ریلوے ٹریک پر بغیر گیٹ پھاٹک حادثات کی بڑی وجہ، 400 کراسنگ انتہائی خطرناک

07 جولائی 2013

لاہور (سٹاف رپورٹر) ریلوے ٹریک کی مین لائنوں پر بغیر گیٹ کے پھاٹکوں نے نہ صرف ٹرین کے سفر کو غیرمحفوظ کردیا ہے بلکہ ان سے گزرنے والے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات ہیں۔ پھاٹکوں کے چاروں اطراف سے بغیر کسی آگاہی کے 24گھنٹے جاری رہنے والی آمدورفت سے مزید حادثات رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ زیادہ تر حادثات موسم سرما میں دھند کی وجہ سے پیش آتے ہیں اور اب تک سینکڑوں معصوم شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ محکمہ ریلوے اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مکمل تعاون نہ ہونے اور فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر پھاٹک نہیں لگائے جاتے۔ ریلوے ٹریک پر بنائے گئے زیادہ تر بغیر پھاٹک کے کراسنگ صرف اور صرف جاگیرداروں، وڈیروں اور زمینداروں کی زمین کو راستہ دیکر ان کی قیمتوں میں اضافہ کےلئے بنائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک پر کل 4072 کراسنگ ہیں جن میں سے 1341 مینڈ لیول کراسنگ جبکہ 2731 ان مینڈ لیول کراسنگ ہیں جن میں سے 400 ان مینڈ لیول کراسنگ انتہائی خطرناک ہیں جہاں حادثات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تمام ان مینڈ لیول کراسنگ کو مینڈ لیول کراسنگ میں تبدیل کرنے کےلئے 11 ارب روپے کے اخراجات درکار ہیں جبکہ یہاں تعیناتی کےلئے 9423 گیٹ کیپر بھی درکار ہوں گے۔ کراچی ڈویژن میں 481، سکھر ڈویژن میں 632، ملتان ڈویژن میں 553، لاہور ڈویژن میں 426، راولپنڈی ڈویژن میں 318، پشاور ڈویژن میں 170 اور کوئٹہ ڈویژن میں 151 ان مینڈ لیول کراسنگ ہیں اور ایک ان میں لیول کراسنگ کو مینڈ لیول کراسنگ میں تبدیل کرنے پر تنخواہوں کے اخراجات کے ساتھ 40 لاکھ لاگت آئیگی۔