چین کی مدد سے توانائی بحران پر قابو پا لیں گے : نوازشریف

07 جولائی 2013

شنگھائی (نوائے وقت نیوز + اے پی اے + آن لائن + اے پی پی) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ چین کے تعاون سے توانائی بحران پر قابو پا لیں گے۔ بجلی کی کمی پوری کرنے کیلئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کرلی۔ معیشت بھی بحال کریں گے۔ معیشت کی بحالی اور توانائی بحران کاخاتمہ بڑاچیلنج ہے، پاکستان اور چین نے اقتصادی راہداری منصوبے پر اتفاق کیا۔ توانائی بحران کاحل مسلم لیگ (ن) کے منشورکاحصہ ہے، بجلی کی ترسیل کا نظام مضبوط بنائیں گے، چین کے ساتھ جامع اور پائیدار تعلق ہے۔ پاکستان چین توانائی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ انہوں نے پہلے دورے کیلئے چین کا انتخاب مضبوط دوستی کے تناظر میں کیا، پاکستان چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ حکومت بجلی بحران حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ توانائی سکیورٹی سے متعلق ایجنڈے پر کام جاری ہے۔ نندی پور منصوبے کو بحال کردیا ہے۔ لائن لاسز کم کر کے بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنایا جائیگا۔ چینی کمپنیاں سورج کی روشنی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں تعاون کریں۔ شنگھائی میں پاک چین انرجی فورم میں پچاس سے زائد معروف چینی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ موجودہ حکومت تاجر اور سرمایہ کار دوستانہ ہے جو توانائی کے مسائل کے حل کیلئے چین کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریگی۔ انہوں نے کہاکہ وہ ملک کو اقتصادی مشکلات سے باہر نکالنے کیلئے حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے توانائی شعبہ میں سرمایہ کاری میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ توانائی کے مسائل کا حل میری حکومت کی اولین ترجیح ہے، چینی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ توانائی کے شعبے میں چین کی سرمایہ کاری سبقت لے جائیگی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان انرجی کانفرنس میں معروف کاپوریٹ رہنماﺅں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں پاکستان اور چین کے توانائی کے ماہرین اور سرمایہ کاروں کے درمیان آکر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ گذشتہ ماہ وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد میں نے سب سے پہلے چین کے دورہ کا انتخاب کیا کیونکہ چین کے ساتھ ہماری بے مثال اور خصوصی دوستی ہے جو آزمودہ ہے ۔ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے رشتے آزمائش کی ہرگھڑی پر پورے اترے ہیں اوربھاری چیلنجوں کے سامنے ہماری دوستی مستحکم تر ہوئی سیاسی تبدیلیوں کے قطع نظر پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط رہے۔ درحقیقت ہم آہنی بھائی ہیں جس کا اظہار وزیراعظم لی نے گذشتہ دورہ پاکستان کے دوران اظہار کیا تھا۔ پاکستان چین دوستی جامع اور وسیع البنیاد ہے جس کی عکاسی تعاون کے ہر شعبے میں ہوتی ہے۔ ملک کی معیشت کی بحالی میری اولین ترجیح ہے ‘ ملک کا بنیادی چیلنج توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے جو پاکستان کی اقتصادی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ ملک کو اس وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے، چین جیسے دوست ممالک کے تعاون سے ہم ان تمام مشکلات پرقابو پالیں گے۔ اس سلسلے میں میں نے پہلے ہی ترقی کی رفتار متعین کردی ہے۔ توانائی کی پالیسی اور توانائی کا تحفظ ان کی پارٹی کی منشور کا حصہ ہے جس پر عمل درآمد کیلئے سخت کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مستقبل میں حکومت تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے صنعتوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرے گی۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ پر ایک چینی کمپنی کام کر رہی ہے‘ منصوبہ 2015ءتک مکمل ہوجائےگا۔ ضرورت پڑی تو پراجیکٹ کی تکمیل کی رفتار تیز کرنے کیلئے ہم اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کریں گے۔ کیرٹ، کوہالہ اور تونسہ میں بجلی کے مزید تین منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے قومی گرڈ میں 2000 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا جن پر چین کی کمپنی 3 گارجز کارپوریشن کام کر رہی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ متبادل توانائی کے شعبہ بالخصوص ونڈ اور سولر انرجی کے شعبہ میں چین کی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔ اس منصوبہ سے 60 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وافر شمسی روشنی اور ونڈ انرجی کیلئے ہوا موجود ہے۔ 3 گارجز کمپنی جھم پیر کے علاقہ میں پہلے ہی ایک ونڈ پاور پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔ دیگر ہائیڈرو پاور پراجیکٹس میں دیامر بھاشا اور بونجھی پاور پراجیکٹس شامل ہیں جن سے 7000 میگاواٹ سے زائد بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں کوئلہ کے 125 ارب ٹن کے ذخائر ہیں جن سے آئندہ 300 سال کیلئے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ کوئلہ کا معیار بین الاقوامی طور پر تصدیق شدہ ہے جس کی زیادہ مقدار تھر کے علاقہ میں پائی گئی ہے۔ حکومت متبادل توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی ٹھوس حوصلہ افزائی کررہی ہے اور متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ چینی سرمایہ کاروں کو رہنمائی فراہم کرےگا۔ دونوں دوست ممالک کے درمیان موجودہ قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوستانہ تعلقات وسیع البنیاد ہونے چاہئیں ہمارا باہمی تعاون ایک رہنما قوت ہونی چاہئے۔ چین کے مالیاتی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور بنکاری کے شعبہ میں حال ہی میں کرنسی تبادلہ پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے ترقی کی رفتار تیز کرنے اور روابط میں اضافہ کیلئے ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ آزادانہ تجارت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ چینی وزیراعظم کے گذشتہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستان چین تجارتی راہ داری کے قیام پر اتفاق ہوا تھا جو خطے کا اقتصادی منظر تبدیل کر دے گی۔ تجارتی راہ داری اضافی روابط اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دے گی اور چین‘ جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا اورمشرق وسطی جیسے علاقوں کو آپس میں ملائے گی اس طرح جامع تعاون اور تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ بعدازاں وزیراعظم نوازشریف نے مختلف سوالات کے جواب دئیے اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی کے منصوبے شروع کرنے کیلئے حکومت کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ بیجنگ سے شنگھائی جاتے ہوئے بلٹ ٹرین میں چینی کمپنیوں کے سربراہوں میں ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ توانائی بحران کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان مےں سرماےہ کاری کے لئے حکومت پاکستان چینی کمپنیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریگی، انہےں تحفظ فراہم کےا جائے گا۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام کرنے والی چےنی کمپنی گجوبا کے سربراہ نے بھی وزےراعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے گجوبا کو پاکستان میں بجلی کے مزید منصوبے شروع کرنیکی دعوت دی۔ گجوباکمپنی نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے جو 2016 ءمیں مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان چینی کمپنیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریگی۔ گجوباکے صدر نے وزیراعظم کو اپنی کمپنی کی جانب سے جاری نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ پرکام کے حوالے سے آگاہ کیا۔ دوران سفر چین کی تھری گارجز کارپوریشن کے چیئرمین کاﺅگوانگ جِنگ نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی اور بتایا کہ ان کی کمپنی پاکستان میں بجلی کی تیاری کے 9 منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کمپنی کے سربراہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں کمپنی کو درپیش کسی بھی مسئلے کو حل کیا جائے گا۔ کاﺅ گوانگ جِنگ نے پاکستان میں پن بجلی کے مزید منصوبوں پر کام شروع کرنے پر رضا مندی کے علاوہ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے کمپنی کی طرف سے پاکستان کو تیکنیکی معاونت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔ چین کی سٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن کے چیئرمین ژی جن سے بات چےت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ توانائی کے بحران کا حل بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ٹرانسپورٹ کی سستی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ژی جن نے کہا کہ میری کمپنی شاہراہوں کی تعمیر اور بلٹ ٹرین شروع کرنے سمیت پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے پشاور اور کراچی کے درمیان بلٹ ٹرین کے پہلے سے طے شدہ منصوبے کو شروع کرنے کیلئے کمپنی کی خدمات کی پیشکش کی۔ پاکستان چین انرجی فورم کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستان اور چین نے اقتصادی راہداری پر اتفاق کیا ہے۔ بجلی کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنائیں گے پاکستان اور چین کے درمیان کرنسی کے تبادلے کا معاہدہ بھی موجود ہے۔ سرمایہ کاری میں مزید فروغ کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہے۔ توانائی سکیورٹی کیلئے 16 نکاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ نندی پور منصوبے کو بحال کر دیا گیا ہے۔ چین کی مدد سے توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے، بجلی کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنائیں گے، تجارتی سامان کی تیزی سے نقل و حمل کے لئے روڈ اور ریلوے ٹریک کے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا سرخ فیتہ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ہم ملک میں بجلی کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔ حکومت فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کرنا چاہتی ہے، پاکستان میں بجلی کی پیداوار بہتر بنانے کیلیے چائنا انجینئرنگ کارپوریشن اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے ہواوے کمپنی کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے چینی کمپنی ہواوے پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں ریسرچ سنٹر قائم کرے تاکہ پاکستانی نوجوانوں کو اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے جدید رجحانات سے لیس کیا جا سکے۔ ہواوے ٹیکنالوجی لمیٹڈ کے نائب صدر ٹانگ چی بنگ سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کام کر رہی ہے۔ ٹانگ چی بنگ نے اس موقع پر وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ان کی کمپنی نے 19 سال قبل پاکستان سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اب اپنے دفاتر 4 ممالک میں قائم کر چکی ہے۔ ان کی کمپنی موبی لنک اور یو فون کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن کے مختلف منصوبوں میں کام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان چائنہ آپٹک فائبر منصوبے پر کام میں دلچسپی ظاہر کی اور وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو منصوبے کی تخمینہ لاگت پر بریفنگ دی۔ ہواوے کے نائب صدر نے کہا کہ ان کی کمپنی نے حال ہی میں پاکستانی یونیورسٹیوں کیلئے تعلیمی گرانٹ کو توسیع دی ہے جن میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔ ہواوے کمپنی پاکستان میں مینو فیکچرنگ کے شعبہ میں کام کی صلاحیت رکھتی ہے اور حکومت پاکستان کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز سے متعلقہ سہولیات کی فراہمی میں معاونت کر سکتی ہے۔ ٹانگ چی بنگ نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے تجارت دوست وژن کی تعریف کی اور کہا کہ اس کی مدد سے اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو گی، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ حکومت کوئلے سے زیادہ سے زیادہ بجلی کی پیداوار حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بات چائنہ مشینری انجینئرنگ کارپوریشن کے نائب صدر جن چنگ سنگ سے ملاقات کے دوران کہی۔ جن چنگ سنگ نے وزیراعظم کو بتایا کہ ان کی کمپنی پاکستان میں توانائی کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں جامشورو کا پاور پراجیکٹ شامل ہے۔ جن چنگ سنگ نے وزیراعظم کو بتایا کہ ان کی کمپنی کوئلے سے 1000 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے والی ٹربائن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کو کوئلے پر چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لئے کوئلہ، پانی اور متبادل ذرائع کو بروئے کار لایا جائے گا۔ چائنہ سنٹرل ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں نوازشریف نے کہا کہ انہوں نے چینی رہنما¶ں کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی خصوصاً کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں میٹرو سسٹم کے قیام کے لئے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔
شنگھائی (نوائے وقت رپورٹ) توانائی کانفرنس کے موقع پر چینی سرمایہ کاروں نے بھاشا ڈیم کی تعمیر میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چینی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ چین کو دیا جائے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر دیگر ممالک سے پہلے کریں گے۔ چینی سرمایہ کاروں نے دیگر منصوبوں میں بھی اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔
بھاشا ڈیم/ دلچسپی