بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کراچی میں دہشت گردی‘ پاکستانی اداروں نے ”را“ کے ملوث ہونے کے ثبوت حاصل کر لئے

07 جولائی 2013

لاہور (حافظ طارق محمود/ وقت نیوز) بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی خفیہ موساد اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی میں مصروف ہیں‘ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی بڑھتی ہوئی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت نے حساس اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ”را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پاکستانی اداروں نے حاصل کر لئے ہیں۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ”را“ اورافغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس بلوچستان میں علیحدگی پسند جماعتوں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بی ایل ایف کی نہ صرف مالی مدد کر رہی ہیں بلکہ کابل، نمروز اور قندھار میں قائم ٹریننگ کیمپوں سے دہشت گردوں کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ افغانستان میں موجود ”را“ کے حکام ان دہشت گردوں کو افغانستان سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک بھجوانے کے لئے جعلی دستاویزات بنوانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی کے قریبی کمانڈر ریاض گل بگٹی کو احمد جاوید نامی ایک افغان کاروباری شخصیت ظاہر کر کے بھارت کا ویزا دیا گیا۔ ریاض گل بگٹی نے نئی دہلی میں بھارتی انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتیں کیں اور تجویز پیش کی کہ بلوچ نوجوانوں کی عسکری تربیت کےلئے بلوچی انسٹرکٹر تعینات کئے جائیں تاکہ انہیں آسانی حاصل ہو۔ اس تجویز پر ”را“ نے اپنے اور افغان انٹیلی جنس کے حکام کے لئے بلوچی زبان کے کورس بھی کروائے۔ ”را“ کے ایک ونگ نے تمام عالمی فورمز پر بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دینے کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے۔ بین الاقوامی این جی اوز کے ذریعے سے انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا میں مقیم سیاسی شخصیت طارق فاتح کو بھی ”را“اس مقصد کے لئے استعمال کر رہی ہے فروری 2013ءمیں (UNHCR) کے اجلاس کے موقع پر طارق فاتح نے پاکستان کے خلاف خوب بھڑاس نکالی جس کے بعد طارق فاتح نے بھارت میں ”را‘ کے افسران وکرم سود اور اے ایس دولت سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی حساس اداروں نے کراچی میں دہشت گردی میں ملوث افراد کی افغان سرحد پر بھارتی افسران سے ملاقاتوں کے شواہد بھی حاصل کئے ہیں اسی طرح سوات سے نکل کر افغانستان میں پناہ لینے والے مولانا فضل اللہ کی بھی ”را“ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی سے ملاقاتوں کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کئے گئے ہیں۔ کراچی، بلوچستان اورپاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کو کئی ملین ڈالرز کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ پاکستانی حساس اداروں نے سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر ویب سائٹس پر بنائے جانے والے جعلی اکاو¿نٹس کا ڈیٹا بھی تیار کیا ہے جن کے ذریعے نہ صرف پاکستان مخالف علیحدگی پسندی کے رحجان کو فروغ دینے والے ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں بلکہ پاکستان کی بدنامی کے لئے ہر قدم اٹھایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان کے موقع پر افغانستان میں ہونے والی تمام سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستانی اداروں کے پاس موجود دستاویزات سے امریکی اور افغان حکام کو پگاہ کیاجا چکا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور افغانستان سے بارہا بھارتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
”را“ / سرگرمیاں