آذر اور سچائی کے جگنو

07 جون 2015

لکھنے اور بولنے والے تمام چہرے بہت حساس ہوتے ہیں مگر میں نے انہیں بہت مختلف پایا۔ 16برس پہلے کی ایک شام کی بات ہے میں نے اعزاز احمد آذر کو فون کیا۔ احمد راہی صاحب میرے پاس بیٹھے ہیں۔ کچھ اور دوست بھی ہیں۔ راہی صاحب آپ کویاد کررہے ہیں۔ میری رہائش زینت بلاک اقبال ٹائون میں تھی اور آذر صاحب بھی اسی بلاک کے ایک گوشے کو آباد کئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے، اس وقت ہوں تو بہت دور لیکن احمد راہی کو آپ نے گھیر لیا ہے تو یہ موقع غنیمت ہے چنانچہ پتہ نہیں کیسے وہ آدھ گھنٹے میں پہنچ گئے اور پھر ایک مدت بعد راہی صاحب ایسے کھلے کہ سب دیکھتے رہ گئے۔ اب راہی صاحب بھی ملک عدم کے شہری اور اعزاز احمد آذر بھی اسی نگری کو سدھار گئے ہیں، اعچزاز احمد کا جانا اس لئے زیادہ اداس کر گیا کہ وہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کربولنے اور لکھنے والے گنتی کے چند دانشوروں میں سے ایک تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے لاء گریجویٹ تھے۔ پنجابی زبان و ادب میں گولڈ میڈل کے ساتھ ماسٹر کی ڈگری لی تھی۔
پاکستان میں نیشنل سنٹروں کا قیام عمل میں آیا تو اہل قلم اور وابستگان سخن کے لئے ایک تازہ ہوا کا جھونکا اور آزادی اظہار کا ایک نیا کلچر ساتھ لایا۔ اعزاز احمد آذر ان کے کھیون ہاروں میں سے ایک تھے۔ تہذیب، شائستگی اور انسانیت سے کمٹمنٹ ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی سو انہوںنے اس سفر میں یادوں کے کئی چراغ روشن کئے اب وہ چلے گئے ہیں اور اپنے پیچھے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ افتخار مجاز (بردار خورد اور سابق ڈائریکٹر پروگرامز پی ٹی وی) کی صورت میں اس کلچر اور روایت کو آگے بڑھانے کا مشن چھوڑ گئے ہیں۔ آذر جی نے لکھا تو خوب لکھا۔ دھیان کی سیڑھیاں ، دھوپ کے رنگ گلابی ہو، تتلی پھول اور چاند ’’موسم سی برساتاں دا‘‘ تنویر نقوی کے گیت اور اس طرح متعدد ڈراموں اورخاکوں کی دنیا لیکن جب انہوں نے قرآن پاک کی سورۃ یوسف کا جمالیاتی جائزہ لکھا تو یہ کالم ’’نویکلا‘‘ یا منفرد قرار پایا۔ ایک ایسی پاکیزہ سورت جسے احسن القصص قرار دیا گیا اس کو ایک خیال افروز نئے زاوئے سے دیکھا اور اس کے اندر کی حیرتوں کو نمایاں کرنا گویا اعزاز احمد آذر کے عشق کا ایک پہلو تھا۔ اس کتاب کو ایسی پذیرائی ملی کہ پڑھنے والو ں کی زبان پر تھا کہ آذر نے دنیا میں جنت کا سامان کرلیا۔ ان کی شاعری کے حولے سے ان کی ایک کامیاب کمپیئر کے حوالے سے اور پھر مشاہدات کو تخلیقی عمل میں ڈھالنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جائے گا۔
دراصل وہ ہمارے معاشرے کے ترجمان تھے۔ سچ بولنے کے حوالے سے انہوں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا تھا۔ اس کا انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا مگر ایک تخلیق کار کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ادب بھی اور ادیب بھی وہی زندہ رہتا ہے جو سچ کے حوالے سے کمپرومائز نہیں کرتا۔ اس وقت پاکستان جن مسائل کاشکار ہے اور پاکستانی جن منافقتوں کی خوراک بنے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے اور ان منافقتوں کا قلع قمع کرنے کے لئے اہل قلم کو اعزاز احمد آذر کی طرح سچ کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ یہی روائت صحافت کے میدان میں نظامی خاندان کی بھی ہے۔ اس راستے پر چلنے والوں کے دل مضبوط ہونے کے باوجود بار بار زخمی ہوتے ہیں۔ اعزاز احمد آذر بھی اس راستے پر چلے 72 برس تک زخمی دل کے ساتھ سچ کا ساتھ نبھایا۔ سٹیج پر بولنا ہو یا شعر کی صورت کتھارسز کرنا ہو ہمیشہ سچ کیا، سچ لکھا اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر سب کو خدا حافظ کہہ دیا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں آنگنوں میں جگنوں اور ستارے دیکھنے کی تمنا کے ساتھ یہ کہہ کر چلے گئے۔ ؎
تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال رکھنا
مرے اندھیروں کی فکر چھوڑ وتم اپنے گھر کا خیال رکھنا
سچ یہ ہے کہ جگنو اور ستارے اب ان کی آخری آرامگاہ کو روشن کر رہے ہیں کیونکہ جو دوسروں کے لئے روشنی مانگتا ہے۔ روشنی خود اس کا مقدر بن جاتی ہے۔