ایوانِ قائداعظمؒ........قائدفہمی کے فروغ کا مرکز

07 جولائی 2013

ہمارا قومی وجود قائداعظم محمد علی جناحؒ سے محبت کا مرہونِ منت ہے۔ جس دن ےہ محبت خدانخواستہ کمزور پڑ گئی‘ ےہ وجود خطرے سے دوچار ہوجائے گا۔ بےرونی آقاﺅں کے پے رول پر کام کرنے والوں نے جب کبھی قائداعظمؒ کی تضحےک کی کوشش کی‘ قوم نے فوری رد عمل کا اظہار کےا اور انہےں جتلا دےا کہ بابائے قوم ان کے دلوں کی دھڑکن ہےں اور ان کی شان مےں خفےف سی گستاخی بھی ان کےلئے ناقابل برداشت ہے۔ زےارت رےذےڈنسی بھی ملک کی دےگر عمارتوں کی طرح سےمنٹ‘ رےت‘ اےنٹوں اور لکڑی سے ہی تعمےر کردہ ہے تاہم پاکستانےوں کے لئے ےہ مقام اس بناءپر تقدس کا درجہ اختےار کرگےا کہ ےہاں ان کے محسنِ اعظم نے اپنی حےاتِ مستعار کے آخری اےام بسر کئے تھے۔ چنانچہ جب دہشتگردوں نے اس پر آتش و آہن کی بارش کی تو ہر محب وطن پاکستانی نے ےہ جانا گوےا اس کے اپنے گھر کا تقدس پامال کردےا گےا ہے۔
قائداعظمؒ جےسے عالمی مرتبت رہنما تو قوموں کو مقدر سے ہی مےسر آتے ہےں۔ اُنہوں نے خود کو زندگی کی لطافتوں سے محروم رکھ کر قوم کو اس کی محرومےوں سے نجات دلانے کا بےڑا اٹھاےا۔ وہ چاہتے تو بڑی شاہانہ زندگی بسر کرسکتے تھے مگر اُنہوں نے مسلمانانِ ہند کو باعزت زندگی سے بہرہ مند کرنے کی خاطر اپنی زندگی کی پرواہ نہ کی۔ اپنی صحت‘ راحت و آرام‘ ازدواجی زندگی غرضےکہ سب کچھ محض اس لئے تےاگ دےا کہ برصغےر مےں حضور پاک کے امتی اپنے دےن کے مطابق زندگی بسر کرنے مےں آزاد ہوجائےں۔ حضور پاکﷺ کے عشاق اےسے ہی کےا کرتے ہےں۔ ان کی عظمت کا اس سے بڑھ کر کےا ثبوت ہوسکتا ہے کہ برطانوی حکومت اور ہندو کانگرےس کی تمام تر تحرےص و ترغےبات کے بالمقابل اُنہوں نے امت محمدےہ کے مفاد کو مقدم رکھا۔ اس کی فلاح و نجات کی خاطر کانٹوں بھری راہ پر چلنا گوارہ کرلےا مگر ان عظےم آدرشوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کےا جو مسلمانوں کے لئے ہندوﺅں کی دائمی غلامی سے نجات کے ضامن تھے۔ اےسے عظےم المرتبت قائد کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے نظر خود بخود ان کی اس واحد تمنا پر جاٹھہرتی ہے: ”مےری زندگی کی واحد تمنا ےہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دےکھوں اور مےرا خدا ےہ کہے کہ جناح تم بے شک مسلمان پےدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے مےں اسلام کے عَلم کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان فوت ہوئے۔“ اسلام اور مسلمانوں کی فکر مےں ہمہ وقت غلطاں رہنے والے اس عظےم نجات دہندہ کو خراج عقےدت پےش کرنے اور ان کے قوم ساز افکارکی تروےج کےلئے نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ جوہر ٹاﺅن لاہور مےں ”اےوانِ قائداعظمؒ تعمےر کررہا ہے۔ دراصل ےہ اےوان بانی¿ پاکستان کے اےک مجاہد اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن محترم مجےدنظامی کی طرف سے امت محمدےہ کے شاہسوار کی خدمت مےں سلامِ عقےدت ہے‘ کارکنانِ تحرےک پاکستان کے خوابوں کی تعبےر ہے اور پاکستانی قوم کی اپنے محسن سے اٹوٹ محبت کامظہر ہے۔ قائد فہمی کے سلسلے مےں اس اےوان کی اہمےت بہت زےادہ ہے۔ دشمنانِ دےن و وطن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان کی نوجوان نسل کو بابائے قوم کی حےات و افکار سے روشناس کرانا ناگزےر ہے۔ ےوں بھی وطن عزےز فی الوقت جن ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہے‘ ان سے کامےابی کے ساتھ نبردآزما ہونے کےلئے ضروری ہے کہ تمام پاکستانی از سر نو افکارِ قائد سے رجوع کرےں۔ اگر بحےثےت قوم ہم قائداعظمؒ کے صرف اےک فرمان ”اےمان‘ اتحاد‘ تنظےم“ کو ہی حرز جاں بنالےں تو نہ صرف پاکستان ان بحرانی حالات سے بخےروعافےت باہر نکل آئے گا بلکہ اپنے دشمنوں اور بدخواہوں کے چہروں پر خاک ڈالتے ہوئے قوت و اخوتِ اسلام کا مرکز بھی بن جائے گا۔
خدائے بزرگ و برتر کے فضل و کرم کے طفےل اےوانِ قائداعظمؒ کا تعمےراتی ڈھانچہ اب 90فےصد مکمل ہوچکا ہے۔ ےہاں نظرےاتی سرگرمےوں کا آغاز اب زےادہ دور کی بات نہےں۔ چنانچہ وہاں ابتدائی طور پر اےک دفتر کا قےام عمل مےں لاےا گےا ہے جس کا افتتاح گزشتہ روز جناب ڈاکٹر مجےد نظامی نے کارکنانِ تحرےک پاکستان‘ نظرےہ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے معزز اراکےن اور قائداعظمؒ کے شےدائےوں کی معےت مےں اپنے دست مبارک سے کےا۔ اِس موقع پر تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چےئرمےن کرنل(ر)ڈاکٹر جمشےد احمد ترےن‘ نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمےن پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد‘ چےف کوآرڈےنےٹر مےاں فاروق الطاف اور سےکرٹری شاہد رشےد بھی موجود تھے۔افتتاحی ربن کاٹنے اور تختی کی نقاب کشائی کے بعد حافظ محمد عمر اشرف نے تلاوتِ قرآن مجےد کا شرف حاصل کےاجبکہ معروف نعت خواں سرور حسےن نقشبندی نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ مےں مولانا حسن رضا کے گلہائے عقےدت”نگاہِ لطف کے اُمےدوار ہم بھی ہےں....لئے ہوئے ےہ دلِ بےقرار ہم بھی ہےں“بڑے احترام و عقےدت سے پےش کےے۔قومی ترانہ سب شرکاءنے احتراماً کھڑے ہوکر سنا۔
شدےد گرمی اور حبس کے موسم کے باوجود سفےد سفاری سوٹ مےں ملبوس محترم ڈاکٹر مجےد نظامی بےحد خوش اورہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے اور اےسا کےوں نہ ہوتا‘ اےوانِ قائداعظمؒ انہی کی سوچ اور عمل کا ثمرِ شےرےں ہے۔ اُنہوں نے اپنے صدارتی خطاب مےں ان لمحات کو اےک تارےخی موقع سے تعبےر کےا اور کہاکہ پہلے اُنہوں نے مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ سے منسوب اےوانِ اقبالؒ کی تعمےر کا بےڑہ اٹھاےا اور نصرتِ خدا وندی سے اسے پاےہ¿ تکمےل تک پہنچاےا۔ اس دوران انہےں وطن عزےز کے تمام حکمرانوں کا مالی تعاون حاصل رہا۔ جناب ڈاکٹر مجےد نظامی کا کہنا تھا کہ مجھے ےہ سوچ کر بڑی ندامت محسوس ہوتی تھی کہ برصغےر کے مسلمانوں کے لئے اےک آزاد مملکت کا نظرےہ دےنے والی شخصےت کے نام پر تو ہم نے اےوان تعمےر کردےا مگر جس شخصےت نے اس نظرےے کے مطابق ہمےں اےک آزاد ملک بنا کر دےا‘ اس کے نامِ نامی پر ملک مےں کہےں بھی کوئی اےوان موجود نہےں ہے۔ مےں نے سوچا کہ اس اےوان کے لئے شہر لاہور سے بہتر کوئی مقام نہےں کےونکہ مارچ 1940ءمےں ےہےں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اور اُس موقع پر قائداعظمؒ نے برملا اس عزم کا اظہار فرماےا تھا کہ اب مسلمان اس برصغےر مےں اپنے لئے اےک الگ ملک حاصل کرکے دم لےں گے۔ تائےد اےزدی سے ہم انگرےزوں اور ہندوﺅں سے پاکستان چھےن لےنے مےں کامےاب ہوگئے تاہم ہمارے ازلی دشمن بھارت کی جارحےت اور ہماری حماقتوں کے باعث دسمبر 1971ءمےں اےک کے دو پاکستان بن گئے۔ آج اےک بار پھر ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ کراچی شہرِ قائد ہے مگر اےک قتل گاہ کا روپ اختےار کرچکا ہے۔ کوئٹہ اور فاٹا مےں آئے روز دھماکے ہورہے ہےں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے مےں تو ےہی التجا کرتا ہوں کہ وہ ہمےں معاف کردے۔ بحےثےت قوم ہمےں اجتماعی توبہ کا دن منانا چاہےے اور بارگاہ ِ الٰہی مےں صدقِ دل سے توبہ کرکے ےہ عہد کرنا چاہئے کہ اس مملکت مےں کاروبارِ زندگی قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظرےات و تصورات کے مطابق چلائےں گے اور اسے قائد اور اقبال کا پاکستان بنائےں گے۔
محترم ڈاکٹر مجےد نظامی نے بتاےا کہ مےاں صاحب (مےاں محمد نواز شرےف) کہتے ہےں کہ مجھے ہر تقریرمےں کےوں ےاد کرتے ہےں۔ آج کل وہ عوامی جمہورےہ چےن کی ےاتراپر ہےں اور ان کے نمائندہ خصوصی کی بھارتی وزےراعظم سردار من موہن سنگھ کے ساتھ تصوےر آج کے اخبارات کی زےنت بنی ہے۔ وہ ہمارے وزیراعظم کا خط لیکر بھارت کے پردھان منتری کے پاس دلی گئے ہیں۔مےں سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر اسے بھارت بھےجنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے مےری دعا ہے کہ وہ انہےں حکمت و تدبر کے ساتھ کاروبارِ مملکت چلانے کی توفےق عطا فرمائے۔
جناب ڈاکٹر مجےد نظامی نے کہا کہ 20اگست 2011ءکو اےوانِ قائداعظمؒ کے تعمےراتی کام کے آغاز کے موقع پر منعقدہ تقرےب مےں سابق وزےراعظم سےد ےوسف رضا گےلانی نے مہمانِ خصوصی کی حےثےت سے اعلان کےا تھا کہ وفاقی حکومت اےوانِ عظمؒ کی تعمےر کےلئے 5کروڑ روپے فراہم کرے گی مگر ےہ اعلان محض اعلان ہی رہا۔ ہم نے صدر آصف علی زرداری کو بھی ےاددہانی کروائی مگر پھر بھی اس اعلان پر عمل درآمد نہ ہوا۔ اب ہم موجودہ حکومت سے توقع رکھتے ہےں کہ وہ اِس رقم کی جلد از جلد فراہمی کو ےقےنی بنائے گی۔ اُنہوں نے شرکاءپر فخر و انبساط بھری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی ٹےم کے ساتھ ےہ اےوان پاےہ¿ تکمےل کے قرےب پہنچا کر اپنا فرض ادا کردےا ہے۔ انشاءاللہ تعالیٰ! ےہاں نظرےاتی سرگرمےوں کا آغاز بھی بہت جلد ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ اےوانِ قائداعظمؒ کو اِس کے اغراض و مقاصد مےں کامےابی و کامرانی عطا فرمائے اوراُس نے اس اےوان کے سلسلے مےں جس طرح آپ کو ہمارے ساتھ تعاون کی توفےق عطا فرمائی ہے‘ دعا ہے کہ آپ آئندہ بھی ہماری جدوجہد اور دعاﺅں مےں شامل رہےں۔ قبل ازےں تقرےب کی نظامت کے فرائض نبھاتے نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد نے اس عزم کا اظہار کےا کہ اےوانِ قائداعظمؒ مےں بابائے قوم کے تمام نقوش پا محفوظ کےے جائےں گے اور ےہاں سے افکارِ قائد کی خوشبو اک جہاں کو معطر و شاداب کرے گی۔ تقرےب کے دوران پاکستان مسلم لےگ (ن) کے سرکردہ رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی رانا محمد ارشد‘ بےگم صفےہ اسحاق اور چوہدری محمد حسےن گجر نے اےوانِ قائداعظمؒ کے تعمےراتی فنڈ مےں اےک‘ اےک لاکھ روپے دےنے کا اعلان کےا۔تقرےب کے اختتام پر نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے لےگل اےڈوائزر جسٹس(ر)ڈاکٹر منےر احمد مغل نے ملک و قوم کی سلامتی‘ ترقی و خوشحالی نےز اےوانِ قائداعظمؒ کی جلد از جلد تکمےل کےلئے دعا کرائی۔