اتوار ‘ 27 شعبان المعظم1434ھ ‘ 7 جولائی2013

07 جولائی 2013

کراچی : لیاری دو گروپوں میں میدانِ جنگ بنا رہا، بموں سے حملے 10 افراد ہلاک !
احسان دانش مرحوم کے اشعار ذرا تصرف سے عرض ہیں ....
نئی سحر کے بہت لوگ منتظر تھے مگر
نئی سحر بھی جو کجلا گئی ہے تو اب کیا ہو گا
وہ داستان جو خوف میں دفن تھی اب تک
زبانِ خلق پہ اب آ گئی تو کیا ہو گا
کراچی میں گزشتہ 5 سالوں سے شورش‘ بدامنی اور خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، حکومت اس جنگ کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔ بوڑھے وزیر اعلیٰ نیند سے بیدار ہوں گے تو انہیں کچھ پتہ چلے کہ خون کس قدر بہہ چکا ہے۔
نہ جانے کراچی کے عوام کو ووٹ دینے کی سزا دی جا رہی ہے یا پھر خانہ جنگی شروع کروا کر مخالفین کا صفایا کرانے کا پلان بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز لیاری سارا دن میدانِ جنگ بنا رہا لیکن سندھ حکومت نہ جانے رحمن ملک کی طرح اسے گرل فرینڈ کی لڑائی سمجھ کر آنکھیں بند کئے بیٹھی یا پھر لیاری والوں کو جان بوجھ کر سزا دی جا رہی ہے۔ 10 افراد لقمہ¿ اجل بنے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ کی پیشانی پر ندامت کی ایک رمق بھی نہیں دیکھی گئی۔ ایم کیو ایم خاموش ہوئی ہے تو لیاری میں چودھراہٹ کی آگ لگی گئی ہے۔ وزیراعظم کو کراچی میں امن قائم رکھنے کیلئے کام کرنا چاہئے۔
پیپلز پارٹی والے کہیں طالبان کے ایجنڈے پر کام تو نہیں کر رہے کیونکہ وہ بھی امن نہیں چاہتے اور پی پی والوں نے بھی پانچ سالوں میں امن قائم نہیں ہونے دیا۔ لگتا ہے دال میں کالا کالا ضرور ہے ورنہ 2 کروڑ کی آبادی میں امن قائم نہ ہو، یہ کہاں کی حکومت ہے؟ زرادری صاحب کراچی کے عوام کا امتحان مت لیں اپنی حکومت کو امن قائم کرنے پر لگا لیں ورنہ دو کروڑ افراد میں سے 50 لاکھ بھی سڑکوں پر آ گئے تو گڑھی خدا بخش بچے گا نہ ہی تماشہ دیکھنے والی یہ آنکھیں سلامت رہیں گی لہٰذا کڑوی گولی نگل کر سخت فیصلے کریں۔ دودھیا بُھٹّوںکی طرح عوام کو بھون بھون کر کھانے کا سلسلہ ترک کر دیں ورنہ انہیں انگیٹھیوں کے جلتے کوئلوں کو اپنے خون سے بُجھانا پڑیگا۔ پیپلزپارٹی اس وقت سے ڈرے جب ممتاز بھٹو کو حالات ٹھیک کرنے کیلئے گورنر سندھ لگایا جائے۔
٭....٭....٭....٭....٭
کرپشن کیس میں مشتاق اعوان کو 7 سال قید، کمرہ عدالت سے گرفتار !
37 کروڑ پر 7 سال جیل چلے گئے۔ جناب اب تو اربوں کھربوں کی باتیں کریں۔ 37 کروڑ تو سمندر سے ایک قطرہ پانی چُرانے کے مترادف ہے۔ 1996ءکی کرپشن پر مشتاق اعوان کو قانون نے پکڑ لیا۔ پرانی بات ہے رات گئی بات گئی، اب نئے کھلاڑی میدان میں آ چکے ہیں جو 37 کروڑ کی یکمشت خریداری کر لیتے ہیں۔ بےچارے مشتاق اعوان کی قسمت ہی ماڑی نکلی ہے، لگتا ہے پرانی شراب کی طرح پرانی کرپشن میں بھی مزا ہے اسی لئے کرپشن کے گڑے مُردے کو اکھاڑ لیا ہے۔
ہمارے ہاں کرپشن دو قسم کی بن چکی ہے، ایک ٹھنڈی جبکہ دوسری گرم۔ مشتاق اعوان کی لوٹ مار تو اب ٹھنڈی ہو چکی تھی جبکہ گیلانی، راجہ رینٹل اور ان کے اصحاب کی کرپشن گرم ہے۔ گیلانی صاحب تو چوری اُتوں سینہ زوری کے تحت عدالت اور ایف آئی اے کو دھاڑ رہے ہیں جبکہ راجہ رینٹل مغلوب بلی کی طرح ”غُرا“ کر ڈرانے پر لگے ہوئے ہیں۔
ایک آدمی جنگل سے گزر رہا تھا کہ سامنے سے چیتا آیا چیتے نے کہا ”میں تمہارا خون پی جاﺅں گا“ آدمی بولا، میری عمر خون گرم والی ہے آپ پہلے ٹھنڈا خون پئیں۔ چیتا بولا نہیں جناب آج ”کولڈ ڈرنک“ نہیں بلکہ ”کافی“ پینے کو دل چاہ رہا ہے۔ کاش کوئی قانون کا رکھوالا ”کافی“ پینے کی غرض سے ان بڑے اور گرم مگر مچھوں کا خون پینے کیلئے آگے بڑھے، ہمت کر کے عصائے موسوی پھینکنے کی دیر ہے ان سارے تماش بینوں کو قانون خود بخود نگل لے گا۔ کرپشن کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ”باتونی“ بھی ہو چکے ہیں۔
مرغی انڈے دینے کے بعد ”کُڑ کُڑ“ کرتی ہے تاکہ مالک اسے محفوظ کر لے۔ یہ لوگ کرپشن کرنے کے بعد ”کُڑکُڑ“ کر رہے ہیں لیکن مالک بیدار ہی نہیں ہو رہا، کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک کا کوئی محافظ نہیں، یہ چور ڈاکو اکٹھے ہوئے ہیں۔ مشتاق اعوان کی طرح بڑے ”چوروں“ کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنا چاہئے کیونکہ وہ تو ”کھسیانی بلی کھمبہ نوچے“ کے مصداق بنے بیٹھے ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
سول سیکرٹریٹ الیکشن میں فرینڈز گروپ نے شاہین گروپ کو ہرا دیا۔
فرینڈز گروپ کا انتخابی نشان پھول تھا جس نے اپنی خوشبو سے پورے سیکرٹریٹ کو معطر کر کے باز کی آنکھیں ”چُنی“ کر دی ہیں۔ فرینڈز گروپ نے 25 سال قبل جو پھول لگایا تھا آج اسکی خوشبو سے پورا گروپ دوبالا ہو گیا ہے۔ ایک لمبی لیڈ سے شاہین گروپ کو مات دی گئی ہے۔ فرینڈز کو 1452 جبکہ شاہین کے پلے صرف 626 ووٹ پڑے۔ سیکرٹریٹ کے گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کے ملازمین نے الیکشن میں حصہ لیکر اپنے حقوق کی آواز ایوان بالا تک پہنچانے کیلئے فرینڈز کو کامیاب کروایا ہے۔ فرینڈز گروپ کی 1999ءمیں کواٹر نمبر 1 چوبرجی میں بنیاد رکھی گئی اس کے بانیوں میں اشتیاق کمبوہ، چوہدری غلام غوث، راجہ سہیل ہیں اس گروپ نے تب سے یہ انتخابی نشان پھول چُن رکھا تھا۔ 25 برس پہلے لگائے ہوئے پھول کی خوشبو گزشتہ رات سیکرٹریٹ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پھول کی پتیاں خشک ہوئیں لیکن فرینڈز گروپ اپنے خونِ جگر سے اس پھول کی آبیاری کرتا رہا، بالآخر اس کی خوشبو سے جگمگ جگمگ ہو رہی ہے۔ اس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اشتیاق کمبوہ انتہائی سلجھے ہوئے آدمی ہیں دو مرتبہ اس گروپ کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور شبانہ روز محنت سے گروپ کو کامیابی دلوائی ہے اگر اس فرینڈز گروپ کی طرح ہماری سیاسی جماعتیں قابل افراد کو آگے لائیں اپنے منشور کے مطابق وعدے پورے کریں تو اس پھول کی طرح پورا پاکستان پھول بن سکتا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭