استقبال محرم اور یاد مظلوم کربلا 

ہر قوم اپنے کیلنڈر کا آغاز جشن، مسرت، شادمانی، خوشی اور عید کے طور پر کرتی ہے جبکہ مسلمانوں کے کیلنڈر کا آغاز غم، دکھ، رنج ،الم اور آہ وبکا سے ہوتا ہے۔ اس لئے کہ  61ہجری میں کربلاکے تپتے صحراء  میں نواسہ رسول جگر گوشہ بتولی کو ان کے اعزاء   واقرباء   اور احباب سمیت بھوکا پیاسا ذبح کردیاگیا۔ محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی دنیا بھر میں امام حسین علیہ السلام کی یاد میں مجالس عزا اورجلوس ہائے عزاداری کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ چاند رات سے ہی دنیا کے اطراف واکناف میں مجالس کا آغاز ہوجاتا ہے عشرہ محرم الحرام پر خرچ ہونے والے بجٹ کا مقابلہ دنیا کے بڑے سے بڑے ممالک نہیں کرسکتے۔ امام حسین  کے نام کی نذر ونیاز جگہ جگہ بٹتی ہے۔ شہدائے کربلا کی یاد میں سبیلیں لگائی جاتی ہیں دنیا کی شائد ہی کوئی ایسی زبان ہو جس میں نواسہء  رسول  کی یاد نہ منائی جاتی ہو۔ علماء کرام، ذاکرین، نوحہ خوانوں اور مرثیہ خوانوں کی بڑی تعداد دنیا کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر عزاداری کے تقاضے پورے کرتی ہے۔ یکم محرم الحرام سے شام غریباں تک مساجد ، مراکز ، حسینیہ جات  امام بارگاہوں اور عاشور خانوں میں مجالس عزا میں حاضری بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ یزید جیسے ظالم وجابر اور ڈکٹیٹر کا نام لینے والا کوئی نہیں جب کہ نواسہ  رسولؐ کا عشق ہر اہل درد کے دل میں موجزن ہے۔ محرم نئے تقاضوں کا متمنی ہے۔ دنیا بھر میں اس سال مسلمانوں کو اپنے کردار عمل سے اسلام کا نظریہ امن اجاگر کرنا ہے۔ دنیا کو فکر کربلا سے روشناس کرانا ہے۔یزیدجیسے ظالم حاکموں کے جرائم سے مکمل طور پر نقاب ہٹانا ہے۔ حقیقی اسلام کے آفاقی اصولوں کو زبان زد عام کرنا ہے۔ عشرہ محرم الحرام کی مجالس عزا مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے بہترین درس گاہ ہیں۔ ہر تعلیمی ادارے میں لیول ضرور چیک ہوتا ہے۔ اس ادارے میں محبت و اخلاص کے سوا کچھ چیک نہیں ہوتا۔ شہدائے کربلا کی قربانی کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کی مجروح ساکھ بحال ہوسکتی ہے۔ شہدائے کربلا نے حق و باطل،صدق و کذب،شرافت و ذلت، خیر و شر اور امن ودہشت میں امتیاز کاخط کھینچا۔ آج مسجدوں کی اذانیں۔ خانہ کعبہ کا طواف ، بقائے اسلام  بقائے کلمہ طیبہ اور دین اسلام کا وجود ایثار کربلا کا نتیجہ ہے۔ مقتولین بد ر کا بدلہ لینے کا دعویدار یزید اپنی اصل جنگ ہمیشہ کے لئے ہار گیا اس نے شخصیت کی  پروموشن چاہی تھی جب کہ امام عالی مقام    مذہب کی بقاء کا مقدس مشن لے کر بڑھ رہے تھے۔

 محرم الحرام کی آمد سے قبل ایک طرف عاقبت نااندیش افراد یزیدکی وکالت کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری طرف دہشت گرد عزارانِ حسین  پر گولیاں برساتے ہیں۔ عشرہ محرم الحرام کے دوران خطباء  ومقررین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں۔ جرائد ورسائل میں قابل  اعتراض مواد شائع نہ کریں۔ نوجوان جذبات کے ساتھ ساتھ حقائق بینی اپنائیں۔ مملکت خدا داد میں فرقہ پرستوں نے عزاداروں  کے قتل عام کا سلسلہ ابھی بھی  جاری رکھاہوا ہے۔ ارباب اقتدار کے فرائض میں شامل ہے کہ دوران محرم امن وامان کو اپنی ترجیحی بنیادوں میں شامل رکھیں عشرہ محرم الحرام کی مجالس میں کیونکہ تمام فرقے شرکت کرتے ہیں۔ لہذا اتحاد اسلامی کیلئے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے۔نواسہ رسول  نے عشق توحید میں روضہ رسول کاجوار چھو ڑدیا تاکہ مدینہ میں قتل عام نہ ہو اسی لئے حج کے احرام کو عمرے میں بد ل کر جوارِ خانہ کعبہ سے بھی کوچ کر لیا کیوں کہ بعض لوگ حاجیوں کے لباس میں امام حسینؓ کو شہید کرنے آئے تھے۔محرم الحرام میں جہاں امام حسینؓ  کے قافلے کی تیاری کا ذکر ہوگا وہیں آپ کے وفادار یار وانصار کا تذکرہ بھی ہو گا۔ دنیا میں امام عالی مقام  کی مصبیت پر غم منانے والے پہلے شخص صحابی رسول  عروہ غفاری  ہیں جن کی کانوں کی سماعت اتنی کمزور تھی کہ بادلوں کی گھن گرج تک نہ سن سکتے تھے۔ ان کی زوجہ کہتی ہیں کہ 28 رجب کی رات کے پچھلے حصے میں بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور حیرت سے کہنے لگے کہ میں تو کچھ سن نہیں سکتا مگر میں دیر سے محسوس کررہاہوں کہ بیبییاں زور و  وقطار رو رہی ہیں۔ ان کی زوجہ نے عرض کیا۔کہ علی وبتول کی بیٹیوں کے رونے کی آوازیں ہیں۔ گویاخاندان رسولؐ کی مصیبتوں پر افسوس سنت صحابی رسول ہے۔ صحابہ کرام  کے بہی خواہوں کو ذکر امام حسینؓ میں شرکت ضرور کرنی چاہیے۔ ویسے بھی یزید صرف اہل بیت کے قتل کا سبب ہی نہیں بلکہ صحابہ کرامؓ کا بھی قاتل ہے۔کربلا اگر صرف دکھ بھری داستان ہوتی تو شائد اتنی دیر پا نہ ہوتی یہ انسانیت کی ہدایت کی عظیم ترین یونیورسٹی بھی ہے۔ جس سے شش ماہ بچے سے لیکر نوے سالہ بوڑھے تک کے لئے کورس موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں میں پڑھی سنی جانے والی داستان جب بھی دھرائی جاتی ہے تو اس میں نیا جوش وولولہ ہوتا ہے۔ عزم واستقلال ،ایثار ووفا، ہمت وصلاحیت، جذبہ وطاقت ،جہاد واصلاح ،شرافت ودیانت ،غیرت وحمیت اور ربط خالق ومخلوق کا وہ جوش لہو میں کھولتا ہے کہ انسان خود کو ہیچ سمجھ کر دین کو سب کچھ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ محرم الحرام میں شہادت عظمیٰ کے ہر پہلو کو اجاگر کیا جائے۔ کربلا نے کالے گورے، عربی عجمی اور آقا وغلام کے امتیاز مٹادئیے۔
 اہرام مصر سے بابل نینوا ، موہنجودڑو سے ھڑپہ وٹیکسلا تک آثار قدیمہ کی تاریخ پھیلی ہے مگر ایسے اوراق شاذو نادرہی کسی صفحہ قرطاس پر رقم ہونگے  جیسے شد و مد سے کربلا کی دھرتی پر رقم ہیں۔ عشرہ محرم میں جہاں امام حسین ؓ جیسے سردار نوجوانان بہشت کا ذکر ہوگا وہیں جون جیسے حبشی غلام کو بھی یاد کیا جائے گا۔ ہر امام بارگاہ میں ایک روز حر کے ذکر سے مختص ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو توبہ کی کشتی پرسوار ہونے والے چند گھنٹوں کے مہمان کی عظمت کا بھی احساس ہو صحابی رسول حضرت حبیب بن مظاہر، مسلم بن عوسجہ۔ زہیر ابن قین کا تذکرہ خصوصیت سے ہوتا ہے۔وہب کلبی جو ایک عیسائی جوان  تھا تازہ مشرف بہ اسلام ہوا تھا۔ اسکا تذکرہ بھی ہوتا ہے اوراسکی  ماں اور بیوی کی وفا کا بھی  ہے اما م عالی مقام کے اہل بیت سرکار غازی عباس۔ حضرت علی اکبر  ، حضرت علی اصغر حضر ت عون ومحمد حضرت قاسم حصرت عبدا ابن حسن اولاد عقیل اولاد جعفرطیار وغیرہ کا ذکر خصو صیت سے ہوگا۔ ابن عابس شاکری۔ بریر ہمدانی، نافع بن ہلال جیسے شہداء کی سیرت کے پہلو اجاگر ہونگے کربلا میں ظالم ظلم سے تھک گیا مگر صابر صبر سے نہیں تھکا ایسے افراد جو ماتم نہیں کرتے انہیں میں نے تبرک تقسیم کرتے ہوئے دیکھا ہے یہ بھی ایک عقیدت کا رنگ ہے۔ امام حسین نے کیونکہ ذھنیتیں بدل دی ہیں فکروں کو انقلاب بخشا ہے قوموں کو حیات دی ہے اس لئے غم حسین  کسی مذہب یا فرقے سے مختص نہیں ہے۔ بلکہ ہر مذہب وقوم میں ذکر حسین  کارواج ہے۔ حتّٰی کہ جنوں میں بھی ذکرِ امام حسین  کا بہت رواج ہے۔ راقم الحروف نے امریکہ کے ڈائون ٹاؤنز سے لے کر افریقہ کے جنگلوںں تک یورپ کے کلیسائوں کے پڑوس سے لیکر حجاز مقدس کی مساجد کے جوار تک۔ ترک وفارس کے تکیہ جات سے لیکر شام وامارات کے حسینیہ جات تک، ایران کے عزاخانوں سے لے کر عراق کے حوائرو مواکب تک۔ حیدر آباد دکن کے شاہی عاشور خانوں سے لیکر سندھ کے علم لہراتے جھگی نشینوں تک۔ کینیڈا کے برف پوش کہساروں سے لے کر سبی کی آگ برساتی وادیوں تک۔ یوپی کے قدیمی امام بارگاہوں سے لے کر پنجاب کے کھلے امام باڑوں تک میں نے اپنی آنکھوں سے شہدائے کربلا کی یاد کے وہ مناظر دیکھے ہیں کہ کبھی کبھی غیر شعور ی طور پر سوتے میں یا حسین  کی آواز نکل جاتی ہے۔ 
کربلا والوں نے ہمیں نامساعد حالات میں بھی دین پر چلنا سکھایا۔ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ امام عالی مقام کی فکر کو عام کریں۔ محذرات عصمت نے واقعہ کربلا کو کربلا کے ریگزاروں میں دفن نہیں ہونے دیا اسی طرح ہماری خواتین مردوں سے بڑھ کر مجالس حسین  میں حصہ لیتی ہیں  سب حضرات وخواتین کو جزائے خیر مرحمت فرمائے۔آمین اس سال کا محرم بہت سارے چیلنجز لے کر آ رہا ہے اور امت مسلمہ کو ایام محرم میں خاطر خواہ جدوجہد کی اشد ضرورت ہے۔اولاً امت محمدیہ کے درمیان وحدت و اتحاد ، مفاہمت و یگانگت اور عفو و درگزر کو رواج دینا ہوگا۔دوسروں پر فتوے لگانے کی بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔کربلا والوں کے پیغام کو نعروں تک محدود نہیں کرنا ہوگا بلکہ ان کے ایثار کو مشعل راہ قرار دے کر طاغوت سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ثانیاً اس مقدس انسٹیٹیوٹ کو ذاتی، خاندانی ، فروعی یا علاقائی مفادات سے ہٹ کر اجتماعی ، آفاقی اور دینی مفادات کے لیے ذریعہ سمجھنا ہوگا۔ثالثا ً بیت المقدس، کشمیر، یمن اور نائجیریا کی مظوم عوام کی داد رسی کے لئے تحریک چلانی ہوگی۔رابعاً سوشل میڈیا ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ امام حسین  اور شہدائے کربلا  کی قربانی کے فلسفے کو اجاگر کرنا ہوگا۔خامساً کربلا کے انسٹیٹیوٹ سے کج فکری، ہٹ دھرمی ، بد اخلاقی ، بدگفتاری،ظلم و تعدی اور لادینیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔ اگر محرم کے اختتام پذیر ہوتے ہی چہار دانگ عالم میں حسینیت کی خوشبو پھیل گئی اور یزیدیت کا تعفن ختم ہوگیا تو سمجھیں کے ہم کامیاب ہو گئے 
مظلوم سے الفت پیدا ہو 
آثار یزیدی مٹ جائیں