لوڈشیڈنگ دورانیہ 18 گھنٹے تک پہنچ گیا‘ احتجاجی مظاہرے‘ حبس سے 3 افراد جاں بحق

07 جولائی 2013

لاہور (نامہ نگاران) بجلی کا بحران مزید سنگین ہوگیا، اکثر علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے تک جا پہنچا جبکہ برسات کے بعد شدید حبس کی وجہ سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ لوڈشیڈنگ کیخلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ لوڈشیڈنگ کے باعث اکثر علاقوں میں پانی بھی ناپید ہو گیا۔ کنجوانی سے نامہ نگار کے مطابق نواحی گاﺅں چک 457 گ۔ ب کے رہائشی شہامند علی اور اللہ دتہ سخت گرمی اور لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت نہ کرسکے اور جان کی بازی ہار گئے۔ ساہوکا سے نامہ نگار کے مطابق دیوان صاحب میں لوڈشیڈنگ میں گرمی کی شدت سے امیراں بی بی جاں بحق ہو گئی، متعدد افراد بے ہوش ہو گئے۔ بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بجلی کے ہائیڈل تھرمل اور پاور پلانٹس کی پیداوار میں 35سو میگاواٹ کمی کے باعث شارٹ فال 5500میگاواٹ ہو گیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق لوڈشیڈنگ و ٹرپنگ کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ نے بھی عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے گھریلو سامان الیکٹرانکس سامان تباہ ہو رہا ہے، شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے صورت حال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کر دئیے ہیں۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20گھنٹے سے تجاویز کر جانے سے شہری حکمرانوں کو کوسنے لگے۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 17جبکہ دیہات میں 20گھنٹے سے بھی تجاوز کر جانے کے باعث کاروبار زندگی بری طرح مفلوج ہو گیا۔ شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی اسے کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ مانانوالہ سے ناہم نگار کے مطابق سخت گرمی اور حبس کے باعث بیسیوں شہری بیمار ہوکر ہسپتالوں میں پہنچ گئے، بجلی کی بار بار ٹرپنگ سے لوگوں کے لاکھوں روپے مالیت کے برقی آلات فریزرز، ٹیلی ویژن واٹر پمپ وغیرہ جل گئے۔