پاکستان کئی بار مصر بنا

07 جولائی 2013

پاکستان میںپہلا مارشل لا 1958میں لگا،مصر نے اس سلسلے میں پہل کی اور1952 میںفوجی افسروں نے جنرل نجیب اور لیفٹننٹ کرنل جمال عبدالناصر حسین کی کمان میں شاہ فاروق کا تختہ الٹ دیا۔حکومت چلانے کے لئے ایک انقلابی کونسل تخلیق کی گئی جس کے سربراہ جنرل نجیب تھے اور ناصر اس کے سیکنڈ ان کمان۔1954 میںنجیب کو باہر دھکیل کر ناصر نے عنان اقتدار خود سنبھال لی ۔
مصر میں مارشل لا کے تجربے سے قبل 1948 میں اسرائیل سے ایک لڑائی چھڑی۔پاکستان میں بھی اسی سال کشمیر کی جنگ چھڑی ۔مصری فوج نے 56,67,73 کی تین جنگیں اور ہاریں، پاکستانی فوج نے65,71, 84(سیاچین)99(کارگل) کی جنگیں ہاریں۔مگر دونوں فوجوںنے ڈٹ کر حکومت بھی کی۔
1952سے مصر میں فوج کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا، ناصر، سادات،حسنی مبارک ، تین حکمرانوں نے 2011 تک عوام کو غلام بنائے رکھا۔عرب بہار کے نتیجے میں حسنی مبارک مستعفی ہو ئے مگر جاتے جاتے اقتدارمسلح افواج کی سپریم کونسل کے سپرد کر گئے۔اگلے برس جون2012 میںصدر مرسی نے سویلین منتخب صدر کے طور پر اقتدار سنبھالا مگر ایک ہی سال بعد گزشتہ جمعرات کو فوج کے کمانڈر جنرل سیسی نے اسے بھی برطرف کر دیا۔ مصر پرساٹھ برس تک مسلسل فوج نے حکمرانی کی اور اب پھر وہ بادشاہ گر کا کردار ادا کر رہی ہے۔
پاکستان پیچھے رہنے والا نہیں تھا۔مصر کی لکیر پر چلتے ہوئے سکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کیا، جسے بعد میں جنرل ایوب خاںنے چلتا کیااور خود عنان حکومت سنبھال لی۔وہ 1969 تک تخت حکومت پر براجمان رہے، ان کے بعد جنرل یحی خاں نے مارشل لا نافذ کردیا۔1971 میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا۔ شاید یہ انتقال اقتدار کی مجبوری تھی۔1977میں جنرل ضیا الحق نے مارشل لا لگا دیا جو 1988 میں باوردی ہوائی حادثے کی نذر ہوئے۔1999 تک فوج نے پس پردہ رہ کر سول حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے کا کام جاری رکھا ، حتی کہ ایک بار پھر مارشل لا نافذ کر دیا گیا، اس مرتبہ جنرل مشرف نے یہ فریضہ انجام دیا۔سمجھا تو یہ جاتا ہے کہ 2008 کے انتخابات کے بعد سے ہم ایک بار پھر جمہوریت کی پٹری پر چل نکلے ہیں لیکن بہت بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اپنی قابلیت اور صلاحیت کو بروئے کار لانے میں کس قدر آزاد ہیں۔ 66 برسوں میں نصف سے زائد عرصہ ہم بھی فوج کی حکومتوں کا ذائقہ چکھ چکے۔اگر وہ عرصہ بھی فوج کی حکمرانی میں شمار کر لیا جائے جب وہ پیچھے بیٹھ کر تاریں ہلاتی رہی یا اس کے گملوں میں اگنے والے سیاستدان حکمرانی کے گل چھڑے اڑاتے رہے تو ہم مصر سے پیچھے نہیں رہے۔
دنیاکو دیکھنے اور جانچنے کا پیمانہ مغرب کا دیا ہوا ہے۔ ہم جمہوریت اور آمریت کی اصطلاحوں کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔
مصر کی فوجی حکومت نے اپنی قوم کو پہلا تحفہ نہر سویز پر بالادستی کے قیام کی شکل میں دیا، دوسرا تحفہ اسوان ڈیم ہے جس پر مصر کی زراعت کا انحصار ہے۔ پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے تربیلا اور منگلا ڈیم کے تحفے دیئے اور صنعتوں کا جال بچھا دیا۔ دنیا کی دوسری سپر پاور سووئت روس کو افغانستان کے کارزار میں پچھاڑا اور اسے شکست وریخت سے دو چار کیا۔منتخب حکومت نے ملک کو دستور دیا اور موٹر وے اور میٹرو بس کے دو تحفے ، بس یہی کچھ۔اور اب تو عذابوں کا موسم ہے اور ہم ہیں اور جمہوریت سہمی ہوئی ہے کہ کب کوئی جنرل سیسی خود نہ سہی، کسی مہرے کو آگے بڑھا دے۔
دنیا میں جمہوریت پرانی ہے یا فوج کے بل پر قائم ہونے والی حکومتیں، اسکندر اعظم کون تھا جس نے ساری دنیا کو فتح کیا۔اسلامی لشکروںنے ساری دنیا پر پھریرے لہرائے، میں کس فاتح کا نام لوں اور کس کا نہ لوں، ہم نے تو غوری اور ابدالی میزائلوں کے نام بھی فوجی فاتحین کے نام پر رکھے ۔مجھے تو ان پر فخر ہے، آپ کو بھی ہے۔
امریکہ میں جمہوریت ہے، مگرساری دنیا پر لشکر کشی کرتے پھرتا ہے، یورپ میں جمہوریت ہے، مگر اس کی نیٹو افواج افغانستان کو تاراج کر چکیں۔اب ٹیکنالوجی کے تسلط کا دور ہے، امریکہ کو پہلے وکی لیکس نے ننگا کیا، اب سنوڈن نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ کوئی گفتگو، کوئی ای میل ، کوئی ایس ایم ایس امریکی محکمہ جاسوسی کی دست برد سے محفوظ نہیں ۔انسان کے کچھ حقوق بھی ہیں جن کو آئین میں تحفظ دیا جاتا ہے لیکن یہی جمہوری حکومتیں ان بنیادی انسا نی حقوق کو تاراج کر رہی ہیں ، فوج کا بھی قصور تو صرف یہی ہے کہ وہ شہریوںکے جمہوری حقوق پر ڈاکہ مارتی ہے۔امریکی جمہوریت اور مصری فوجی آمریت میں فرق کس چیز کا ہے۔ صرف لیبل کا ۔کرتوت دونوں کے یکساں ہیں۔کوئی پتہ نہیں کہ ہم بیڈ روم میں بھی سٹیلائٹ کی آنکھوں سے محفوظ ہیں یا نہیں۔
اصول یہ ہونا چاہئے کہ کوئی حکومت جو فلاحی نہیں ہے، وہ آمریت ہے۔اسلامی حکومت جس کا نمونہ خلافت راشدہ کے دور میں سامنے آیا، حقیقی معنوں میں فلاحی حکومت تھی۔ خلیفہ وقت اپنے کندھے پر آٹے کی بوری لاد کر ضرورت مند کے گھر پر رات کے اندھیرے میں پہنچاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دریائے نیل کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کی موت کی جواب دہی بھی ان سے کی جائے گی۔میں نہیں جانتا کہ یہ حکومتیں آج کی مروج اصطلاحوںکی روشنی میں جمہوری تھیں یا نہیں لیکن ان سے بہتر حکومت روئے زمین پر آج تک نہیں دیکھی گئی۔ حکومت کی ہیت ترکیبی کیا ہے، اس پر بحث کرنے کے بجائے سوال یہ ہونا چاہئے کہ حکومت جیسی بھی ہے کیا وہ عوام کی خادم ہے۔جمہوریت کا محض لبادہ کسی حکومت کے تقدس اور احترام کی دلیل نہیں ہو سکتا۔
 حضرت عمر ؓ نے جدید دنیا کو سوشل سیکورٹی کا نظام دیا۔شیر شاہ سوری نے برصغیر کو سب سے طویل شاہراہ دی۔ شہنشاہ اکبر نے محکمہ مال کو منظم کیا۔اور ملکہ زبیدہ نے حاجیوں کی آسائش کے لئے نہر کھدوائی۔اور کیا کیا گنواﺅں۔
فی زمانہ جمہوریت ایک بہترین نظام حکومت خیال کیا جاتا ہے ۔ نواز شریف نے دھماکہ کرکے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا۔ مارشل لا کو نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر جمہوری اور ترقی یافتہ امریکہ اور یورپی دنیا کے اصول نرالے ہیں، کہیں وہ جمہوریت لانے کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں اور کہیں مارشل لگانے والوں کو تھپکی دے رہے ہوتے ہیں، کہیں وہ شخصی، موروثی اور خاندانی بادشاہتوں کے نخرے برداشت کرتے ہیں۔مصر میں عرب بہار کے جانفزا جھونکے چلیں یا جنرل سیسی کا حکم چلے ، امریکہ اورجمہوریت کی دلدادہ مغربی دنیا ہر حال میںخوش نظر آتی ہے۔ان ممالک کی فوجیں صرف افغانستان کو تاراج کرتی ہیں یا پاکستان پر ڈرون حملے کرتی ہیں۔
تو پھر کاہے کی خوشی اور کہاں کا اطمینان کہ پاکستان مصر نہیں بن سکتا، جنرل کیانی نے تواپنا قول نبھا دیا، دعاتو یہ ہے کہ پاکستان کبھی مصر نہ بنے لیکن حالات اس دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہیں۔آئیے ان حالات کو بدلنے کی تدبیر کریں، اپنے حکمرانوں ، اپنی افسر شاہی ا ور اپنے مزاج کو جمہوری بنائیںتا کہ ہماری قسمت کھوٹی نہ ہو۔