عائلی مقدمات:جوڈیشل کونسل کو فیملی مصالحتی اتھارٹی بنانے کی تجویز

07 جولائی 2013

 لاہور (ایف ایچ شہزاد) قومی جوڈیشل کونسل کو عائلی مقدمات کیلئے فیملی مصالحتی اتھارٹی بنانے سمیت متعدد اصلاحات کی تجویز دیدی گئی۔ جن کا مقصد عائلی مقدمات میں معاشرتی سطح پر بچوں اور خواتین کو مقدمے بازی کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانا ہے۔ بار ایسوسی ایشنز وکلا سماجی تنظیموں اور این جی اوز کی طرف سے کونسل کو سفارشات میں کہا گیا ہے مذہب سے دور، مصالحتی نظام کی کمزوریوں، قانونی پیچیدگیوں اور مشترکہ خاندانی نظام سے بتدریج کنارہ کشی کے باعث عائلی معاملات میں ہونیوالی مقدمے بازی نے معاشرتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عائلی مقدمات کی تعداد میں ہوشربا اضافے کے سبب خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد معاشرتی سطح پر متاثر ہو رہی ہے۔ مصالحتی نظام کو مضبوط بنا کر سینکڑوں گھر اجڑنے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ مروجہ مصالحتی نظام یونین کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جہاں ناظم یا ایڈمنسٹریٹر کو عائلی معاملات نمٹانے کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور لوگ سیاسی افراد کے ذریعے سفارشیں کروا کر باہمی چپقلش کا ماحول پیدا کر لیتے ہیں جس میں فریقین کے مابین کسی بھی مصالحت کا امکان دم توڑ جاتا ہے اسلئے مصالحت میں مجسٹریٹی نظام کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔ پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عائلی مقدمات کی تعداد 10 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ عائلی مقدمات کی تعداد سے ضلع لاہور پہلے، فیصل آباد دوسرے اور راولپنڈی تیسرے نمبر پر ہے۔ قانون کے ماہر وکلا کا کہنا ہے کہ مسلم لاءفیملی آرڈیننس 1961ءمیں بھی مصالحت سے متعلق کلاز رکھی گئی ہیں مگر ان پر عملدرآمد کے بارے میں فریقین کو آگاہی ہی نہیں دی جاتی۔