وزیراعظم کا بلٹ ٹرین میں سفر، اسے پاکستان میں بھی چلانا چاہتے ہیں: نوازشریف

07 جولائی 2013

بیجنگ + شنگھائی (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنے وفد کے ساتھ بلٹ ٹرین پر سفر کیا اور یہ سہولت پاکستان کے عوام کےلئے متعارف کرانے کی خواہش کا اظہارکیا۔ دوران سفر وزیراعظم نے 4 مختلف وفود کے ساتھ ملاقاتیں کیں، ترقی اورتوانائی کے مختلف منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بلٹ ٹرین کے پراجیکٹ چیف انجینئر اورجنرل منیجر ژاﺅ گوٹانگ نے وزیراعظم کو بلٹ ٹرین منصوبہ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کے مختلف شہروں میں اس قسم کے منصوبے شروع کرنے کی خواہش ظاہرکی تاکہ عوام کو قابل برداشت اور آرام دہ سفری سہولیات کی فراہمی کے عزم کی تکمیل ہو سکے۔ وزیراعظم کے استفسار پر ژاﺅ گوٹانگ نے بتایا کہ چین نے بلٹ ٹرینوں کی ڈیزائننگ اور تیاری میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پراجیکٹ چیف انجینئر نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ اس ٹرین میں بروئے کار لائی گئی جدید ترین ٹیکنالوجی اور نئی اختراعات خود چین نے کی ہیں۔ وزیراعظم نے ٹرین کی کارکردگی اورگنجائش کو سراہتے ہوئے کہا کہ روزانہ اس ٹرین پر دو لاکھ 20 ہزار افراد کا سفر کرنا اور صرف 4 گھنٹے 45 منٹ میں بیجنگ سے شنگھائی تک کا 1318 کلومیٹر کی مسافت طے کرنا قابل ستائش ہے۔ چیف انجینئر نے بتایا کہ 87 فیصد سے زائد ریل ٹریک بچھایا جا چکا ہے، ٹرین کی حد رفتار 310 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، چیف انجینئر نے وزیراعظم کو بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر منصوبے کی لاگت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف پانچ گھنٹے میں بیجنگ سے شنگھائی پہنچے۔ دوران سفر وزیراعظم نوازشریف کو بلٹ ٹرین کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے وزیر احسن اقبال، سیکرٹری خارجہ جلیل عباس اور وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز بھی اس سفر میں ان کے ساتھ تھے۔
نوازشریف / بلٹ ٹرین