بلدیاتی الیکشن میں مبینہ دھاندلی : سہ فریقی اتحاد کا خیبر پی کے حکومت کیخلاف تحریک چلانے‘ 10 جون سے ہڑتال کا اعلان

07 جون 2015
بلدیاتی الیکشن میں مبینہ دھاندلی : سہ فریقی اتحاد کا خیبر پی کے حکومت کیخلاف تحریک چلانے‘ 10 جون سے ہڑتال کا اعلان

پشاور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) پشاور میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل سہ فریقی اتحاد نے خیبر پی کے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ میاں افتخار کہتے ہیں کہ حکومت گرانے کیلئے احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ پشاور میں جمعیت علمائے اسلام، پیپلز پارٹی اور اے این پی پر مشتمل سہ فریقی اتحاد کا اجلاس میاں افتخار کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے بعد پیپلر پارٹی اور جے یو آئی کے رہنماﺅں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں افتخار کا کہنا تھا کہ خیبر پی کے حکومت فوری طور پر مستعفی ہوجائے اور نگران سیٹ اَپ تشکیل دیکر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ اگر حکومت مستعفی نہیں ہوئی تو صوبے بھر میں 10 جون سے احتجاجی تحریک شروع کر یں گے جو صوبائی حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ میاں افتخار کا کہنا تھا کہ دیگرسیاسی جماعتوں کو بھی احتجاجی تحریک میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور اب بھی نتائج تبدیل کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ آزاد ارکان کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کیلئے انکے گھر جا رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے انتخابات کے دوران ہنگاموں میں جاں بحق ہونیوالے افراد کو معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ میاں افتخار نے آج پشاورمیں موٹر وے پر جے یو آئی کے دھرنے میں شرکت کا بھی اعلان کیا۔ میاں افتخار نے میڈیا کو بتایا کہ 10 جون سے مرحلہ وار ہڑتال کا آغاز کریں گے۔ دھاندلی کرنے والے قوم کے مجرم ہیں۔ بی بی سی کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل اس سہ فریقی اتحاد کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو 10 جون سے صوبے میں شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی جائیگی۔ میاں افتخار نے اس بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور حکومتی مشینری کا استعمال کیا گیا۔ میاں افتخار نے کہا کہ تینوں سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ ’موجودہ صوبائی حکومت مستعفی ہو، ایک نگراں سیٹ اپ آئے اور اسکی زیرنگرانی انتخابات ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی آئینی اور اخلاقی جواز ختم ہوگیا ہے، ہم وہ لوگ تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ تحفظات کے باوجود ان کے پاس مینڈیٹ ہے لیکن اب وہ مینڈیٹ اور وہ اہمیت وہ کھو چکے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فوج کی زیرِ نگرانی دوبارہ بلدیاتی انتخابات ہوسکتے ہیں ایسے میں احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں میاں افتخار نے کہا کہ موجودہ حکومت کی موجودگی میں الیکشن بے کار ہیں۔ اگر عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، جماعت اسلامی بھی کہہ رہی ہے دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی کہہ رہی ہیں تو موجودہ حکومت کا جواز کیا ہے؟‘ انکا کہنا تھا کہ عمران حان نے نوازشریف سے کہا تھا کہ دھاندلی ہوئی آپ مستعفی ہوں حالانکہ وہ انتخابات نگراں حکومت میں ہوئے تھے۔ اے این پی کے رہنما نے سوال کیا کہ بیک وقت دو پیمانے کیوں؟ نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا مگر اب چونکہ ان کی حکومت نے خود دھاندلی کی تو وہ اسکی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو مطالبہ عمران خان نوازشریف کیلئے کررہے تھے، ہم وہی مطالبہ آج پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے کر رہے ہیں۔ میاں افتخار نے الزام عائد کیا کہ کے پی کے کا کوئی بھی پولنگ سٹیشن ایسا نہیں جہاں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔ یہ احتجاج کب تک جاری رہےگا اور کیا یہ بھی عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کیخلاف گذشتہ سال اگست میں شروع ہونیوالے پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنے کی مانند تو نہیں ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تین جماعتوں کا یہ احتجاج صرف خیبر پی کے میں ہی ہوگا۔ 10 جون کو جلسے اور شٹرڈاو¿ن ہڑتال کی صورت میں شروع ہونیوالا احتجاج کے پی کے حکومت کے مستعفی ہونے تک جاری رہیگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا جائیگا۔دریں اثناءسہ فریقی اتحاد نے جماعت اسلامی کو دس جون کی ہڑتال میں شامل ہونے کی درخواست کر دی۔ اتحاد کے وفد نے صوبائی امیر پروفیسر ابراہیم سے ملاقات کی۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا امیر جماعت اسلامی سے مشاورت کے بعد فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

سہ فریقی اتحاد/ ہڑتال