حکومت کو 230ارب سے زائد کے استثنیات کو ایک ایک کرکے پرکھنا ہو گا

07 جولائی 2013

اسلام آباد (عترت جعفری) آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو 5.3 بلین ڈالر کے نئے بیل آ¶ٹ پیکج دینے پر مائل کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو مجموعی طورپر 230 بلین روپے سے زائد کی ایگزامشنز کو ایک ایک کر کے پرکھنا پڑے گا اور انہیں ختم کرنے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ وفاقی حکومت ان میں سے جتنی بھی ایگزامشنز اڑائے گی وہ نئے ریونیو اقدامات بن جائیں گے اور اتنا ہی اضافی بوجھ عوام پر پڑے گا۔ وفاقی حکومت کی اپنی دستاویز کے مطابق براہ راست ٹیکسوں میں 30 جون تک 82 بلین روپے‘ سیلز ٹیکس میں 37 بلین روپے‘ کسٹمز ڈیوٹی میں 119 بلین روپے کی ایگزامشنز دی گئیں ان میں سے بیشتر کو حالیہ بجٹ میں بھی جاری رکھا گیا ہے۔ حکومت ڈائریکٹ ٹیکسز میں فنڈز‘ بورڈ آف ایجوکیشن‘ یونیورسٹیز اینڈ کمپیوٹر پر دی جانے والی ایگزامشن ختم کرتی ہے تو 80 کروڑ روپے ریونیو میں اضافہ ہو گا۔ 30 جون تک آئی پی پیز کو 48 بلین روپے کی براہ راست ٹیکسوں میں ایگزامشن دی گئی ہے۔ اس ایگزامشن کو واپس لینے سے 48 بلین روپے ریونیو بڑھ سکتا ہے۔ کیپیٹل گینز پر دی جانے والی ایگزامشن پر 4 بلین روپے ریونیو کا نقصان ہوا۔ اسی طرح وفاقی حکومت بعض سیکٹرز اور مخصوص انٹرپرائز کو ایگزامشنز فراہم کرتی رہی ہے جن پر 30 جون تک 15 بلین روپے ریونیو نقصان ہوا۔ سیلز ٹیکس میں ٹریکٹر‘ فارما سوئیکل مصنوعات‘ چینی اور بعض دوسری مدات میں 30 جون تک 37 بلین روپے کی ایگزامشنز دی گئی۔ کسٹمز ڈیوٹی میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو ایک ارب 49 کروڑ روپے‘ آلوموٹیو وینڈرز کو 11 ارب روپے‘ او ای ایمز آٹو موٹیو کو 30 جون تک 19 ارب روپے سے زائد کا استثنیٰ دیا گیا۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...