پنگریو ،زمیندار کی مبینہ نجی جیل سے خواتین اور بچوں سمیت 50 ہاری بازیاب

07 جولائی 2013

 پنگریو ( این این آئی) پنگریو پولیس نے دیہہ کنڈڑی میں مقامی زمیندار ویرو رباری کی مبینہ نجی جیل سے خواتین اور بچوں سمیت قید کئے گئے پچا س ہاریوں کو بازیاب کرالیا ہے اور انہیں پنگریو تھانے میں منتقل کر دیا ہے۔
 اس ضمن میں بازیاب کرائے جانے والے ہاری خاندان کے ایک فرد ڈرنگو کولہی نے فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج بدین کو درخواست دی تھی زمیندار ویرو رباری نے اس کے پچاس رشتہ داروں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیںزبردستی قید کر رکھا ہے اور ان سے جبری مشقت لی جارہی ہے لہذا ان کو بازیاب کرایا جائے جس پر عدالت نے پنگریو پولیس کو احکامات جاری کئے درخواست گزار کی نشاندہی پر ہاریوں کو بازیاب کراکر عدالت میں پیش کیا جائے۔ پنگریو پولیس نے عدالتی احکامات پر زمیندار ویرو رباری کی زمین واقع دیہہ کنڈڑی پر چھاپہ مار کر کولہی برادری کے پچاس سے زائد ہاریوں کو بازیاب کرالیا بازیاب کرائے جانے والوں میں اکیس بچے اور تیرہ خواتین بھی شامل ہیں پنگریو تھانے میں ان ہاریوں نے میڈیا کو بتایا کہ زمیندار ویرو رباری نے انہیں تین سالوں سے قید میں رکھا ہوا تھا اور وہ ان سے جبری مشقت لیتا تھا زمیندار نے انہیں تین سالوں سے فصلوں کا حساب کتاب بھی نہیں دیا اور انہیںسنگین نتائج کی دہمکیاں دیتا تھا بازیاب کرائے جانے والے ہاریوں میں والجی کولہی، پربھو، تاری، سہنی، آلم، گنگا، پاروتی، لچھمی، ریشم، لیری، پریم چند۔ کرن، مینا، جادھو، پرکاش، تیجن۔ شیوجی، بھیرو، ہیراوتی ، کشور، نیوو، بھاوو، دھنجی، سونل،گاوری، تلسی، گنگا، جے رام اور شانتی شامل ہیںا دھر پنگریو پولیس نے ان بازیاب کرائے جانے والے تمام ہاریوں کو فرسٹ ایڈیشنل سیشن کورٹ بدین میں پیش کیا عدالت نے ہاریوں کے بیانات کے بعد انہیں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت دے دی جس کے بعد یہ ہاری نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے۔