اقتصادی سروے اور قومی بجٹ 2014-15

07 جون 2015
 اقتصادی سروے اور قومی بجٹ 2014-15

موجودہ اکنامک سروے کی رپورٹ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال 2014-15 میں جو معاشی اہداف طے کئے تھے ان میں سے بیشتر کا حصول ممکن نہیں ہو سکا۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ان اہداف کے حصول میں ناکامی کا ذمہ دار عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنے کی وجہ سے غیریقینی معاشی صورتحال اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو قرار دیا ہے۔ سالانہ معاشی ترقی کی افزائش نمو کا ہدف 5 فیصد رکھا گیا تھا مگر یہ شرح 4.2 فیصد رہی۔ پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا شعبہ زراعت مسلسل تنزلی کا شکار ہے، کبھی اسکی شرح نمو 5 سے 6 فیصد ہوتی تھی مگر گذشتہ کئی سالوں سے یہ ڈھائی سے ساڑھے تین فیصد تک محدود رہی ہے۔ اس سال زراعت کے شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی جبکہ اسکا ہدف 3.3 فیصد رکھا گیا تھا۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار صاحب کا کہنا ہے کہ نامناسب موسمی حالات اور عالمی منڈی میں زرعی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پانچ میں سے تین بڑی فصلوں کی شرح نمو میں کمی آئی ہے تاہم لائیو سٹاک کے شعبے میں شرح نمو 4.1 فیصد رہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ سال بجٹ کے خسارے کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک محدود کیا گیا ہے جو اس سے پچھلے سالوں میں 8 فیصد تک پہنچ گیا تھا مگر ایسا حکومت نے دو طریقوں کے ذریعے کیا ہے، پہلا تمام صوبوں نے سرپلس بجٹ دیا اور دوسرا وفاقی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی تاکہ بجٹ کے خسارے کو آئی ایم ایف سے طے کردہ حدود میں متعین کیا جا سکے۔ صنعتی شعبے میں بھی صورتحال گذشتہ سال کی نسبت تنزلی کا شکار دکھائی دیتی ہے مثلاً صنعتی اقتصادی شرح نمو 3.62 فیصد ہے جو 2013-14 میں 4.45 فیصد تھی۔ مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں اس سال شرح نمو 3.17 فیصد ہے جو 2013-14 میں 4.46 فیصد تھی۔ چھوٹی صنعتوں میں شرح نمو 8.24 فیصد رہی جو اس سے پیشتر مالی سال میں 8.29 فیصد تھی تاہم سروسز کے شعبے میں افزائش نمو جو گذشتہ سال 4.37 فیصد تھی اس سال 4.95 فیصد رہی ہے۔ اسحق ڈار صاحب کراچی سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس کو جو 19 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر 34 ہزار پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے اسکو بھی ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کا ایک انڈیکیٹر قرار دیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ سٹاک ایکسچینج کراچی میں انڈیکس کو اوپر یا نیچے لانے میں بڑے بڑے سیٹھوں کا مافیا کام کرتا ہے اور انہی کی دولت میں سٹہ بازی سے اضافہ ہوتا ہے جبکہ اسکے اثرات کبھی عام آدمی تک نہیں پہنچے ہیں، اسکا فائدہ بڑے بڑے ساہوکاروں کو ہوتا ہے جو سٹاک مارکیٹ کے علاوہ کرنسی مارکیٹ، بانڈ مارکیٹ اور پراپرٹی میں تخمین بازی کرتے ہوئے جب چاہیں ان کی قیمتیں بڑھا دیتے اور جب چاہیں کم کر دیتے ہیں اور جب چاہیں سرمائے کا انخلا دوبئی اور یورپی منڈیوں میں کر دیتے ہیں۔ شعبہ تعمیرات میں افزائش نمو اس 7.05 فیصد ہے جو اس سے پچھلے سال 7.25 فیصد تھی۔ فی کس آمدنی گذشتہ سال 1386 ڈالر سالانہ سے بڑھ کر 1521 ڈالر سالانہ ہو گئی ہے۔ اگر حکومت نے کسی شعبے میں بہتری حاصل کی ہے جو قابل تعریف ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ سال افراط زر کی CPI پر افراط زر کی شرح 8.7 فیصد ہے جو اس سال اوسطاً 4.8 فیصد پر آ گئی ہے اور آنے والے مالی سال میں حکومت افراط زر کی شرح کو اوسطاً 6 فیصد تک محدود رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسرا سٹیٹ بنک نے بنک ریٹ کو پاکستان کی تاریخ کی کم ترین شرح 7 فیصد تک محدود کر دیا ہے مگر انٹربنک میں یہ شرح تقریباً 7 فیصد اور ساڑھے سات فیصد کے درمیان طے ہو رہی ہے۔
اس پر بنک 4 فیصد تک اپنا سپریڈ رکھتے ہوئے عام لوگوں کو تقریباً 12 فیصد شرح سود پر قرضے دے رہے ہیں جبکہ بغیر گارنٹی کے قرضوں پر یہ شرح سود 20 فیصد سے بھی زیادہ ہے مگر دوسری طرف جو زیادتی ہوئی ہے قومی بچت کے اداروں سمیت متوسط طبقے کے ریٹائرڈ ملازمین کے ڈیازٹس پر شرح منافع ایک فیصد مزید کم کر دی ہے۔ ہمارے بنک کسی طرح عام لوگوں کا استحصال کر کے ہر سال 300 سے 400 ارب روپے کے منافع کماتے ہیں، اسکی سادہ مثال اس طرح ہے چاہے وہ عام کمرشل بنک ہے یا نام نہاد اسلامی بنک اگر کوئی شخص ان بنکوں میں ایک لاکھ روپے ڈیپازٹ جمع کرائے گا تو اسے شرح منافع 500 سے 700 روپے تک ملے گی اور اس پر بھی حکومت ودہولڈنگ ٹیکس اور زکوٰۃ منہا کر لے گی، اگر کوئی شخص بنک سے ایک لاکھ روپے قرض لے گا تو اسے شرح سود اس وقت ہزار روپے سے 1400 روپے تک دینی ہو گی۔ اس طرح ہمارے بنک ڈیپازٹس اور لینڈنگ کے فرق سے 50 فیصد منافع کماتے ہیں اور صارف کو محض 3 سے 7 فیصد دے رہے ہیں جو سراسر استحصال اور زیادتی ہے مگر نہ تو سٹیٹ بنک اور نہ ہی حکومت اسکا تدارک کرتی ہے کہ اگر سٹیٹ بنک شرح سود ڈسکائونٹ ریٹ کم کرتا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ کمرشل بنک ڈیپازٹس پر شرح منافع بھی اسی نسبت سے کم کر دیں۔ تمام مہذب ملکوں میں بنکنگ سپریڈ کی شرح دو سے چار فیصد ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں 10 فیصد سے زائد پہنچا دی جاتی ہے جس پر عام لوگ اپنی بچتیں بنکوں میں رکھنے کی بجائے نوسربازوں کے حوالے زیادہ منافع کے لالچ میں کر دیتے ہیں اور ساری عمر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
بجٹ میں حکومت نے 4200 ارب سے زائد کے بجٹ میں وصولیوں کا ہدف 3100 ارب روپے مقرر کیا ہے جو کہ حفیظ پاشا کے مطابق پورا نہیں کیا جا سکے گا اور اسکا حصول 2900 ارب تک ممکن ہو سکتا ہے اور اسکے علاوہ اس میں 9.1 ارب ڈالرز کی بیرونی امداد پر انحصار کیا جائے گا۔ بہرحال یہ بجٹ بھی عوام دوست ہونے کی بجائے سرمایہ کاروں اور تاجروں کے منافع جات میں اضافہ کرے گا اور اسکے بڑے حصے قرضوں اور سود کی واپسی، دفاع اور ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ پاکستان کے اس سال کے ترقیاتی بجٹ میں 938 پراجیکٹس پر 5200 ارب روپے خرچ ہونگے اور انفراسٹرکچر پر حکومت 394.3 بلین روپے خرچ کرے گی اور 2015-16 کے لئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 5.5 فیصد 2016-17 میں 6 فیصد اور اس سے اگلے سال 2017-18 میں 7 فیصد سے کیا گیا ہے۔ کل ترقیاتی بجٹ کا حجم جو 1513.7 ارب روپے پر مشتمل ہے جس میں 810 ارب روپے صوبے خرچ کریں گے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے 700 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی مالی محصولات کے 4313 ارب روپے کے قومی بجٹ میں بجٹ کے خسارے کا تخمینہ 1625 ارب ہے جبکہ دفاعی بجٹ کے 7 کھرب 80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ سال سے 11 فیصد زیادہ ہیں۔
اسحق ڈار کے اس بجٹ میں بہت سارے مثبت پہلوئوں کی وجہ سے بجٹ کسی حد تک گروتھ کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا مثلاً زراعت کیلئے قرضوں کا حجم 600 ارب تک بڑھانا اور زرعی مشینری پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حجم 102 ارب روپے تک لے جانا ایک احسن اقدام ہے مگر صحت اور تعلیم کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ تعلیم پر جی ڈی پی کا 1.67 فیصد اور صحت پر محض 0.42 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے۔