مسلم لیگ (ن) کیلئے سلامتی کا راستہ

07 جون 2015

11مئی 2013ء کے عام انتخابات کو منعقد ہوئے دو سال کا عرصہ گزر گیا۔لاہور شہر کے حلقہ نمبر این اے 125 اور 122وغیرہ میں خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق وغیرہ کو کامیاب قرار دینے کے اولیں لمحات سے لیکر آج تک شکوک و شبہارت، وسوسوں اور بے یقینی کی کیفیت کے بعد عمران خان، تحریک انصاف کی جانب سے چار حلقوں کے کھولے جانے کے آئینی مطالبہ اور بے پناہ واویلا مچانے سے ناکامی کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عمران خان کے طویل دھرنا کے ایام میں جب مسلم لیگ ن ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں بیٹھی ہوئی تمام سیاسی جماعتیں اور ان کا وجود، نزع کے خطرہ کی حدوں کو چھو رہا تھا تو بعد از خرابی بسیار جوڈیشل کمشن کا وجود عمل میں لایا گیا۔ آخر خدا خدا کرکے 5مئی کے روز سعید پاکستان کی سیاست سے گہری دلچسپی رکھنے والوں اور سیاسی عمل میں صحت مندانہ، دیانتدارانہ انتخابات سے پرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں پاکستانیوں کو قومی اخبارات میں یہ شہ سرخیاں پڑھنے کو ملیں۔ سعید رفیق کے حلقہ این اے 125کا الیکشن کالعدم دوبارہ کرانے کا حکم پی پی 155 میں بھی دو ماہ کے اندر انتخابات ہونگے۔ بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ الیکشن ٹربیونل۔ پاکستان میں جاگیرداروں، سرمایہ داروں کی نسل در نسل اور پشت در پشت ممبروں سے بھری ہوئی اسمبلیوں کی متعفن سیاست کے ماحول میں اہل وطن کیلئے مندرجہ بالا خبریں تازہ اور خوشگوار ہوا کے تازہ جھونکے مترادف ہیں۔ پرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں پاکستانیوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ بعد ازاں عدالت نے ان کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ان کی بحالی کا حکم دیدیا ہے۔ پاکستان کے عام انتخابات کی تاریخ میں دھاندلی اور جھرلو کی بدعت کے اولین موجد پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد دولتانہ 1951-51ء کو قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے دھونس اور دھاندلی سے 1851ء کے عام انتخابات کو ہمیشہ کے لیے گدلا بنا دیا۔ 1951ء کے انہی انتخابات میں لاہور شہر میں لارنس روڈ وغیرہ کے حلقہ سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ کے امیدوار میاں ممتاز محمد دولتانہ (وفات 30جون 1995ئ) نے اپنے بالمقابل جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا امین احسن اصلاحی (وفات 15دسمبر 1997ئ) کو ہرانے کیلئے پہلی بار نتھ فورس کے بے حدوحساب ووٹ بار بار کاسٹ کروانے کے بعد چونسٹھ ہزار ووٹ لیکر اپنے مدمقابل مولانا امین احسن اصلاحی کو بتیس ہزار ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شکست دیکر کامیابی حاصل کی یعنی امین احسن اصلاحی کے شفاف ووٹ بتیس ہزار تھے۔ جھرلو اور دھاندلی زدہ مندرجہ بالا عام انتخابات کی بدعتی رسم نے بددیانتی کا دودھ پی کر یوں پرورش پائی کہ 2جنوری 1965ء کے محترمہ فاطمہ جناح (وفات: 9جولائی 1967ئ)، ایوب خان (وفات 20اپریل 1974ئ) کے انتخابات میں دھاندلی کا گراف بڑھ گیا اور فیلڈ مارشل ایوب خان کی اسی دھاندلی نے اصل میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی علیحدگی کی بنیاد کھودی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو ڈیڈی کہنے والے 1958ء کے بدنام زمانہ مارشل لاء کی کوکھ سے جنم لینے والے اور ایوب خانی ہتھکنڈوں کے تربیت یافتہ، یادش بخیر ذوالفقاز علی بھٹو نے مارچ 1977ء کے عام انتخابات میں اس دھاندلی اور جھرلو کو یوں عروج پر پہنچایا کہ جس میں اسکے مد مقابل پاکستان قومی اتحاد کی تو صرف چونچ اور دم ہی گم ہوئی لیکن فاشٹ ذہن رکھنے والے قائد عوام بھی اپنی روشنی طبع سے ایجاد کردہ اس مشہور زمانہ اپنی ہی ایجاد کردہ دھاندلی کے گڑھے میں گر کر مقام عبرت بن گئے اور قائد عوام کے نام کو بار بار کیش کروانے کے بعد حکومت کرنے والی آج ان کی پیپلز پارٹی بھی آخری سانس لے رہی ہے۔ اور کراچی کی خونی لسانی تنظیم ایم کیو ایم نے تو ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی ہتھکنڈوں کو مات دے کر دھاندلی کا وہ بلند مقام حاصل کر لیا کہ اس تک پہنچنے کی کوشش میں تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کے پر جلتے ہیں کاش! عمران خان کی طرح کراچی جماعت اسلامی کے ستم زدگان، کراچی کے تھیلے کھلوائیں اور ایم کیو ایم کی بلی بھی تھیلے سے باہر نکلے۔ قصہ مختصر اگر مسلم لیگ(ن) ماضی میں پاکستان کے دو نیک نام سربراہوں یعنی وزیر اعظم چودھری محمد علی (وفات: یکم دسمبر 1980ئ) اور وزیر اعظم اسمٰعیل ابراہیم چندریگر (وفات: 26دسمبر 1960ئ) کی طرح اپنی رضا مندی سے خود ہی اس دھاندلی زدہ الیکشن کی نشستوں سے استعفی دے دیتی تو اس سے سعد رفیق، ایاز صادق اینڈ کمپنی وغیرہ ہی نہیں بلکہ پوری مسلم لیگ (ن) کی عزت میں اضافہ ہو جاتا اور مسلم لیگ ن آئندہء ہونیوالے انتخابات میں دھاندلی کی بیساکھیوں کے بجائے منصفانہ طور پر الیکشن جیت کر مندرجہ وزرائے اعظم چودھری محمد علی اور ابراہیم اسمٰعیل چندریگر کی طرح پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کی حقدار ٹھہرتی لیکن وائے افسوس: ہر کسی کی قسمت میں چودھری محمد علی اور ابراہیم اسمٰعیل چندریگر جیسا حوصلہ اور بصیرت کہاں؟