سعودی شاہ کے انقلابی فیصلے اور مشکلات

07 جون 2015

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے اقتدار کے مختصر سے عرصے میں بڑے انقلابی اعلانات،اقدامات اور فیصلے کئے ہیں۔حال ہی میں شہریوں کو بادشاہ کیخلاف بھی عدالت جانے کا حق دیدیا۔ عزت مآب شاہ سلمان نے کہا کہ سب لوگ برابر ہیں، آئین کی رو سے کسی کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ مملکت کے کسی شہری کو بادشاہ اور ولی عہد سمیت شاہی خاندان کے کسی فرد کیخلاف شکایت ہو تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔یہ اپنے اور مقتدر خاندان کے تقوے، آئین ،قانون اور اصولوں پر سختی سے کاربند ہونے کا اظہار یا ججوں پرشکایت کنندگان سے نمٹ لینے کی ’’صلاحیتوں پر اعتماد‘‘ہے۔ آمریتوں اور بادشاہتوں میں عموماً عوام کو ایسا حق نہیں دیا جاتا۔ یہ کتاب اللہ، سنت رسول اور خلفائے راشدین کا طریقہ ہے جسے شاہ سلمان نے اپنا دستور قرار دیا ہے جو جمہوری معاشروں میں اسکی اصل کے مطابق رائج ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی عبا پہنتے ہی عوامی بہبود کے بھی کچھ اعلانات کئے تھے۔ سرکاری ملازمین کیلئے دو ماہ کی اضافی تنخواہ کے برابر بونس اور دیگرمراعات کا اعلان کیا گیا۔ اس سے مستفید ہونیوالوں میں علماء کے علاوہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔مملکت کے اندر اور باہر موجود تمام سعودی طلبہ و طالبات کو بھی دو ماہانہ وظائف کی یک مشت ادائیگی، سوشل انشورنس کی رقوم کی دوماہ کی ادائیگیاں اورخیراتی اداروں کو مجموعی طور پر دو ارب سعودی ریال کی خطیر رقم ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔معمولی جرائم کے قیدیوں کیلئے بھی رعایتوں اور جرمانے کی معافی کا اعلان کیاگیا۔ شاہ سلمان نے جہاں عوامی فلاح وبہبودکے خوش کن اعلانات کئے‘ وہیں شاہی خاندان کے حوالے سے کچھ سخت فیصلے بھی کئے۔ یہ فیصلے ایک بار نہیں دو بار کئے گئے۔ خلعت شاہی پہننے کے محض ایک ہفتہ بعد امریکہ میں 22 برس تک سعودی عرب کے سفیر رہنے والے شہزادہ بندر بن سلطان کو قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل اور بادشاہ کے مشیر کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ۔ شہزادہ مشعال بن عبداللہ مکہ اور شہزادہ ترکی بن عبداللہ ریاض کے گورنر تھے،ان کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔اس سے بھی بڑے فیصلے اپریل کے آخر میں کئے گئے جب شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہد کے عہدے سے الگ کردیاگیا۔ وزیر خارجہ سعود الفیصل سے بھی منصب واپس لے لیا گیا۔وہ 40 سال سے وزیر خارجہ چلے آرہے تھے۔ایسے فیصلے شاہی خاندان کے اندر پائے جانیوالے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ شاہی خاندان میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ شاہ فیصل شہید کا مسند اقتدار سنبھالنا شاہی خاندان کے اندر اختلافات کی مثال اور ان کا شہید ہونا بھی اختلافات ہی کا غماز ہے۔ شاہ فیصل بن عبدالعزیزکو ان کے بھتیجے فیصل بن مصائد نے 25 مارچ 1975ء کو شاہی محل میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔شاہ فیصل اردن سے آنیوالے وفد سے مل رہے تھے ۔نوجوان فیصل بھی قطار میں کھڑا تھا۔شاہ فیصل نے اسے پہچان کر اپنا سر بوسہ دینے کیلئے اسکے سامنے کیاجو احترام اور محبت کی علامت ہے۔قتل کے ارادے سے آئے ظالم نے پسٹل نکال کر سر میں دو گولیاں داغ دیں۔تیسرا فائر مس ہوگیا مگر پہلے دو اپنا کام کرچکے تھے۔فیصل امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے لوٹا تھا۔ عدل کے تقاضے پورے کرتے ہوئے قاتل کا سر قلم کر دیا گیا۔ فیصل شہیدکے قاتل فیصل کو دفن کیا جا رہا تھا تو شاہ خالد اپنے آنسوئوں پر قابو نہ رکھ سکے تھے۔ شہزادہ مصائد کو اس واقعہ نے شاہی خاندان اور اقتدارسے دور کردیا۔ انکی زندگی کو آزمائشوں سے عبارت رہی۔ ایک بیٹے خالد کوپہلے ہی ریاض میں احتجاج کے دوران قتل کر دیا گیا تھا اور دوسرے کا بھائی کے قتل کے جرم میںسر قلم کردیا گیا ۔ اولاد کی اموات کے صدمات نے انکی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔ انکی بینائی جاتی رہی تھی۔ان کا 2013ء میں انتقال ہوا۔ شاہ سعودبن عبدالعزیز علاج کیلئے امریکہ گئے تو شاہی امور اورمعاملات کی ذمہ داری ولی عہد فیصل بن عبدالعزیز نے نبھانا تھی۔ اس دوران ولی عہد نے شاہی کابینہ تبدیل کردی ۔ شاہ سعود نے اس پر اعتراض کیا، فیصل کو یاد دلایا کہ انکو کابینہ تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔دونوں میں اس دوران تلخی بھی ہوئی۔ فیصل نے خاندان، علماء اور اکابرین کی مشاورت سے شاہ سعود کو معزول کر کے بادشاہت سنبھال لی۔ طلال بن عبدالعزیز نے اس معاملے میں سعود بن عبدالعزیز کا ساتھ دیا۔ مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت نے سعودی عرب اور شاہ فیصل کیخلاف پراپیگنڈہ کرنے کیلئے پوری مشینری انکے حوالے کر دی۔ شاہ فیصل کے جمال عبدالناصر سے تعلقات کشیدہ رہے تاآنکہ اسرائیل مصر جنگ میں جمال عبدالناصر کو سعودی عرب کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی تو شاہ فیصل نے معزول شاہ سعود کی حمایت سے ہاتھ اٹھانے کو کہا۔ جمال عبدالناصر اس پر آمادہ ہو گئے تو شاہ سعود کو مصر چھوڑنا پڑا۔ ان کا انتقال یونان میں ہوا، تدفین کی شاہ فیصل نے اپنے وطن میں اجازت دیدی۔ شہزادہ طلال کومعافی مانگنے پر سعودی عرب آنے کی اجازت دیدی گئی۔ انکی جائیداد واگزار اور اکائونٹس بھی بحال کر دیئے گئے تاہم شاہی اقتدار میں شامل کرنے پر پابندی لگا دی گئی جو اب بھی برقرار ہے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق طلال بن عبدالعزیز نے شاہ سلمان کے مقرن اور دیگر کو ہٹانے کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور تنقید کرتے ہوئے اسے شریعت اور سعودی قوانین کے منافی قرار دیا۔کہا جاتا ہے کہ طلال یمن پر حملے کی بھی مخالفت کرچکے ہیں۔مقرن بھی حملے حامی نہیں تھے۔سعودی عرب کے حامی حلقوں کیلئے ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے حکمران خاندان میں اختلافات میں شدت آگئی ہے، سعودی عرب کے سابق ولی عہد شہزادہ مقرن کو گھر میں نظر بند کرکے ان سے تمام تر رابطوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ انکو موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی سہولت سے محروم کردیا گیا ہے جبکہ شہزادہ بندربن سلطان اور اِن کے بھائیوں کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔شاہ سلمان چیلنجز کو قبول کرنیوالی شخصیت نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بڑے عہدیداروں کو ہٹانے کا فیصلہ اس دوران کیا جب یمن پر یلغارکی جا چکی تھی۔ یمن پر حملہ بذات خود ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ امریکہ کو بھی شاہ سلمان زیادہ خاطر میں نہیں لا رہے۔ اوباما کو ائرپورٹ پر چھوڑ کر نماز کیلئے چلے گئے۔ کیمپ ڈیوڈ میں اوباما نے یمن پر حملہ آور عرب ملکوں کے سربراہوں کی کانفرنس طلب کی تو شاہ سلمان نے وہاں جانے سے معذرت کر لی جسے انکارکہنا زیادہ بہتر ہے۔ یہ سب کچھ شاہ سلمان نے اپنی مرضی و منشاء سے کیا۔ بلا شبہ انہیں اپنے زور بازو پر بھروسہ ہو گا مگر اب جو خودکش حملے ہو رہے ہیں انکے بارے میں شاید انہوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ ایک طرف جنگ، دوسری طرف خاندانی اختلافات تیسری طرف امریکہ سے بے رخی اور اب خودکش حملے ، اس پر کئی صوبوں میں شورش اس پر مستزاد ہے،یہ واقعی شاہ سلمان کی صلاحیتوں کا امتحان ہے۔خادم ِ حرمین الشریفین کو اللہ تعالیٰ ہر امتحان اور آزمائش میں سرخرو فرمائے۔