سرحد پار تجارت کے فروغ کیلئے نئے راستے کھلنے چاہئیں: خرم دستگیر

07 جولائی 2013

اسلام آباد (ثناءنیوز) وزیر مملکت برائے نجکاری انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ خطے میں امن و سلامتی اور علاقائی تجارتی تعاون کی کوششوں کو رائیگاں نہیں جانے دےنا چاہیے ،اعتماد سازی اور رابطوں کے فقدان کو دور کرنے کی کاوشوں میں تسلسل ضروری ہے۔ پاکستان نے علاقے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد سارک ایوان صنعت و تجارت کے زیر اہتمام علاقائی تعاون کے فروغ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا روڈ میپ وضع ہونا چاہیے۔ نئی حکومت اس حوالے سے پختہ سیاسی عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیفٹا کے مو¿ثر اطلاق کے لئے پیش رفت ہونی چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کو سامان کی ترسیل کو آسان بنانے کی ضروت ہے۔ کوالٹی کنٹرول اتھارٹٰیز کو اس بارے میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بارڈرز پر سامان کی ترسیل کے سلسلے میں مشکلات ہیں ان کا ادراک ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کے آر پار تجارت کے فروغ کے لئے نئے راستے کھلنے چاہئیں تعاون پر مبنی امن کا راستہ دونوں ملکوں اور خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان غیر معمولی پیش رفت ہو رہی ہے نئی تجارتی گزرگاہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔