یہ گورکھ دھندے لفظوں کے … 2015-16ء بجٹ

07 جون 2015

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 2015-16کے مالی سال کے لئے 5 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کی۔ اپنی تقریر میں اپنے ساتھیوں سے داد سمیٹتے رہے۔ وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 4451.3 ارب روپے بتایا گیا۔ بجٹ میں 4.3فیصد کا خسارہ بھی ظاہر کیا گیا جو کہ تقریباً 13سو ارب بنتا ہے۔ سالہا سال سے اخراجات و خسارہ ایک ساتھ چلتے رہے ہیں مگر سوال یہ ہیں کہ کیا موجودہ بجٹ عوامی امنگوں و ضرورتوں پر پورا اترتا ہے؟ کیا بجٹ کم وسیلہ طبقے کے ریلیف کا عکاس ہے؟ کیا بجٹ ٹیکسز کی مد میں 1422 ارب روپے کی وصولی کے ہدف میں ٹیکسز کا بوجھ متوسط تنخواہ داروں ہی کے کندھے شل کرے گا یا کہ سٹاک مارکیٹ، رئیل سٹیٹ، تعمیرات کی صنعت و ڈویلپرز کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا؟ اگرچہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب کی نظر میں ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، متوسط و غریب طبقے کو ریلیف دیا جا رہا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ اسحاق ڈار صاحب کا ایک خوش کن خیال ہے جو عوامی خواب کے عین مطابق ہے مگر اس کا عملی اطلاق بہرحال تو نظر نہیں آیا۔ غریب طبقے کو ریلیف دینے کے سوال پر ہمیں ملکی معاشی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ملکی مجموعی پیداوار میں اضافہ کے لئے بجٹ کا کم از کم 8فیصد رکھنا چاہئے تھا جس سے ہم ایگریکلچرل و انڈسٹریل پاور جنریٹ کرکے معاشی بے ترتیب زاویوں کو کچھ تو ترتیب دینے کی امید باندھتے۔ بجٹ ہماری قومی ترجیحات کو پیش نظر رکھ کر منظم کیا جائے تو غریب کے ریلیف کی بات ہوتی۔ مگر ایسا نہیں ہے اور ہم بھی ملکی پیداوار و وسائل کی بڑھوتی کی بات کرکے خود انحصاری سکیم پر زیادہ بجٹ لگانے کو اہم نہیں سمجھتے۔ اگرچہ بجٹ میں درآمدات کو کم کرکے برآمدات بڑھانے کا ذکر ملتا ہے مگر اس کا طریق کار اور کہنے کا جواب موجود نہ شد؟2015-16 بجٹ میں صنعتی و زرعی شعبے کے بحران اور توانائی بحران کو بنیادی طور پر فوکس کر لیا جاتا تو ہمارے ملک کے قدرتی وسائل و پیداواری صلاحیت کی پوزیشن ہمیں نہ صرف برآمدات میں اضافے سے زر مبادلہ کے بہترین حصول کی طرف راہ دکھاتی بلکہ غریب کی لٹیا کے ڈوبنے کے جاری عمل کو بھی سنبھالا دینے کا کام شروع ہو جاتا۔ 2015-16 حالیہ بجٹ میں ٹیکسز کی مد میں 1422 ارب روپے کا جو ہدف متعین کیا گیا ہے اس ہدف کے حصول کے منصفانہ نظام کی بہرحال توجیہہ ہمیں تو وزیر خزانہ صاحب کی بجٹ تقریر و بجٹ کاپی میں نظر نہیں آ رہی۔ موجودہ بجٹ میں اہل ثروت اور خود مختار بزنس مین و سرمایہ دار و جاگیردار کی آمدنی کے کھاتوں سے ٹیکس وصولی کے طریق کار کی دستاویزی تیاری و ریکارڈ مینٹین کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس سے ملک کے محض 15 فیصد بااثر رئیس طبقے کو ٹیکس چوری کرنے اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کی چھوٹ حاصل ہو گئی ہے یا پھر معمولی ٹیکس ادا کرکے خانہ پری کرنے کی آسانی میسر آ گئی ہے۔ اس وقت اگر کوئی ٹیکس کی یقینی ادائیگی کر رہا ہے تو وہ سرکاری ملازم ہے کیونکہ اس کی آمدنی و ٹیکس کی ادائیگی کا تمام نظام ریکارڈ پر موجود ہوتا ہے وہ نہ صرف اپنی سرکاری خدمات کی تنخواہ میں ٹیکس کٹواتا ہے بلکہ اپنی ضرورتوں کے لئے جو بچت وہ کرتا ہے اس بچت کی رقم کی بوقت ضرورت وصولی کے موقع پر بھی ٹیکس دے رہا ہوتا ہے۔
اگر ہمارے ہاں ٹیکس وصولی کا منصفانہ نظام رائج کر دیا جائے اور اسے وزارت خزانہ مبہم نہ رکھے تو ہم ملکی معاشی خوشحالی کے لئے زرعی صنعتی و توانائی کی پیداواری قوت کی بڑھوتی کیلئے ریونیو کا بڑا حصہ حاصل کر کے غیر ملکی قرضوں کی عفریت سے بچ جائیں گے حالانکہ یہ بات وزارت خزانہ کے علم میں ہے کہ ہمارے ریونیو کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے سود اور رمسلرز کی قسطوں کی ادائیگی میں جانے سے ہماری معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوتے اور ہم بلاوجہ و بے ثمر بڑی مچھلیوں کے پیٹ میں چھپے جواہر نظر انداز کر کے چھوٹی کمزور مچھلیوں کا پیٹ چیرتے چلے جاتے ہیں۔ اصل معاشی استحکام اسی میں ہے کہ ایک واضح ٹیکسیشن پالیسی کے تحت اہل ثروت طبقے یہ دلیرانہ ہاتھ ڈالا جائے۔ اس سلسلے میں لاء اینڈ انفورسمنٹ ریجنز کی کارکردگی کو وزیر اعظم خود مانیٹر کریں۔ یاد رہے کہ حکومت کا مقصد صاحب ثروت و امراء کے طبقے کو مال و دولت کا ناجائز تحفظ دینا نہیں ہوتا بلکہ کم وسیلہ و غریب طبقے کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری نبھانا ہوتا ہے اور یہی ایک ذمہ داری ہے جو شروع ہی سے آج تک کسی مالی سال کے بجٹ نے نبھا کر نہیں دکھائی۔ میری درخواست ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب اہل ثروت طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے فوری طور پر اسسٹنٹ انفورسمنٹ اینڈ ویلتھ آڈٹ ڈاکو مینٹیشن ریکارڈ مینٹین کرنے کا صاف و شفاف و غیر مبہم نظام رائج کریں۔ ابھی صرف چند ماہ قبل آئی ایم ایف کے دبائو سے ٹیکسز کی شرح فیصد میں اضافہ کیا گیا تھا اور ابھی چند روز قبل گیس و پٹرول کی قیمتوں میں بھی ریگولر آئٹم و سپیشل انکم سکیمز میں انوسمنٹ کرنے والوں کی شرح انٹرسٹ کم کر کے صرف 7% کر دی گئی ہے اب خود ہی ذرا سوچیے کہ قومی بچت سکیموں پر کون ہیں جو اکتفاء کرتے ہیں۔ بیوہ عورتیں، بوڑھے، پنشنرز اور اپنی بڑی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے پائی پائی جمع کر کے گزارے کرنے والے؟ اب قومی بچت کے بینکوں کی اس ضرب سے متاثر ہو کر کم وسیلہ لوگ اپنی رقمیں نکلوانے پر مجبور ہو کر کدھر جائیں گے؟ انہیں کاروباری ساہوکاروں کے سرمایے میں اپنا سرمایہ لگائیں گے جس سے نہ صرف ان کی رقم غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ وہ بھی سرمایہ داروں کے نرغے میں پھنس جائیں گے۔ ملک میں ٹیکس کی شرح فیصد میں اضافہ ہو یا مہنگائی بڑھے، آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے کا دبائو سخت ہو جائے یا پھر قومی بنکوں میں خسارہ مگر متاثر تو غریب و متوسط طبقے ہی نے ہونا ہے، مشکلات کو کم وسیلہ لوگوں کے نصیب میں آتی ہیں، افلاس نے تو غریب کے گھر ڈیرے لگانے ہیں، اور یہی ہے جو کہ ہمارے ملک میں ہو رہا ہے۔ مہنگائی کے تناسب سے سرکاری چار سے چھ بچوں کے تنہا کفیل ملازم کو بجٹ کیا ریلیف دے رہا ہے بجٹ ملک کے لاکھوں بے روزگار گریجویٹس کو کیا روزگار فراہم کرنیکا اہتمام کر رہا ہے صحت و تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ تک لیجانے کے لئے کیا آسانیاں پیدا کی گئی ہیں؟ بجٹ آ جانے کے بعد بھی ملکی معاشی استحکام کیلئے قدرتی وسائل کی ایکسوریشن کے لئے ہمیں تشویش ہے… بجٹ آ جانے کے بعد بھی ہمیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہونے کی تشویش لاحق ہے… بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ ابھی ایک بجٹ اور ہے جو آئے گا… مگر ہو گا یہی کہ وہ بھی غریب مٹائو کی ترجمانی کرے گا۔