لاہور پھر دہشت گردوں کے نشانے پر....پرانی انارکلی فوڈ سٹریٹ میں بم دھماکہ‘ 4 افراد 50 زخمی

07 جولائی 2013

لاہور (سٹاف رپورٹر) صوبائی دارلحکومت میں پرانی انارکلی فوڈ سٹریٹ کے ایک ریسٹورنٹ میں بم دھماکے سے 6 سالہ بچی اور ایک طالب علم سمیت 4 افراد جاںبحق اور 50 شدید زخمی ہوگئے جن میں سے 20 کی حالت نازک ہے۔ دھماکے سے ہر طرف چیخ و پکار اور افراتفری مچ گئی۔ شہری جان بچانے کیلئے اِدھر اُدھر دوڑتے رہے۔ دھماکے کے وقت فوڈ سٹریٹ میں بہت زیادہ رش تھا۔ خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری تفریح کے لئے آئے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد سی سی پی او چودھری شفیق احمد سمیت اعلیٰ پولیس افسر موقع پر پہنچ گئے۔ سکیورٹی اداروں نے فوڈ سٹریٹ کو سیل کردیا۔ ہفتہ کی شب ہونے کے باعث فوڈ سٹریٹ شہر بھر سے آنے والے شہریوں کی وجہ سے بھری ہوئی تھی۔ بم دھماکے سے ارد گرد کی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا ہے۔ بم ریسٹورنٹ میں موجود فریزر کے نیچے چھپایا گیا تھا۔ تھانہ انارکلی کے ایس ایچ او کی مدعیت میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ دھماکے سے 6 سالہ سعدیہ، 20 سالہ فرحان اور 2 نامعلوم شخص جاںبحق ہو گئے۔ جاںبحق ہونے والی سعدیہ کا بھائی اور بہن زخمی ہیں۔ جاںبحق ہونے والا فرحان پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد خون سے لت پت تھی۔ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور انہوں نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے 37 زخمیوں کو میوہسپتال بھیجا گیا جن میں سے 3 جاںبحق ہو گئے۔ 5 زخمیوں کو گنگارام ہسپتال اور 5 زخمیوں کو سروسز ہسپتال پہنچایا گیا۔ دھماکے کے مقام پر 3 سے 4 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔ بم دھماکے کے بعد ہر طرف کھانے پینے کی اشیا، برتن، خون اور انسانی اعضا بھی بکھر گئے۔ پولیس نے دھماکے کے بعد زبردستی دکانیں بند کروا کر پورے علاقے کو خالی کرا لیا۔ بم دھماکے میں نجی ٹی وی کے اکا¶نٹنٹ سلمان تسلیم کے جواں سالہ بھائی فرحان تسلیم جاں بحق ہوئے ہیں۔ بم دھماکے کی اطلاع کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر لاہور سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ہسپتالوں اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ہسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچنے والوں میں وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن، پرویز ملک، بلال یاسین، وحید عالم، ماجد ظہور اور دیگر شامل ہیں۔ پنجاب حکومت نے جاںبحق افراد کے لواحقین کے لئے 5/5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ زخمی افراد کو 75/75 ہزار روپے امداد دی جائے گی۔ بم دھماکے سے ارد گرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ وہاں کھڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سمیت ایدھی فا¶نڈیشن، بم ڈسپوزل سکواڈ سمیت دیگر امدادی ٹیمیں جائے و قوعہ پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچا۔ بخارا ہوٹل کے باہر دھماکہ کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ ڈی سی او لاہور نسیم صادق بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا جس میں آدھا کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کی اطلاع پر صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ گھروں کو چلے جانے والے سٹاف کو فون کر کے ڈیوٹیوں پر واپس بلایا گیا۔ سی سی پی او لاہور چودھری شفیق گجر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ خودکش نہیں تھا بلکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا جس میں آدھا سے پون کلو دھماکہ خیز بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ شہر میں اس سے قبل ہونے والی ایسی کارروائیوں کے ملزموں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ انشاءاللہ اس واقعہ میں ملوث ملزموں کو بھی تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے۔ لاہور میں اہم مقامات کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ بم دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ بچا¶ بچا¶ کے نعرے لگاتے ہوئے بھاگنے لگے۔ پولیس نے دھماکے کے بعد زبردستی دکانیں بند کرا کر پورے علاقے کو خالی کرا لیا۔ دھماکے کی وجہ سے وہاں پر موجود کھانا کھانے کیلئے آنیوالے افراد اور فیملیز میں افراتفری مچ گئی۔ حکومتی نمائندے میو اور گنگا رام ہسپتال پہنچ گئے۔ آئی جی پنجاب نے اگلے 72 گھنٹے اہم قرار دیئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کے مراسلے میں کہا گیا ہے اس کے 72 گھنٹوں میں دہشت گرد مزید کارروائی کرسکتے ہیں۔ پولیس افسر اپنے علاقوں میں حساس مقامات کی سکیورٹی سخت کریں۔ دہشت گرد غیر ملکی باشندوں، عبادتگاہوں اور حساس مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ڈویژنل ایس پیز اور ڈی پی اوز علاقوں کا گشت یقینی بنائیں۔ وزیر صحت پنجاب طاہر خلیل سندھو نے کہا ہے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ شہید افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈر جائیں یا خوفزدہ ہو جائیں شہریوں کا جذبہ قابل ستائش ہے جو خون دینے آئے، دھماکہ خودکش نہیں تھا۔ ڈی آئی جی چودھری ذوالفقار کے مطابق دھماکہ خیز مواد فریزر کے ساتھ لگایا گیا تھا دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا دھماکے سے فریزر کا کمپریسر بھی پھٹا جس سے دوبارہ آواز آئی آدھا کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق دھماکے کی جگہ پر لفافہ نما مشکوک چیز تھی۔ 5 سے 6 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جس سے اردگرد کی دکانیں اور موٹرسائیکلیں تباہ ہوئیں۔ فوڈ سٹریٹ میں آنے والی فیملیز کو نکال دیا گیا۔ فوڈ سٹریٹ کے دونوں گیٹس پر سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ بم دھماکے کے بعد لاہور سمیت صوبہ بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، بڑے شہروں کے داخلی راستوں پر آنے اور جانے والی گاڑیوں کی جامع تلاشی لی گئی جبکہ بڑے ہوٹلوں سمیت اہم سرکاری و نجی عمارتوں کی سکیورٹی بھی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ دریں اثناءصدر آصف علی زرداری، وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، (ق) لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، مرکزی رہنما چودھری پرویزالٰہی سمیت دیگر رہنماﺅں نے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے لاہور میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد چین کا دورہ مختصر کرکے واپسی کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے واپسی کا اعلان ٹویٹر پر اپنے مختصر پیغام میں کیا۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ واقعہ دہشت گردی ہے اور حکومت اس میں ملوث عناصر تک پہنچ کر انہیں کیفرکردار تک پہنچائے گی، زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، پنجاب حکومت نے پہلے کبھی کوتاہی برتی نہ آئندہ اسکے مرتکب ہوں گے۔ صوبائی وزیر قانون نے کہاکہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے دیگر ادارے اپنے فرائض تندہی سے سرانجام دے رہے ہیں۔ ابھی تک جو شواہد سامنے آئے ہیں اسکے مطابق یہ واقعہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ اس واقعے میں ملوث عناصر تک پہنچیں گے انہیں کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ جن لوگوں نے بھی یہ بزدلانہ اقدام اٹھایا ہے یہ انتہائی قابل مذمت ہے اور انکا مقصد تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ کہیں بھی دہشت گردی نیٹ ورک کے بغیر نہیں ہوسکتی، پنجاب حکومت سکیورٹی سے غافل نہیں۔ امیر جماعت اسلامی منور حسن نے لاہور بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے معصوم جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ منور حسن نے جاںبحق ہونیوالے افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا دہشت گرد اب لاہور تک پہنچ گئے ہیں حکومت امن و امان کو یقینی بنائے۔ امیر جماعت الدعوة پروفیسر حافظ سعید، مرکزی رہنماﺅں حافظ عبدالرحمان مکی اور مولانا امیر حمزہ نے پرانی انارکلی میں ہونیوالے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا بیرونی قوتیں پاکستان میں دہشت گردی اور بم دھماکوں سے افراتفری اور فتنہ فساد برپا کرنا چاہتی ہیں جس میں بے گناہ اور معصوم لوگ نشانہ بن رہے ہیں۔ حافظ سعید نے بم دھماکے میں شہید اور زخمی ہونیوالوں کے ورثا سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں پوری قوم ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ دہشت گردی کرنے والوں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ملک سے بھارت اور امریکہ کی مداخلت ختم کئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
انارکلی بم دھماکہ