میرا ’’بلاول‘‘ کئی روز سے نہیں سویا!

07 جون 2015

مکرمی! اولاد ہر ماں کے لیے بلاول، حمزہ اور حسین کی طرح ہوتی ہے۔ میرا بلاول کئی روز سے نہیں سویا رہا۔ شب برات سے دو تین روز قبل پٹاخوں اور دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا جو شب برات کے بعد بھی جاری ہے۔ تھانہ جوہر ٹاؤن پر شکایت کی 15 پر کئی بار کال کی مگر کسی نے نہ سنی۔ حکومتی سطح پر شب برات پر آتش بازی پر پابندی ہے مگر حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی حکام اور حکمرانوں نے ضرورت محسوس نہ کی۔ چمچ سے پانی پینے والا میرے دل کا ٹکڑا خوف سے پانی کے لیے منہ نہیں کھول رہا، ہولناک لرزے اور مرگی کے درجنوں دوروں سے یہ نڈھال اور میں اپنے جان سے پیارے ’’حمزہ‘‘ کی حالت پے تڑپتی بے حال ہوں۔ میرے ’’حسین‘‘ کی چیخوں سے میرا کلیجہ پھٹتا رہا ہے۔ مگر میری ریاست، خادم اعلیٰ اور ان کے اشارہ ابرو کے پابند پارلیمنٹرینز اور حکام اس شب برات پے بھی اتنا نہ کر پائے خوفناک دھماکوں، پٹاخوں سے زندگی اجیرن کرنے والوں کو یہ سب بنانے، بیچنے اور چلانے سے روک دیتے۔ بین الاقوامی وفود کی رسمی تعریفوں پر تکیہ نہ کریں۔ اخباری شہ سْرخیاں ہمارے جذبات، احساسات، ہمارے بنیادی انسانی، اسلامی، شہری حقوق کو کیوں کھول کر بیان نہیں کرتیں۔ میڈیا والے بھی ’’اشرف المخلوق‘‘ طبقات کی خبریں لگا کے، اپنے تعلقات کی دکانداری میں لگے ہیں؟ ۔ دلگرفتہ والدہ محمد عیسیٰ قاضی( سیدہ قاضی۔ بنت قاضی مرید احمد مرحوم ایم ایل اے مغربی پاکستان اسمبلی فون نمبر 0306-4290637)