگئیں، گلگت سے کراچی تک ایک پاکستان بنائیں گے اور فرقہ واریت کا خاتمہ کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آبادکے میٹروبس منصوبے پر 60 ارب روپے خرچ کردیئے گئے، تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، اڑھائی کروڑپاکستانی بچے سکولوں سے باہر ہیں، مسلم لیگ (ن) نے پیسہ میٹرو پرخرچ کردیا، مغرب میں حکومتیں تعلیم پر پیسہ زیادہ خرچ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے میں بلدیاتی الیکشن کرائے، مسلم لیگ (ن) اور پی پی نے کبھی بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے، طاقت نچلی سطح پر منتقل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ 26 سال قبل عمران خان کرکٹ ٹیم کاکپتان تھا۔ میں نے بھارتی کھلاڑی سری کانت کو آؤٹ ہونے کے بعد دوبارہ باری لینے کو کہا اور اسے آؤٹ کرکے میچ جیتا۔ میں آج خیبرپی کے میں بھی الیکشن ہارنے والوں کو کہتا ہوں کہ پھرسے میچ کھیل لو۔ ان جماعتوں نے اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف جب کرکٹ کھیلتے تو بھی اپنے امپائرکھڑے کرکے کھیلتے تھے۔ میاں صاحب کو چارحلقے کھولنے کا کہا لیکن انہیں پتہ تھا کہ دال میں کالا ہے۔ انہوںنے کہا کہ 11 کروڑپاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، حکمرانوں کا سارا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہے، ہم بیرون ملک سے پاکستانیوں کاپیسہ واپس لائیں گے۔ انہوں نے کہا پنجاب میں پولیس کوتباہ کردیاگیا، خیبرپی کے کی پولیس غیرسیاسی ہے ، جو ایک وزیرکوبھی گرفتارکرسکتی ہے۔ قبل ازیں بنی گالہ اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بجٹ کے ذریعے ہمیشہ غریب کو مزید غریب کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے بجٹ میں ہمیشہ غریب کا استحصال کیا جاتا، عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ حکومت نے عوام پر جنرل سیلز ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیا، بجٹ میں ساری مراعات پیسے والوں کو دی گئی ہیں، سیلز ٹیکس 17 سے ساڑھے 12 اور کم سے کم اجرت 13 ہزار کی بجائے 15 ہزار ہونی چاہئے تھی، حکومت نے ٹیکس وصولی کیلئے کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا، ٹیکس چور اور بجلی چور نہیں پکڑے، کے پی کے میں صنعتی شعبے کو ٹیکس چھوٹ حکومت کا اچھا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے بجٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بجٹ کے بعد منی بجٹ آ جاتے ہیں اور ایک طبقہ ایسا ہے جس سے ٹیکس لینے کیلئے کوشش ہی نہیں کی جاتی، حکومت نے ٹیکس کی وصولیوں میں بھی کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا، اسکی کمی بھی ٹیکس کی مد میں غریبوں سے پوری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری ختم کرنے کیلئے بھی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیا، عام طبقے کی تنخواہوں میں صرف ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ یہ کم از کم 15فیصد بڑھانا چاہئے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کم سے کم اجرت 13 ہزار روپے کی ہے، ہم 15 ہزار روپے کر رہے ہیں اور ہم سیلز ٹیکس ساڑھے 12 فیصد پر لا رہے ہیں ہم نے تجویز دی ہے کہ ڈیزل کی قیمت 18 روپے کم ہونی چاہئے، اس سے مہنگائی کم ہو گی اور کسانوں کو فائدہ ہو گا اور پٹرول 6 روپے اور کم ہونا چاہیے اور کھاد کی قیمت بھی نیچے آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ 18 کروڑ کی آبادی سے صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، گیس پر عائد ٹیکس واپس لیا جائے۔