کراچی میں اردو بولنے والے صرف 20، سندھی 60 فیصد ہیں، رحمان ملک

07 جولائی 2013
کراچی میں اردو بولنے والے صرف 20، سندھی 60 فیصد ہیں، رحمان ملک

کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں اردو بولنے والے صرف 20 فیصد ہیں 60 فیصد سندھی 20 فیصد پنجابی، سرائیکی اور دیگر قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے خلاف بنائی جانے والی قومی پالیسی کی حمایت کرے گی، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ وہ ہفتہ کو بلاول ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو اجلاس بلائے گی ہم اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں یہ تاثر ہے کہ اپوزیشن حکومت کی دشمن ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے میں مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو عوام نے حالیہ انتخابات میں منتخب کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو کسی نے کراچی سمیت کہیں آنے جانے سے نہیں روکا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پیپلز پارٹی میں کوئی دوری نہیں۔ دونوں جماعتیں رابطے میں ہیں۔ شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کو حالیہ انتخابات میں مینڈیٹ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کوسندھ حکومت میں شمولیت کے لیے دعوت دی ہے ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ ایک گلدستے کی طرح ہے، ہم سب کو مل کو قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اگر موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے تو یہ اس حکومت کی اپنی معاشی پالیسی ہے۔ اگرآئی ایم ایف سے قرضہ نہ لیتے ملک کو کیا دیوالیہ کردیتے؟ انہوں نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے اپیل کروں گا کہ وہ بلیم گیم کا سلسلہ بند کریں۔