آرٹیکل 6 کے تحت آمروں‘ انکے معاونین کیخلاف کارروائی 1956ءسے شروع کی جائے: ہائیکورٹ بار کے سیمینار کی قرارداد

07 جولائی 2013

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ بار میں منقعدہ سیمینار میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1956ءسے ملک کے آئین کو توڑنے اور ان کی اعانت کرنے والے ہر ادارے کے افراد کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔ جن اداروں کے عہدےدار آئین توڑنے، اسے معطل کرنے اور نقصان پہنچا کر عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے میں ملوث رہے ہیں، ان سب کیخلاف کارروائی کی جائے۔ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور پریس کلب کے اشتراک سے ”موجودہ ماحول میں آئین کے آرٹیکل 6 کی اہمیت اور دائرہ کار“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی آمر کے غیر آئینی اقدامات کی پارلیمنٹ اور عدلیہ بھی توثیق نہیں کرسکتے۔ اس لئے ماضی میں غیر آئینی اقدامات کو ک سی بھی ادارے کی طرف سے توثیق کو مسترد کیا جاتا ہے۔ صرف 3 نومبر 2007ءکے غیر آئینی اقدامات کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی انصاف سے زیادہ مکافات عمل کا نتیجہ ہوگی۔ اس طرح کا ٹرائل عوامی مفاد میں نہیں بلکہ مخصوص عناصر کی طرف سے انتقامی کارروائی لگے گی جو ماضی میں خود فوجی آمروں کے حمائتی رہے ہیں۔ ان عناصر میں صرف فوج کے جرنیل ہی نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر عابد ساقی، عاصمہ جہانگیر، خواجہ محمود احمد، ملک سعید حسن، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور دیگر مقررین نے کہا کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ملک میں جب تک آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی نہیں ہوتی آمریت کا راستہ نہیں رکے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلاامتیاز دستور کو توڑنے والوں اور انکا ساتھ دینے میں ملوث ذمہ داران کا آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کیا جائے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پرویز مشرف نے اسلحہ کے زور پر قبضہ کیا، عدلیہ کو قانون کے زور پر قبضہ نہیں کرنا چاہئے، احتساب کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ کسی کو پھانسی دےدی جائے یا ہاتھ کاٹ دئیے جائیں۔ انہیں مشرف سے کوئی ہمدردری نہیں لیکن ان کا ٹرائل انتقامی نہیں ہونا چاہئے، عدلیہ بحالی کے بعد ججز کو پرویز مشرف کے زیرسایہ کام کرنے کے بجائے استعفیٰ دیدینا چاہئے تھا۔ موجودہ عدلیہ میں کام کرنے والے تمام ججز پی سی او کے تحت حلف اٹھاچکے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ آج کا شہری مشرف کے بارے میں نہیں بلکہ اپنی روزی روٹی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اسے اس بجلی کا بل دینا پڑ رہا ہے جو کہ آتی ہی نہیں۔ ایک عام فرد کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر عابد ساقی نے کہا کہ اس تقریب کے مقررین کی آواز درحقیقت 18 کروڑ عوام کی آواز ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک آمر کو سزا دینے کا یہ سنہری مو قع ہے اگر ہم نے یہ ضائع کردیا تو سب کچھ ضائع کر دیا۔ ارشد انصاری نے کہا کہ صحافی برادری میاں نوازشریف کو پرویز مشرف کیخلاف کارروائی کا اقدام کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...