شیخوپورہ : پٹڑی پو پھنسنے والا رکشہ ٹرین کی زد میں آ گیا‘ ایک ہی خاندان کے 12 افراد سمیت 15 جاں بحق

07 جولائی 2013

شیخوپورہ+ فیروزوالا+ لاہور (نامہ نگار خصوصی+ نامہ نگار+ سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) شیخوپورہ کے قریب ریلوے پھاٹک پر پٹڑی میں پھنس جانے سے چنگ چی رکشہ قراقرم ایکسپریس کی زد میں آ گیا جس کے نتیجے میں 6 خواتین، 6 بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مرنیوالوں میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد شامل ہیں۔ رکشے پر سوار افراد عرس میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔ رکشہ پٹڑی پر پھنسنے کے بعد بند ہوگیا اور کراچی سے لاہور آنیوالی تیز رفتار ٹرین قراقرم ایکسپریس کی زد میں آ گیا۔ 15 افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، 4 بچے زخمی بھی ہوئے۔ نمازجنازہ کے بعد جاں بحق افراد کو سپردخاک کر دیا گیا۔ مرنیوالوںکے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے اور اعضاءدور دور تک کھیتوں میں بکھر گئے، کئی نعشیں ناقابل شناخت ہوگئیں، لواحقین دھاڑیں مار مار کر روتے رہے، لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی اور امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رکشہ ڈرائیور بھی جاں بحق ہونیوالوں میں شامل ہے۔ حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ ٹرین رکشے کو گھسیٹتے ہوئے کئی میل دور تک لے گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق کراچی سے آنیوالی قراقرم ایکسپریس شیخوپورہ کے قریب پہنچی تو عین اسی وقت چنگ چی رکشے نے ریلوے لائن عبور کرنے کی کوشش کی تاہم اوور لوڈ کی وجہ سے پٹڑی میں پھنس گیا اور قراقرم ایکسپریس سے ٹکرا گیا۔ رکشہ میں سوار افراد حضرت شاہ بخاری کے عرس پر جارہے تھے۔ حادثہ پھاٹک نہ ہونے اور رکشہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ وزیر ریلوے نے حادثے کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ ریلوے حکام نے حادثے کا ذمہ دار جاں بحق رکشہ ڈرائیور کو قرار دیتے ہوئے اس کیخلاف مقدمہ درج کرادیا تاہم ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ ریلوے کراسنگ پر پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ وفاقی اور پنجاب حکومت نے جاں بحق افراد کے خاندانوں کیلئے 5-5 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حادثے کو تحقیقات کیلئے مشترکہ ٹیم بنا دی گئی ہے۔ ٹیم میں ڈی سی، ڈی پی او شیخوپورہ اور ریلوے حکام شامل ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے بیجنگ سے فون کرکے وزیر ریلوے سے حادثہ کی تفصیلات حاصل کیں۔ جاں بحق ہونیوالوں میں مختاراں بی بی زوجہ محمد اقبال، ناصرہ دختر اقبال، نادرہ دختر اقبال، شازیہ زوجہ نادر، علیشا دختر نادو، فاطمہ دختر نادر، رانی بی بی زوجہ بوٹا، آسیہ بی بی، 10سالہ نامعلوم بچہ، محمد امین بھٹی ڈرائیور، ارحم ولد بوٹا، فرزانہ دختر نواز شامل ہیں۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب ایک اے ایس آئی نے حادثہ میں جاں بحق ہونیوالوں کے ورثاءسے بدتمیزی اور گالی گلوچ کی جس پر وہاں پر موجود خواتین حضرات مشتعل ہوگئے جنہوں نے پولیس کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ پولیس افسران نے اے ایس آئی کی سرزنش کرتے ہوئے اسے حکم دیا کہ وہ ان سے معافی مانگے جس پر اے ایس آئی نے لوگوں سے مانگی۔ فیروزوالا سے نامہ نگار کے مطابق رکشہ کی چھت پر بیٹھا ہوا دس سالہ لڑکا نواز ٹرین کو آتا دیکھ کر کود پڑا اور اسکی جان بچ گئی۔ حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کے اعضا ب±ری طرح کچلے گئے جو شناخت نہ ہوسکے۔ پولیس نے مرنے والوں کی نعشوں کے ٹکڑے کپڑوں میں باندھ کر ورثاءکے حوالے کئے۔ صدر زرداری، وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ شہبازشریف، حمزہ شہباز شریف، عمران خان، جاوید ہاشمی، شاہ محمود قیرشی، منور حسن، لیاقت بلوچ اور دیگر نے افسوس ناک واقعے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آئندہ کسی کو ان مینڈ لیول کراسنگ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی، کراسنگ کیلئے انڈر پاس یا اوورہیڈ برج بنائے جائیں ان مینڈ لیول کراسنگ چلتے پھرتے موت کے گڑھے ہیں، تمام ان مینڈ لیول کراسنگ کو مینڈ لیول کراسنگ میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ٹرین اور رکشہ کے درمیان تصادم کی ذمہ دار ریلوے انتظامیہ نہیں، قانون کی زبان میں بات کروں تو سب کو معلوم ہے کہ اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے۔ سعد رفیق نے حادثے کی اطلاع وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو چین میں دے دی جس پر پنجاب حکومت نے متاثرین کو فی کس 5لاکھ روپے ادا کرنے کا اعلان کیا۔ سعد رفیق اور ریلوے افسروں نے قراقرم ایکسپریس کے ڈرائیور سے تقریباً ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ ابتدائی طور پر حادثے کی تفصیلات معلوم کیں اور سخت سوالات پوچھے، ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے ایمرجنسی بریک لگانے کی کوشش کی اور صرف چند گز کا فاصلہ تھا جس کے باعث ٹرین رک نہ سکی۔ بعدا زاں سعد رفیق اور صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے اظہار تعزیت کے لئے سوگوار خاندانوں کے گاﺅں کا دورہ کیا۔
ٹرین/ رکشہ حادثہ