سیٹھی صاحب کرکٹ کو نااہل لوگوں سے چھٹکارہ دلائیں

07 جولائی 2013

 مکرمی! پاکستان کرکٹ بوڑد کے میڈیا مینجرکوپی سی بی میں ایوان صدر کا تحفہ سمجھا جاتا ہے۔ انکی قابلیت کا معیار یہ تھا کہ وہ اس سے قبل فرح ناز اصفہانی بیگم حسین حقانی کے ذاتی ملازم تھے۔ وہ اتنی بڑی سفارش کے ذریعہ آ ئے اس لئے پی سی بی جیسے ادارے کے وقار کو وہ کبھی خاطر میں نہیں لائے، اپنے پیشہ ورانہ کام کو کبھی اولیت نہیں دی۔انکی کرکٹ کے معاملات پر دسترس کا اندازہ سیٹھی صاحب بیپرسن کر یا موصوف کے ہاتھ کی لکھی یا کسی سے لکھوائی ہوئی وضاحتیں اور تردیدیں پڑھ لگا سکتے ہیں۔ اگر کوئی کرکٹ کی کتاب پی سی بی کے ساتھ ملکر چھپوانا چاہیے تو جی ایم صاحب نے اسکی بھی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ان مخصوص صحافیوں کی بھی نجم سیٹھی کو فہرست ضرور دیکھنی چاہیے جو ان کے دور میں بیرون ملک پی سی بی کے ڈالروں پر جاتے رہے ہیں۔ ایک صحافی کو نو دورے کرائے گئے۔ اگر کسی کرکٹ بورڈ کا میڈیا مینجر ٹیم کے ہمراہ غیر ملکی دورے پر خود جاتا ہے تو وہ بیرون ملک صحافیوں سے بھرپور رابطہ رکھتا ہے۔ حال ہی انگلینڈ میں موصوف کا رویہ اور بھی تکلیف دہ تھا وہ صرف دو تین مخصوص صحافیوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔پی سی بی میں رجسٹرڈ تمام صحافیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔اگر سیٹھی صاحب چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو پی سی بی کے ایک اچھے منتظم کے طور پر یاد رکھیں تو پھر پاکستان کرکٹ کو نااہل لوگوں سے چھٹکارہ دلائیں۔ (محمد ادریس صدر پاکستان کرکٹ کمنٹیٹر ایسوسی ایشن لاہور)