ملالہ حملہ کیس، میں ڈیل کا تاثر

07 جون 2015
ملالہ حملہ کیس، میں ڈیل کا تاثر

ملالہ حملہ کیس میں سزا کے حوالے سے ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈڈویژن ازاد خان نے وضاحت کی ہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد امین کنڈی نے اسرار الرحمان اور اظہار اللہ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ باقی 8 ملزمان عدم ثبوت کی وجہ سے بری ہوگئے تھے۔ برطانوی اخبار ڈیلی مرر نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اپریل میں عدالت نے دس مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی بعد میں 8 کو رہا کردیا۔ ان میں حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے۔
ملالہ یوسفزئی کو 2012ء میںفائرنگ کا نشانہ بنا یا گیا تھا۔متعلقہ اداروں کی طرف سے ملالہ کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لانا ایک بڑی کامیابی تھی۔ ملا فضل اللہ سمیت 4 ملزم اب بھی مفرور ہیں۔ ملالہ حملہ کیس کی سماعت ان کیمرہ کی گئی مگر فیصلہ خفیہ نہیں رکھا جانا چاہیے تھا۔ ڈیل کا تاثر اسی وجہ سے پیدا ہوا۔ عالمی اہمیت کے حامل کیس کا فیصلہ خفیہ رکھنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔اگر ڈیلی مرر کی رپورٹ درست ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ خصوصی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کے بعد کس کے حکم پر مجرموں کو رہا کیا گیا۔ فوجی ترجمان اس سلسلے میں وضاحت کر یں۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...