وزیراعظم نے روہنگیا مسلمانوں کی امداد کیلئے کمیٹی بنا دی

07 جون 2015

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی ) وزیراعظم نوازشریف نے میانمر اور روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی سے پیدا ہونیوالی صورتحال کا جائزہ لینے اور انہیں ریلیف کی فراہمی کےلئے تجاویز کےلئے کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں اور کمیٹی کا اجلاس ( آج) اتوا رکو طلب کرلیا گیا۔ یہ بات وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے بتایا عالمی برادری روہینگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی تنظیموں کو اپنی آنکھیں بند کرنے کی بجائے نسل کشی اور قتل عام کو رکوانے کےلئے اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی کوششوں سے دہشت گردی کیخلاف جاری کوششوں پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک عمل اور مجرمانہ غفلت ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بعض ایسی باتوں کو تو اچھالتی ہیں جن کے حقائق مختلف ہوتے ہیں تاہم مسلمانوں کی نسل کشی پر عالمی تنظیموں کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سوائے چند مسلم ممالک کے دیگر ممالک اس حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کررہے اور بحیثیت مسلمان مجھے روہینگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کی حالت زار دیکھ کر بہت تشویش اور دکھ ہورہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں بھی یہ مسئلہ اٹھا چکے ہیں حالانکہ گزشتہ روز صرف بجٹ کے حوالے سے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا اور اس میں بھی میں نے وزیراعظم اور پوری کابینہ کی توجہ میانمر میں مسلمانوں کی تشویشناک صورتحال کی طرف دلوائی تھی جس کے بعد وزیراعظم اور کابینہ نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔کمیٹی نے پاکستان کی طرف سے میانمر اور رہنگیا کے مسلمانوں کی بحالی اور ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے تجاویز دی ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس (آج) اتوار کو بلایا گیا ہے جس میں اس حوالے سے تمام صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا۔
روہنگیا کمیٹی