وزیر اعظم دورہ چین ....ایک جائزہ

07 جولائی 2013

وزیر اعظم نواز شریف اپنا پہلا غیر ملکی دورہ مکمل کر چکے ہیں۔ اس دورے سے انہوں نے پاکستان کیلئے کیا حاصل کیا ، اس کا جائزہ تجزیہ نگاروں کیلئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔نواز شریف کے حالیہ دورہ چین کا اہم پہلو یہ ہے کہ بہت عرصے بعد اس بار محض لفاظی کی بجائے عملاً معاملات طے پائے ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت کو بڑھانے کیلئے آٹھ معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان تمام معاہدوں کا مقصد پاکستان میں ایک ایسی اقتصادی راہداری قائم کرنا ہے جس سے دونوں ملکوںچین اور پاکستان کو دنیا بھر سے مشترکہ تجارت کو فروغ دینے میں بڑی مدد ملے گی۔ان معاہدوں پر عمل در آمد سے پا کستان کو اقتصادی اعتبار سے قلیل المدت اور طویل المدت فوائد حاصل ہوں گے۔ کاشغر سے گواردر تک قائم کی جانیوالی اقتصادی راہداری 18ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہو گی ۔ یہ اقتصادی راہداری ایک تجارتی انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راہداری کو کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کی سپورٹ دینے کے لیے 44ارب ڈالر سے کاشغر سے اسلام آباد تک آپٹیکل فائبر سسٹم بھی بچھایا جائیگا۔ کاشغر سے گوادرمختلف جگہوں پر 200کلومیٹر لمبی پہاڑی سرنگیں بھی تعمیر کی جائیں گی۔ اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ پاکستان کیلئے ایک معاشی دھماکے سے کم نہ ہو گا۔ یہ اقتصادی راہدای پا کستان اور چین کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چین کو وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کو گرم پانی تک رسائی کا موقعہ فراہم کریں گی۔ اس راستے پر ہونے والی تجارت سے پاکستان کو راہداری کی مد میں اربوں ڈالر سالانہ کی آمدنی حاصل ہو گی۔
ایک معاہدے کے تحت چین گوادر پورٹ کو فنکشنل کرنے کیساتھ ساتھ لنک روڈ کی تعمیر اور گوادر ائیر پورٹ تک رسائی کیلئے سڑکوں کا ایک نیٹ ورک بھی بنائے گا۔ چین کے وزیر اعظم لی چیانگ نے وزیرا عظم محمد نواز شریف کے کہنے پر پاکستان کو Sovereign Guaranteeسے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے اس طرح ان ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی چھوٹ مل جائیگی۔چین نے پاکستان میں زیر زمین میٹرو سسٹم اور بلٹ ٹرین کے منصوبوں پر بھی کام کرنے میں رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اسکے علاوہ لاہور سے کراچی تک موٹر وے کی تعمیر کے معاملات بھی طے پا گئے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے چین میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ ہماری حکومت کے اوائل ایام میں چین کے ساتھ اتنے بڑے معاہدوں پر دستخط ہو گئے ہیں۔
چینی وزیر اعظم نے ان منصوبوں پر عمل در آمد کی رفتار کو تیز کرنے اور فالو اپ کیلئے پاکستان چین اقتصادی ٹاسک فورس کے سربراہ کو پاکستان بھیجوانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی پاکستان کی جانب سے قابل عمل منصوبے تیار کرنے میں بڑا کام کیا ہے اسی بناءپر چین کے حالیہ دورے میں چینی وزیر اعظم نے انہیں اس دورے کا ہیرو قرار دیا ہے۔ چین پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مدد دے رہا ہے اس سلسلے میں ہائیڈل پاور کیلئے منصوبے چین کے تعاون سے شروع کئے جائینگے۔ پاکستان اور چین کا بندھن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 1950میں ہوا۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا، دونوں ممالک کے درمیان فوجی امور میں معاونت کا آغاز 1966 اور سٹریٹیجک اتحاد1972سے قائم ہے۔ اقتصادی تعاون کا عمل 1979 سے شروع ہوا۔اس وقت پاکستان چین کا تیسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ سول نیوکلیئر پاور کے حصول میں بھی چین پاکستان سے تعاون کر رہا ہے۔ افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے دوران بھی چین نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ چین نے کشمیر کے حوالے سے بھی ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔اسی طرح پا کستان نے بھی سنکیانگ، تبت اور تائیوان کے معاملات پر ہمیشہ چینی موقف کی تائید کی ہے۔ مسلمان ممالک سے تعلقات استوار کرنے میں بھی پاکستان نے چین کیلئے راہ ہموار کی۔ چین کو مغرب تک رسائی اور مغربی ممالک کے تعلقات چین سے بہتر بنانے میں بھی پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورہ چین کیلئے پاکستان نے جس طرح مہم جوئی کی وہ دنیائے سفارت کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ دنیا بھر میں چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات ایک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور چین میں خواہ حکومت کسی کی بھی ہو یا عالمی حالات کوئی بھی رخ اختیار کریں پاک چین دوستی ہمیشہ ہری بھری اور خوشگوار رہی ہے۔ دونوں ممالک کی تاریخ ،ثقافت، مذہب، زبان اور بودوباش مختلف ہونے کے باوجود دنوں ممالک کے عوام اور حکومتوں نے جس قربت، محبت اور تعاون کا اظہار کیا ہے اسکے مثال دنیا کے دوسرے ممالک کے درمیان نہیں ملتی۔وزیر اعظم نواز شریف کے اس دورے نے دونوں ممالک کے درمیان قائم اعتماد اور دوستی کو نئی جلا بخشی ہے۔ اس دورے سے حاصل ہونے والے نتائج کی بناءپر اعتماد سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا یہ دورہ متعینہ مقاصل حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چین کا یہ دورہ بھی نواز حکومت کی ساکھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی روک تھام میں کس طرح کامیابی حاصل کرتی ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کیلئے پر امن فضا کا ہونا شرط اول ہے۔