شالامار باغ: شاہی قلعہ اور سیرگاہوں میں آنےوالے شہری دکانداروں کے ہاتھوں لٹنے لگے

07 جولائی 2013

لاہور (شہزاد خالد) مہنگائی‘ لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام سیروتفریح کے دوران بھی منافع خور مافیا کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہو گئے۔ شاہی قلعہ‘ شالامار باغ‘ عجائب گھر اور تفریحی مقامات پر خوانچہ فروشوں اور کھوکھوں کے مالکان نے حکام کی ملی بھگت سے سیروتفریح کیلئے آنے وا لوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا۔ایک معروف کمپنی کے جوس کے پیکٹ پر قیمت 45 روپے درج ہے جبکہ خریدار سے ٰ60 روپے تک وصول کئے جاتے ہیں۔ بسکٹ کے پیکٹ کے اوپر 10 روپے لکھے جانے کے باوجود ڈھٹائی سے 15 روپے لئے جاتے ہیں۔ ریگولر کولڈ ڈرنک 25 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں یہاں دکان سجانے کیلئے متعلقہ حکام کو ٹھیکہ ادا کرنے کے بعد بھی ”خوش“ کرنا پڑتا ہے‘ ہم کیا کریں۔ نمائندہ نوائے وقت نے سروے کے دوران عجائب گھر میں قائم دکان سے جوس لیا جس پر درج قیمت سے 15 روپے زائد مانگے گئے۔ وجہ پوچھنے پر جواب ملا کہ لینا ہے تو لیں نہیں تو جائیں۔ عجائب گھر کے ایڈمن افسر سلیم کو شکایت کی گئی تو انہوں نے اس موقع پر آکر خود چیک کیا جس پر انہوں نے ایکشن لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔