اسرائیل کی خوشنودی کیلئے اسلامی ملک مصر کا عبوری صدر یہودی کو بنا دیا گیا

07 جولائی 2013

قاہرہ (خصوصی رپورٹ) عیسائی ہونے کے دعویدار مصرکے عبوری صدر عدلی منصور یہودیوں کے سبتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے الجزیرہ ٹی وی کے صحافی احمد منصور نے فیس بک پیج پر انکشاف کیا ہے کہ سبتی یہودی فرقہ مصر میں بہت اثرورسوخ کا مالک ہے اور قبطی عیسائیوں کے چرچ میں بھی انکا کافی اثرونفوذ ہے۔ یہ فرقہ مصر کے قانون، ذرائع ابلاغ اور تجارت کے شعبوں میں چھایا ہوا ہے۔ احمد منصورکی رپورٹ کے مطابق مصر کے عبوری صدرعدلی منصور نے گزشتہ برس عیسائیوں کا دل جیتنے کیلئے عیسائی ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا تاہم آرتھو ڈکس پوپ نے انہیں عیسائی تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے مصری فوج کی طرف سے ایک یہودی کو عبوری صدر مقرر کرنا اسرائیل کیساتھ خوشگوار تعلقات پیدا کرنے کی کوشش ہے جو اسلام پسند صدر محمد مرسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد کافی خراب ہوگئے تھے۔ واضح رہے سبتی یہودیوں اور قبطی عیسائیوں میں نظریات کے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ قبطی عیسائی، سبتی یہودیوں کو فسادی اور گمراہ کن خیالات کا حامل سمجھتے ہیں۔ سبتی یہودی فرقے کی بنیاد 1831ءمیں امریکہ میں فوجی افسر ولیم ملیئر نے رکھی اور امریکی فوج کے اعلیٰ افسروں کے ہاتھوں تشکیل پانے کے سبب 1861ءمیں اسے سرکاری سطح پر رجسٹرڈ کرلیا گیا۔ سبتی یہودی فرقے میں یہودیوں اور عیسائیوں دونوں کی تعلیمات کی آمیزش ہے۔
مصر/عبوری صدر