حکومت بجلی اور گیس چوروں سے رقوم نکلوائے

07 جولائی 2013

صنعتی و تجارتی صارفین کیلئے بجلی اسی مہینے، گھریلو صارفین کیلئے دو تین ماہ تک مہنگی ہو گی : خواجہ آصف ۔ حکومت نے سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بجٹ میں سبسڈی کی مد میں گزشتہ حکومت جتنی رقم نہیں رکھی گئی۔ قیمت نہ بڑھائی گئی تو گردشی قرضے ڈیڑھ ارب روپے تک بڑھ جائیں گے۔ لگتا ہے نئی حکومت کے آنے کے باوجود ابھی تک عوام کی سختی کے دن نہیں گئے۔ بجلی کا بحران پہلے کی طرح عوام پر بجلیاں گرا رہا ہے اور حکومت غریب عوام کی مشکلات کا احساس کئے بغیر ہی بجلی کی قیمت میں اضافے پر اضافہ کر رہی ہے جبکہ بڑے بڑے سرکاری و غیر سرکاری اداروں نادہندہ صارفین سے اگر ڈوبی ہوئی رقم ہی وصول کی جائے اور لائن لاسز کو ختم کیا جائے تو بجلی کا بحران غریب عوام کا خون چوسے بغیر بھی حل ہو سکتا ہے مگر لگتا ہے حکومتی وزیر اور مشیر سب کا اتفاق اس پر ہے کہ عام صارفین سے جو ایمانداری سے بجلی بل ادا کرتے ہیں سارا خسارہ اور نقصان پورا کیا جائے حالانکہ لوڈشیڈنگ کے باعث پہلے ہی بجلی 12 گھنٹے غائب رہتی ہے اسکے باوجود بل پورے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سپریم کورٹ نے ٹیکسوں کی مد میں وصول کی جانے والی رقوم کے اعداد و شمار طلب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے، بدعنوانوں سے رقم کیوں نہیں نکلوائی جاتی۔ بجلی گھروں کو دینے کیلئے گیس نہیں اسی این جی سٹیشن کھولے جا رہے ہیں۔ جی ٹی ایس بڑھانے کے بعد سی این جی پر 9 فی صد اضافی ٹیکس کیوں لیا جا رہا ہے۔ وزیر پانی و بجلی نے تمام سی این جی سٹیشن مالکان کو گیس چور قرار دیا لیکن ایک بھی گیس چور کیخلاف حکومت نے کارروائی کی جرا¿ت نہیں کی۔ اب حکومت کا فرض ہے کہ بدعنوان، کرپٹ اور بجلی و گیس چوری کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت ایکشن لے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرے کیونکہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کی چکی میں سب سے زیادہ وہی پس رہے ہیں۔