پیپلز پارٹی نے جو قرض ہوا میں اڑا دیا اسے واپس کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس گئے: پرویز رشید

07 جولائی 2013
پیپلز پارٹی نے جو قرض ہوا میں اڑا دیا اسے واپس کرنے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس گئے: پرویز رشید

لاہور (نوائے وقت نیوز/ ایجنسیاں) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے، تمام صوبے وفاق کیلئے برابر ہیں، مطلوبہ انٹیلی جنس تمام صوبوں کو فراہم کی جا رہی ہے، تمام جماعتیں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں متحد ہیں، حکومت نے ایک ماہ میں توانائی شعبہ کا 503 ارب روپے کا گردشی قرضہ واپس کرنے کے انتظامات کئے ہیں، پی پی حکومت یہ کام پانچ برس میں نہیں کرسکی۔ رمضان المبارک میں سحری و افطاری اور تراویح کے وقت پانچ گھنٹے بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے انتظامات کرلئے تاکہ لوگ اپنا مذہبی فریضہ بہتر طریقہ سے انجام دے سکیں ۔ حکومت کی ترجیح کرسیوں کا حصول نہیں بلکہ ملک سے توانائی بحران کا خاتمہ، دہشت گردی کا خاتمہ اور معیشت کی بحالی ہیں دہشت گردی کیخلاف متفقہ پالیسی تشکیل دی جائیگی۔ آئی ایم ایف سے قرض پرانے قرض واپس کرنے کیلئے لیا۔ آئی ایم ایف کی کوئی شرط قبول نہیں کی۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل پر اگر لندن پولیس مدد طلب کریگی تو پاکستان حکومت قانون کے مطابق مد فراہم کریگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ایمرا کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ پرویز رشید نے کہا کہ صوبائی حکومتیں جو افسر مانگتی ہیں وہ ان کو دیدئیے جاتے ہیں، کس کو آئی جی اور چیف سیکرٹری لگانا ہے یہ فیصلہ وزیراعلیٰ کا ہوتا ہے، وفاق کسی کو چیف سیکرٹری اور آئی جی بنا کر نہیں بھیج سکتا۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے پنجاب ، سندھ ، خیبر پی کے اور بلوچستان حکومتوں سے کہا ہے کہ وفاق ہر طرح کی مدد کیلئے تیار ہے۔ وفاق خود کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اسے صوبائی خود مختاری میں مداخلت سمجھا جاتا ہے ہماری طرف سے کوئی بیان آجائے اور اس میں کوئی زیر زبر کا فرق بھی آ جائے تو اس پر خصوصاً سندھ والے شور مچاتے ہیں کہ وفاق صوبائی حکومت کو گھر بھیجنا چاہتا ہے اور گورنر راج لگانا چاہتا ہے اسلئے ہم احتیاط سے کام لیتے ہیں کہ کسی کو ہم پر شک نہ ہو ۔ ہماری حکومت کو 30 روز ہوئے ہیں جبکہ سندھ میں آج بھی پی پی کی حکومت ہے اور گزشتہ پانچ سال وفاق اور صوبہ میں پی پی کی حکومت تھی جو باتیں وہ آج کررہے ہیں وہ پہلے بھی کرسکتے تھے۔ پرویز رشید نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، کوئی تقسیم نہیں ہے تقسیم صرف یہ ہے کہ ایک طرف لوگ ملک کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسرے ملک کو دہشت گردی کا میدان بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، پ±رامن ملک دیکھنے والوں میں جماعت اسلامی، پی پی، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور دیگر تمام جماعتیں شامل ہیں، یہ تمام جماعتیں ملک کو مضبوط اور مستحکم ملک دیکھنا چاہتی ہیں، ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف ہمارے اور دہشت گردوں کے درمیان ہیں ہم سب دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ایک ہیں ایسے سوالات اٹھا کر انکی مدد ہوجاتی ہے جو دہشت گردی کیلئے ماحول بنانا چاہتے ہیں، سندھ حکومت اپنے اختیارات استعمال کریں اور جہاں ضرورت سمجھیں وہ وفاق سے مدد طلب کر سکتے ہیں، ہم ہر طرح سے مکمل تعاون کریں گے ۔ انکا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ ہر سطح پر ہوتی ہے صوبائی حکومتوں کو رپورٹس بھجوائی جاتی ہیں اور اگر کسی کو خاص اطلاع چاہے تو وہ خود انہیں مانگنا پڑے گی اور یہ سہولت وفاق فراہم کریگا۔ پرویز رشید نے کہاکہ حکومت کی دلچسپی کرسیوں سے ہٹ کر ہے، حکومت ملک میں توانائی کے بحران کو حل کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعظم نے وزیر پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے رمضان المبارک میں افطاری کے وقت تین گھنٹے لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی تاکہ لوگ افطاری اور تراویح ادا کر سکیں جبکہ سحری کے وقت دو گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، یہ اسلئے کہا گیا کہ لوگ رمضان میں اپنا مذہبی فرض آسانی سے ادا کرسکیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملہ میں ہم نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے، نیشنل سیکورٹی کے اداروں سے مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور ان کا ان پٹ حاصل کیا ہے ۔ دہشت گردی کے بارے میں اے پی سی بلائی جائے گی ۔ جس میں پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی قیادت کو مدعو کیا جائیگا تاکہ دہشت گردی کیخلاف متفقہ پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ حکومتی بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے نہیں لیا بلکہ خورشید شاہ کی حکومت کی جانب سے لئے گئے قرضے کو واپس کرنے کیلئے لے لیا ہے، پی پی والے یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ انہوں نے ان قرضوں سے کون سا منصوبہ بنایا ہے۔ ہمارے منصوبے سامنے نظر آتے ہیں پی پی نے جو قرض لئے وہ حکومتی اخراجات میں خرچ ہو گئے یہ ہوا میں اُڑ گئے ۔ ہم نے آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں مانی اس قرض کو بجٹ میں خسارے کو پورا کرنے کیلئے استعمال نہیں کیا جائیگا ہم آئندہ دو تین سال میں ایسے اقدامات کریں گے کہ ملک کو آئندہ ایسا قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پھانسی کی سزا کو ختم کرنے کا قانون کبھی نہیں بنا ہی نہیں۔ رحمان ملک نے ایک غیرقانونی سٹے آرڈر جاری کیا کہ پھانسی کے ملزمان کی تمام فائلیں ہوم منسٹری میں پڑی رہیں گی اور صدر کے پاس نہیں بھجوائی جائیں گی، ہم نے اس کام کو ختم کر کے کہا ہے کہ تمام فائلیں صدر کے پاس بجھوائی جائیں گی وہ اپنا اختیار استعمال کریں گے ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمہ پر سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں عملدرآمد جاری ہے جبکہ نیب چیئرمین کی تقرری پر مشاورت کا عمل جاری ہے آئندہ ایک ہفتے میں کام مکمل ہو جائے گا۔ برطانیہ میں قانون موجود ہے پوری دنیا میں اس کی مثالیں دی جاتی ہیں برطانیہ کی شہزادی کا کتا بھی کسی کو دیکھ لے تو اس پر بھی جواب طلبی ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی لندن پولیس تفتیش کررہی ہے اگر ہم سے مدد طلب کی جائیگی تو ہم اس پر اپنا قرض ادا کریں گے ۔ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کو متاثر کرتے ہیں اور اجتماعی نقصان کا باعث بھی بنتے ہیں۔ پاکستان کی سالمیت کو کئی اطراف سے خطرہ ہے۔پرویز رشید نے مزید کہا کہ 3 برس میں 6 روپے یونٹ سستی بجلی پیدا کرینگے