مصر : جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 45 ہو گئی : البرادی عبوری وزیراعظم اخوان نے نامزدگی مسترد کر دی

07 جولائی 2013
مصر : جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 45 ہو گئی : البرادی عبوری وزیراعظم اخوان نے نامزدگی مسترد کر دی

قاہرہ (نوائے وقت رپورٹ + اے ایف پی + ایجنسیاں) مصر میں لبرل رہنما محمد البرادی کو عبوری وزیراعظم نامزد کر دیا گیا۔ فوجی حکام نے بھی البرادی کو وزیراعظم نامزد کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اخوان المسلمون نے البرادی کی بطور وزیراعظم نامزدگی مسترد کر دی ہے اور آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مصر میں صدر محمد مرسی کی برطرفی کیخلاف انکے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، پرتشدد مظاہروں میں اب تک 45 سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری نے صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مظاہروں میں شدت دور روزقبل اس وقت آئی جب محمد مرسی کی برطرفی کیخلاف مظاہرے پر فوج کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔ مصر کی فوج نے عوام کو پرامن احتجاج کے حق کی ضمانت دی تھی۔ صدر مرسی کی برطرفی کیخلاف اخوان المسلمون کے حامیوں نے ہفتہ کو بھی مظاہرے کئے۔ وزراتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں ہونیوالے دو الگ الگ مظاہروں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے، سکندریہ میں بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ قاہرہ میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب مرسی کے حامیوں نے ریپبلکن گارڈ ہیڈ کواٹرز کی جانب جمع ہونا شروع کیا جہاں اطلاعات کے مطابق محمد مرسی کو رکھا گیا ہے۔ دریں اثناءاخوان المسلمون کے نائب سربراہ خیرات الشاطر گرفتار کر لےا گےا ہے۔ اب تک 500 افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ خیرات الشاطر کو محمد مرسی کے بعد تنظیم کے سب سے زیادہ بااثر اور طاقتور سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مصری وزارت داخلہ کا کہنا ہے خیرات الشاطر کو انکے بھائی سمیت دارالحکومت قاہرہ کے مشرق میں واقع ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر مظاہرین کو تشدد پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مصر میں اسلامی جماعتوں کے اتحاد اور اخوان المسلمون نے احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ معزول صدر کے لاکھوں حامیوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق صرف شمالی شہر سکندریہ میں معزول مصری صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ قاہرہ میں ہونیوالی جھڑپوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دیگر 60 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مبینہ طور پر محمد مرسی کے مسلح حامیوں نے جزیرہ نما سینا کے شمال میں صوبائی ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے دوطرفہ فائرنگ کے بعد شہر العریش میں واقع ہیڈ کوارٹر پر سیاہ رنگ کا پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ میڈیکل ذرائع نے العریش میں ہونیوالی لڑائی میں 16 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ مصری حکومت نے شمالی سینا کے علاقے میں غزہ پٹی کے ساتھ گزرگاہ والی قومی سرحد غیر معینہ عرصے کیلئے بند کردی ہے۔ اس فیصلے سے چند گھنٹے قبل عسکریت پسندوں نے اس علاقے میں چار مختلف مقامات پر حملے کئے تھے۔ ان حملوں میں دو فوجی چیک پوسٹوں، ایک پولیس سٹیشن اور العریش کے اس ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جہاں فوجی ہوائی جہاز کھڑے تھے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر ایک مصری فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اسلامی جماعتوں کے اس اتحاد کی طرف سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے، پر امن مظاہروں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک محمد مرسی کو بحال نہیں کیا جاتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اعلان کے مطابق مظاہرے جاری رہے تو ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کی صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصر کی صورتحال اور ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بحران کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ نے بھی خونریزی کی مذمت کرتے ہوئے فوج سمیت تمام رہنماﺅں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں خونریزی کے خاتمہ کو یقینی بنائیں۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ مصرمیں فوجی بغاوت پرمغرب کی خاموشی شرمناک ہے، ایک ٹی وی بیان میں اردگان نے متنبہ کیا کہ اس قسم کی فوجی بغاوت کی پوری قوم بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کرنا چاہئے۔ فوجی بغاوت جمہوریت کی دشمن ہے، بندوق کی نوک پر عوام اور میڈیا کو خوفزدہ کرنے سے کبھی جمہوریت پروان نہیں چڑھتی، جمہوریت صرف بیلٹ کے ذریعے سے ہی ترقی کر سکتی ہے۔ اردگان نے فوجی بغاوت پر افریقن یونین کی جانب سے مصر کی رکنیت کی معطلی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں مصرمیں جمہوریت پر زور تو دیتی رہی ہیں لیکن ایک اسلامی رہنما کی حکومت کا تختہ الٹنا ایک ٹیسٹ کیس تھا جس میں وہ ناکام رہے۔ مصر کے معاملے پر مغرب کی جانب سے مذمت تک نہیں کی گئی، جمہوریت میں دوہرا معیار نہیں چلتا۔ انہوں نے اپنے ملک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی مرتبہ یہاں بھی فوجی بغاوتیں ہوئیں، ہر فوجی حکومت نے ترک معیشت کو تباہ کیا جس کا خمیازہ پوری قوم اور نوجوان نسل کو بھگتنا پڑا۔ یاد رہے کہ رجب طیب اردگان 2002ءمیں وزیراعظم بنے اور ترک کی معیشت دن بہ دن ترقی کرتی جا رہی ہے، معیشت کی ترقی کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنے پر وہ مسلسل تیسری بار وزیراعظم منتخب ہو رہے ہیں۔ ترک فوج خود کو سیکولرزم کی محافظ سمجھتی ہے، نصف صدی کے دوران 4 مرتبہ فوجی بغاوتیں ہوئیں۔ امریکی سینیٹر جان مکین نے مصر کی فوجی امداد بند کرنے کی تجویز سینٹ میں پیش کر دی ہے۔ انوہں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں آمریتوں کی حمایت کر کے جو غلطی کی اسے دہرانا نہیں چاہئے۔ ایک جمہوری منتخب حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنا آمریت کی بدترین مثال ہے۔ ہمیں آمریت کی مدد سے گریز کرنا چاہئے۔ جب تک مصر کی فوج اگلے انتخابات کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دے دیتی تب تک مصر کی فوجی امداد معطل رکھی جائے۔ قاہرہ اور سکندریہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں 15 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 318 زخمی ہوئے۔ قاہرہ میں اخوان المسلمین کے سپریم رہنما محمد بدیع نے ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم اس وقت تک التحریر سکوالر میں رہیں گے جب تک ہم صدر محمد مرسی کو واپس اقتدار میں نہیں لاتے، ہمارا احتجاج پرامن ہو گا۔ اس کے فوراً بعد اخوان المسلمین کے حامی التحریر سکوالر کی جانب بڑھے جہاں محمد مرسی کے مخالفین جمع تھے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ جھڑپیں آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتی گئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران ایک کار کو آگ لگا دی گئی۔ مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے ایک دوسرے پر پتھرا¶ بھی کیا۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ مصر میں فوج کا احترام تھا لیکن ملکی سیاست میں فوج کی مداخلت نے عوام کو منقسم کر دیا ہے، مصر با ایک نہیں دو ہیں۔ مظاہروں پر اقوام متحدہ اورو امریکہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد روکنے پر زور دیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے اپنے بیان میں کہا ہم تمام مصری رہنما¶ں پر زور دیتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے حامیوں کو تشدد سے روکیں۔ اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق مصر کے رہنما¶ں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول و فعل سے یہ بات ثابت کریں کہ پرامن اور جمہوری مذاکرات میں خواتین سمیت تمام افراد کو شامل کیا جائے۔
مصر / جھڑپیں