ہنر مند افراد کی بیرون ملک روانگی، جمہوریت کی ناکامی

سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلیپاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کے اسباب پر غور کرنے کے لیے مختلف سیاسی، سماجی، معاشی اور تاریخی عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت کے سفر کو مختلف ادوار میں بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فوجی مداخلت پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں  بہت اہم ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ملک میں جمہوری حکومتیں مارشل لا ء  کے ذریعے برطرف ہوتی رہی ہیں۔ 1958، 1977، اور 1999 میں فوجی حکومتوں نے منتخب حکومتوں کو ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس کے نتیجے میں جمہوری عمل میں تسلسل کی کمی رہی اور سیاسی نظام مستحکم نہیں ہو سکا۔سیاسی عدم استحکام بھی جمہوریت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور عدم تعاون کی بنا پر حکومتیں اپنے مقررہ مدت پوری کرنے میں ناکام رہیں۔ حکومتیں بار بار تبدیل ہوتی رہیں اور کوئی بھی حکومت مستحکم بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔معاشی مشکلات اور معاشی مسائل بھی پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کا ایک اہم عنصر ہیں۔ غربت، بے روزگاری، اور معاشی عدم مساوات نے عوام کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ جب لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں تو وہ جمہوری نظام پر اعتماد نہیں کرتے اور غیر جمہوری قوتوں کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔عدلیہ کی غیر موثریت بھی   جمہوریت کی ناکامی کی ایک وجہ ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات کی کمی، مقدمات کے طویل عرصے تک التوا، اور عدالتی فیصلوں میں سیاسی مداخلت نے عوام کا عدلیہ پر اعتماد کم کر دیا ہے۔ عدلیہ کی غیر موثریت سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوئی ہے۔تعلیمی نظام کی پسماندگی ،تعلیم کی کمی بھی جمہوریت کی ناکامی کا ایک سبب ہے۔ عوام کی بڑی تعداد ان پڑھ ہے یا انہیں معیاری تعلیم میسر نہیں ہے۔ اس سے عوام کی سیاسی شعور میں کمی آئی ہے اور وہ جمہوری اصولوں کو نہیں سمجھ پاتے۔ تعلیم کے فقدان کی بنا پر عوام غیر جمہوری قوتوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔فرقہ واریت اور دہشت گردی نے بھی جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات نے ملکی استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان حالات میں جمہوری حکومتیں عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہیں اور اس سے جمہوریت پر عوام کا اعتماد کم ہوا۔غیر موثر انتخابات ،انتخابات کی غیر شفافیت اور دھاندلی بھی جمہوریت کی ناکامی کا باعث ہے۔ پاکستان میں انتخابات کے دوران دھاندلی اور بے ضابطگیوں کی شکایات عام رہی ہیں۔ اس سے عوام کے ووٹ کا احترام نہیں ہوتا اور جمہوری نظام میں ان کی شرکت بے معنی ہو جاتی ہے۔رمیڈیا کا غیر ذمہ دارانہ کردار بھی جمہوریت کی ناکامی کی ایک وجہ ہے۔ پاکستانی میڈیا کا کچھ حصہ غیر جمہوری قوتوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور جمہوری حکومتوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے۔ اس سے عوام میں جمہوریت کے خلاف منفی تاثر پیدا ہوجاتا ہے اور عوام سیاست دانوں کے ہی دشمن بن کر غیر جمہوری قوتوں کے الہ کار بن جاتے ہیں اور کبھی یہ کرپشن کے نام پر کیا جاتا ہے اور کبھی اس کے لیے حب الوطنی یا مذہب کے سہارے لیے جاتے ہیں۔پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کے اسباب بہت متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ فوجی مداخلت، سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، عدلیہ کی غیر موثریت، تعلیمی نظام کی پسماندگی، فرقہ واریت، دہشت گردی، غیر موثر انتخابات، اور میڈیا کا کردار یہ سب عوامل مل کر جمہوری نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ ان مسائل کا حل تلاش کرنا اور جمہوری اصولوں کو مستحکم کرنا پاکستان کی سیاسی بقاء کے لئے ضروری ہے۔سیاست اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور جس طرح سے آجکل ہمارے ہاں کہا جا رہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام دور کیے بغیر معاشی عدم استحکام سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی ہے اور یہ بات حقیقت ہے۔ہمارے ملک میں جمہوریت کی ناکامی معیشت کی ناکامی کا بھی باعث بنی ہے اور ہم نے ایسی فاش غلطیاں کی ہیں جو کہ معیشت کی تباہی کا باعث بن گئیں ہیں۔ مستحکم معیشت میں ہنر مند افرادی قوت کی اہمیت موجودہ د ور میں مسلمہ ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار اس کی معیشت کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے مختلف عوامل کار فرما ہوتے ہیں، جن میں سب سے اہم چیز ہنر مند افرادی قوت ہے۔ ہنر مند افرادی قوت کسی بھی ملک کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ہنر مند افرادی قوت سے مراد ایسے افراد ہیں جو مختلف شعبوں میں خصوصی مہارت رکھتے ہوں۔ یہ افراد اپنے ہنر اور مہارتوں کی بنا پر معیشت کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی مہارتیں نہ صرف پیداواری عمل کو مؤثر بناتی ہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات کے ذریعے معیشت کو ترقی دیتی ہیں۔مستحکم معیشت کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی ضرور ت پیداواری عمل کی بہتری کے لیے ضروری ہو تی ہے۔ ہنر مند افرادی قوت پیداوار کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ افراد جدید تکنیکوں اور ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے معیشت کو استحکام ملتا ہے۔نئی ٹیکنالوجیز کی فروغ بھی یہی لوگ  دیتے ہیں۔ہنر مند افراد نئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات کے ذریعے معیشت میں تبدیلی لاتے ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجیز معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔مسابقتی صلاحیت ہنر مند افرادی قوت کسی بھی ملک کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔ یہ افراد اپنی مہارتوں کی بنا پر عالمی منڈی میں بہتر مسابقت فراہم کرتے ہیں، جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے۔خدمات کی فراہمی ہنر مند افراد مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں جیسے کہ تعلیم، صحت، آئی ٹی، اور دیگر شعبوں میں۔ ان خدمات کی فراہمی معیشت کو مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ہنر مند افرادی قوت نئی صنعتوں کی تشکیل اور پرانی صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرتی ہے، جس سے بے روزگاری کی شرح میں کمی آتی ہے۔لہذا ہنر مند افرادی قوت کسی بھی معیشت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ یہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے اور مستحکم معیشت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ہنر مند افرادی قوت کے بغیر کوئی بھی معیشت پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنایا جا سکے۔سیاست اور معیشت لازم و ملزوم ہیں اور سیاسی استحکام کے حصول تک ہنر مند افراد ملک چھوڑ کر فرار ہی ہو تے رہیں گے برین ڈرین ہو تا رہے گا اور ہم سیاست اور معیشت کی ناکامیوں کے اس گھن چکر میں دفن ہی رہیں گے۔

اُردو کیا ہے؟

محمد نوید اسلام  اُردو زبان کی کہانی اسلامی ثقافت کے ایک بے حد درخشاں باب کی ترجمانی ہے۔ اسلامی فتوحات اور مفتوحہ ممالک ...