نواز حکومت نے معیشت کو درست رخ پر ڈال دیا: اقتصادی ماہرین

07 جولائی 2013

اسلام آباد (ابرار سعید/ نیشن رپورٹ) حکومت کی تشکیل کے صرف 30 روز بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لینا اگرچہ قبل از وقت ہے تاہم اقتصادی ماہرین نے مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے انتہائی قلیل عرصے میں ملکی معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے پر اس کی ستائش کی ہے۔ دوسری جانب سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے آغاز میں ہی آرٹیکل 6 کا پنڈورا باکس کھول دیا جس سے اس کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ کر نان ایشوز کی طرف مبذول ہو جائے گی اور عوام کے حقیقی مسائل کا حل مشکل ہو جائے گا۔ نواز شریف حکومت نے مثبت اقدام یہ اٹھایا کہ آتے ہی تباہ حال توانائی کے شعبے پر بھرپور توجہ مرکوز کی اور سرکلر ڈیٹ کے معاملے کو حل کرنے کی ٹھان لی تاہم بعض ماہرین کے مطابق اس بحران کے حل کیلئے پہلے انتظامی معاملات کو درست کرنا ضروری تھا وگرنہ سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا لے گا۔ پارٹی کے سینئر عہدیداروں نے بتایا ہے کہ نواز شریف اس مرتبہ ایک بدلی ہوئی شخصیت نظر آ رہے ہیں اور انہوں نے ایوان اقتدار میں داخل ہوتے ہی مسائل کو حل کرنے کی ٹھان لی ہے۔ کابینہ کی افتتاحی تقریب میں ہی انہوں نے تمام پارٹی عہدیداروں کو واشگاف الفاظ میں سمجھا دیا کہ انہیں تین ماہ کے اندر کارکردگی دکھانا ہو گی ورنہ انہیں اپنے عہدے واپس کرنا ہونگے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اگرچہ حکومت نے واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا تاہم پارٹی قیادت کے بیانات سے واضح ہو رہا ہے کہ حکومت افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کی خواہاں ہے لیکن یہ اگلے سال افغانستان سے نیٹو فوج کے انخلاءکے تناظر میں حکومت اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ہی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جبکہ ٹیکسوں کے نظام کی دیگر برائیوں کا خاتمہ نہیں کیا۔ اس طرح پہلے سے دباﺅ کے شکار شعبوں پر مزید بوجھ سے معیت مزید متاثر ہو گی۔