حکومت اور فوج کے درمیان بہتر ریلیشن شپ

07 جولائی 2013

فوج نے سگنل دیا ہے کہ منتخب حکومت پالیسی دے گی وہ عمل کرے گی : سرتاج عزیز ۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی بات قبل از وقت ہے، فوج اور نواز شریف کے تعلقات دوطرفہ اور مثبت ہیں۔ ٹریک ٹو پالیسی میں اعتماد کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ کو ڈرون حملے بند کرنے کا پیغام دیا ہے۔ جمہوریت کی وجہ سے حملے کم ہوئے ہیں انہیں ختم کرائیں گے۔ قومی سلامتی و امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے درمیان بہتر تعلقات کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج حکومت کی پالیسیوں پر عمل کرے گی۔ یہ ایک احسن عمل ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ افواج پاکستان حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور منتخب جمہوری حکومت کا کام پالیسی طے کرنا اور فوج کا کام اس پر عمل کرنا ہے۔ قومی سلامتی و امور خارجہ کے مشیر کو بھی اس بات کا بھرپور ادراک ہونا چاہئے کہ اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کیلئے حکومت کو فوج سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی پہلے ہی سیاسی عمل اور جمہوری حکومت کے داخلی اور خارجی امور میں تمام فیصلوں کی مکمل حمایت کا یقین دلا چکے ہیں اس لئے بہتر یہ ہے حکومت اور فوج کے درمیان بہتر ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھا جائے اور دونوں تمام تر صلاحیتیں ملک و قوم کی بہتری اور مضبوطی کیلئے وقف رکھیں تاکہ اس وقت ملک و قوم جس بحرانی حالت سے دوچار ہیں ان کو ان سے نکالا جا سکے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ افواج پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے اور فوج کا کام ہے کہ وہ حکومتی احکامات کی بجا آوری اور ملکی سرحدوں کے دفاع کو ناقابل شکست بنانے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرے۔